News Ticker

Latest Posts

Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat 14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan

- Friday, 15 March 2019 No Comments

Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat
14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan


Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat 14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan





پیری مُریدی کی شَرعی حیثیت

سُوال :بیعت لینا اور بیعت کرنا کیسا ہے ؟نیز پیری مُریدی کی شرعی حیثیت بھی بیان
 فرما دیجیے۔  

جواب :بیعت کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ  کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے  نیک اَعمال کا اِرادہ  کرنے اور اسے اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے  ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-                                                ترجمۂ کنزالایمان:جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح(نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے  شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے  اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح(نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔اس آیت میں  تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔([2])  

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ(پسندیدہ سنَّت)ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ  ولیُّ اﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور  رَبُّ العزّت عَزَّ  وَجَلَّ  فرماتاہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پ۲۶،الفتح :۱۰)

 ترجَمۂ کنزالایمان:وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو  اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔

اور فرماتا ہے:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ۲۶،الفتح :۱۸)

ترجَمۂ کنزالایمان:بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

اور بیعت کو خاص بجہاد سمجھنا جہالت ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ

ترجَمۂ کنز الایمان:اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللّٰہ  کا  شریک کچھ نہ    

وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ۲۸،الممتحنة :۱۲)

ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی  تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔([3])

احادیثِ مُبارَکہ میں بیعت کا ذِکر
سُوال :کیا  احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا  ذِکر آیا ہے؟

جواب: جی ہاں ! احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا ذِکر آیا ہے اور یہ بیعت مختلف چیزوں مثلاًکبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت(یعنی گناہ کے علاوہ)والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ  پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دِیگر کاموں پر بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت ہونا ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے۔([4])

حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم  اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ  تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پورا  کیا اس کا اَجر اللہ عَزَّ   وَجَلَّ پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّنے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے  عذاب دے۔([5])

حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تفسیرِ کبیر میں نقل فرماتے ہیں:جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں لَیْلَۃُ الْعُقْبَہ کو 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! آپ اپنے ربّ عَزَّ    وَجَلَّ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو شرط چاہیں مَنوا لیں۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تیرے ربّ عَزَّ   وَجَلَّ کے لیے یہ شرط ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے سا تھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو جن چیزوں سے باز رکھتے ہو ان سے مجھ کو بھی باز رکھنا (یعنی جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرنا)تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا صِلہ ملے گا؟ تو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’جنّت۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یہ تو نفع مند بیعت ہے،ہم اس بیعت کو نہ  توڑیں گے اور نہ ہی  توڑنے کا مُطالبہ کریں گے،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ  نازِل ہوئی،اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اِرشاد فرماتا ہے: (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-)(پ۱۱،التوبة:۱۱۱) ترجَمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنّت ہے ۔([6])

بیعت ہونے کے فَوائد و بَرکات
سُوال :بیعت ہونے  سے کیا کیا فَوائد و برکات  حاصل  ہوتے  ہیں؟

جواب :کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت  حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار  ہوتا ہے۔ پیرِکامل  کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر  فرماتے ہیں:عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“(یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس)سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا دےگا۔اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“(یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے  گا۔([7])

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کی

بارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟“ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا:مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اِتصالِ مسلسل۔ (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ )(پ۱،الفاتحہ :۶) ترجمۂ کنزالایمان:”راستہ ان کا جن پر تو نے اِحسان کیا۔“میں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تک فرمایا گیا: مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔([8]) صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔([9])  


بیعت ہونے کے فَوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ  پیرانِ عظام یا اِن سلسلوں کے اَکابرین وبانیان اپنے مُریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: بے شک سب اَئمہ و اولیا و عُلَمائے ربانیین(و مشائخِ  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام)اپنے پَیروکاروں اور مُریدوں کی شفاعت کرتے ہیں،جب ان کے مُرید کی روح نکلتی ہے ،جب منکر نکیر اس  سے قبر میں سُوال کرتے ہیں،جب حشر میں اس کا نامۂ اعمال کھلتا ہے،جب اس سے حساب لیا جاتا ہے،جب اس کے اَعمال تولے جاتے ہیں اورجب وہ پل صِراط پر چلتا ہے تو ان تمام مَراحِل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے  غافل نہیں ہوتے۔([10])

ہے عصیاں کے بیمار کا دَم لبوں پر

خدارا لو جلدی خبر غوثِ اعظم

تمہیں میرے حالات کی سب خبر ہے

پریشاں ہوں میں کس قدر غوثِ اعظم (وسائلِ بخشش)

پیرِکامل کی بَرکت سے اِیمان سلامت رہا
سُوال : نزع کے وقت پیرِ کامل کا اپنے مُرید کی مدد کرنے کا کوئی واقعہ ہو تو برائے کرم  

بیان فرما دیجیے۔  

جواب :جب نزع کا وقت ہوتا ہے تو اس مشکل ترین  وقت میں شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے جو اسے دینِ اسلام سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر اِنسان کسی پیرِ کامل کا مُرید ہو تو  شیطان کے ان  حیلوں کو  ناکام بناتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اور پیرِ کامل کی بَرکت سے اپنا اِیمان سلامت لے کر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  561 صفحات پر مشتمل کتاب”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ493 پر ہے:”امام فخرُالدِّین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نزع کا جب وقت آیا ،شیطان آیا کہ اس وقت شیطان پوری جان توڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (مرنے والے کا) کا اِیمان سلب ہوجائے (یعنی چھین لیا جائے)، اگر اس وقت پھرگیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا۔ اُس نے اِن سے پوچھا کہ تم نے عمر بھر مُناظروں مُباحثوں میں گزاری ،خدا کو بھی پہچانا؟ آپ نے فرمایا :بیشک خدا ایک ہے۔اس نے کہا:اس پر کیا دَلیل؟آپ نے ایک دلیل قائم فرمائی، وہ خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا اُستاد)رہ چکا ہے اس نے وہ دلیل توڑ دی۔ اُنہوں نے دوسری دلیل قائم کی اُس نے وہ بھی توڑ دی۔ یہاں تک کہ ۳۶۰

دلیلیں حضرت نے قائم کیں اور اس نے سب توڑ دیں۔ اب یہ سخت پریشا نی میں اور نہایت مایوس۔ آپ کے پیر حضرت نجمُ الدین کبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں دُور دَراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے، وہاں سے آپ نے آواز د ی” کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خُدا کو بے دلیل ایک مانا ۔“اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ کسی مُرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیناچاہیے کہ ان کی باطنی توجہ وَسوسۂ شیطانی کو بھی دفع کرتی ہے اور اِیمان کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط ذَریعہ ہے۔

دَمِ نَزع شیطاں نہ اِیمان لے لے           حِفاظت کی فرما دُعا غوثِ اعظم

مُریدین کی موت توبہ پہ ہو گی      ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم

مِری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد!    ہوں میں بھی مُرید آپ کا غوثِ اعظم

کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً       نہ ہو گا بُرا خاتِمہ غوثِ اعظم

مُرید ہونے کا مقصد
سُوال :مُرید ہونے کا اصل مقصد بھی اِرشاد فرما د یجیے۔

جواب :مُرید ہونے کا اصل مقصد  یہ ہے کہ اِنسان  مُرشدِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنَّت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہِ باطن ومعرِفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے

  کیونکہ  یہ  راستہ اِنتہائی کٹھن اور  باریک ہے جسے  بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہٰذا اس راستے کو کامیابی وکامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے اِنسان کو مُرشدِ کامل کی ضَرورت ہوتی ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:مُرید کو کسی مُرشِد و اُستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دِین کا راستہ  اِنتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں  شیطانی  راستے بکثرت اور نمایاں ہیں تو جس کا کوئی مُرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔ جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتا ہے وہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتا ہے جیسے خود بخود  اُگنے والا پودا جلد ہی سُوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہو گا۔ مُرید پر ضَروری ہے کہ وہ مُرشِد کا دَامن اس طرح تھام لے جس طرح اَندھا نہر کے کنارے اپنی جان نہر پار کرانے والے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی اِتباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی اسے چھوڑتا ہے۔ ([11])

میٹھے میٹھےا سلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مُرید ہونے میں دِینی و اُخروی فوائد

 پیشِ نظر ہونے چاہئیں مگر بدقسمتی سے فی زمانہ بیشتر لوگوں نے ’’پیری مُریدی‘‘ جیسے اَہم منصب کو بھی محض  حُصولِ دُنیا  کا ذَریعہ بنا رکھا ہے۔ لوگ  پیرِ کامل کا  مِعیار یہ سمجھتے ہیں کہ پیر تعویذات یا عملیات میں ماہر ہو جو  ہر دُنیوی مشکل حل کر دیا کرے، اگرچہ پیرِکامل کی بَرکت سے بہت سارے دُنیوی مَسائل بھی حل ہوتے ہیں تاہم اسی چیز کو پیرِ کامل کا مِعیار سمجھ لینا اور جہاں کوئی مسئلہ حل نہ ہوا وہاں پیر صاحب کے کامِل ہونے میں شکوک  و شبہات میں پڑ جانا  سَرا سر جہالت و حماقت ہے لہٰذا مُرید ہوتے وقت  مُرشِدِ کامِل کی حقیقی  پہچان اور مُرید ہونے کے مَقاصد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے ۔

ازپئے غوثُ الوریٰ یامصطَفٰے

میرے اِیماں کی حِفاظت کیجئے

از طفیلِ مُرشِدی دِل سے مِرے

دُور دُنیا کی مَحبَّت کیجئے           (وسائلِ بخشش)



Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore

- Sunday, 10 March 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats Latest
Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore


Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore




خواتین کی بحر علم سے سیرابی

دَورِ جَاھِلیَّت میں عربوں پر چھائے جَہَالَت وگمراہی کے اندھیرے میں خال خال (بَہُت کم)ہی نُورِ عِلْم سے مُنَوَّر کوئی شخص نَظَر آتا۔ اِسلام نے عربوں کو جہاں دیگر مُتَمَدِّن قوموں کی طرح تہذیب و تَمَدُّن سے رُوشناس کرایا وہیں انہیں زیورِ عِلْم سے بھی آراستہ کیا جس کے لیے مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت سے اَقدامات کئے۔ ان ہی میں سے ایک سلسلۂ دَرْس و بیان بھی تھا۔اس کی بدولت مَرد حضرات تو عِلْم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے سیراب ہونے لگے مگر ہَنُوز (ابھی تک) خواتین کی تِشْنَگی کا الگ سے کوئی مَعْقُول و مُنَاسِب اِنْتِظام نہ ہو سکا۔ بلکہ وہ اپنی عِلْمی پیاس بجھانے کیلئے خاص خاص مَوَاقِع مثلاً عِیْدَیْن وغیرہ میں حاضِری کی مُنْتَظِر رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی تِشْنَگی روز بروز بڑھتی گئی اور ان کے دِلوں میں یہ خواہش شدید اَنگڑائیاں لینے لگی کہ ان کے لیے بھی ایسی مَحَافِل مُنْعَقِد ہونی چاہئیں جن میں صِرف اور صِرف اِنہی کی تعلیم و تَربِیَت کا اِہتِمام ہو۔ اس آرزو کا اِظْہَار اس وَقْت سامنے آیا جب ایک صحابیہ [5] نے خِدْمَتِ اَقْدَس میں حاضِر ہو کر باقاعدہ عَرْض کی کہ ان کے لیے بھی کچھ وَقْت خاص ہونا چاہئے جس میں وہ دین کی باتیں سیکھ سکیں۔ چُنَانْچِہ بقولِ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان اس صحابیہ نے عَرْض کی:(اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!)مَردوں نے آپ کا فَیضِ صُحْبَت بَہُت حاصِل کیا، ہر وَقْت آپ کی اَحادِیْثِ (مُبارَکہ) سنتے رہتے ہیں،ہم کو حُضُور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خِدْمَت میں حاضِری کا اتنا مَوْقَع نہیں ملتا،مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دِن ہم کو بھی عَطا فرمائیں کہ اس میں صِرف ہم کو وَعْظ و نصیحت فرمایا کریں۔[6] اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو سکھایا ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مَخْصُوص جگہ پر مَخْصُوص دن جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرمایا۔[7]

خواتین میں علم کی محبت کیسے پیدا ہوئی؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس رِوایَت میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی دین سیکھنے سکھانے کے بارے میں کڑھن ان کی عِلْمِ دین سے مَحبَّت کا منہ بولتا ثُبُوت ہے۔

آخِر ان میں یہ شُعُور کیسے پیدا ہوا ؟ اگر غور کریں تو مَعْلُوم ہو گا کہ یہ سب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہی نَظَرِ شَفْقَت کا نتیجہ تھا، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کا بخوبی اِدْرَاک تھا کہ عورت پر پوری نسل کی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِنْحِصَار ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواتین کو مُعَاشَرے میں جہاں بـحَیْثِـیَّت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عَظَمَت بخشی اور ان کے حُقُوق مُقَرَّر کیے وہیں ان کیلئے بہترین تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا تا کہ یہ اپنی ذِمَّہ داریوں سے کَمَا حَقُّہٗ عُہْدَہ بَرآ ہوں اور ان کی گود میں ایک صِحَّت مند نسل تیّار ہو کہ بلاشبہ ماں کی گود بچے کی اَوَّلِین درسگاہ ہے۔ حالانکہ قَبْل از اِسْلَام عورت کیا حَیْثِـیَّت رکھتی تھی، اس کی چند جھلکیاں مُلَاحَظہ فرمائیے:

عورت کی زبوں حالی
اِسْلَام سے قَبْل عورت ظُلْم و سِتَم کا شِکار تھی،اس کی کسی حَیْثِـیَّت کا کوئی لِـحَاظ نہ تھا، ماں ہو یا بیٹی، بہن ہو یا بیوی سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا۔ اس کی وَقْعَت اس کھلونے کی تھی جو مَردوں کی تسکینِ جان کا باعِث تھا، عربوں کے ہاں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو برصغیر میں ہندوؤں کے ہاں بیوہ کو مَرد کی چِتا (لکڑیوں کا وہ ڈھیر جس پر ہِندو مُردے کو جلاتے ہیں)میں زندہ ڈال دیا جاتا۔دیگر اَقوامِ عالَم میں بھی اسے پاؤں کی جوتی سے زیادہ اَہَمِیَّت حاصِل نہ تھی۔ بلکہ بعض اَوقات تو بطورِ مال مویشی اس کی خرید و فَرَوخْت کو بھی عیب نہ جانا جاتا، نان نفقہ کے عِوَض اس سے غلاموں جیسا سُلُوک کیا جاتا۔ یہ صِنْفِ نازُک تھی تو مَرد کی طرح ذی شُعُور مگر اسکے ساتھ برتاؤ انتہائی نازیبا ہوتا،اسے تمام فَسادات کی جَڑ اور اِنسان کی بدبختیوں کا سَر چشمہ گردانا جاتا۔ چوٹی کے نَامْوَر فلسفی اس کے اِنسان ہونے کو ہی مشکوک جانتے۔ ہزاروں برس سے ظُلْم و سِتَم کی ماری یہ دُکھیاری عورت ذات اپنی بے کسی و لاچاری پر روتی و بلبلاتی اور آنسو بہاتی رہی مگر اسے اپنے زخموں پر مَرْہَم رکھنے اور ظُلْم و اِسْتِبْدَاد کے پنجے سے نجات دِلانے والا کوئی مسیحا کہیں نہ ملا۔

اسلام میں عورت کامقام
آخِر کار جب رسولِ رَحْمَت،شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا کی طرف سے دِیْنِ اِسْلَام لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قِسْمَت کا سِتارہ چمک اُٹھا اور اِسْلَام کی بَدَوْلَت ظُلْم و سِتَم کا شِکار عورتوں کا دَرَجَہ اس قَدْر بُلَند و بالا ہوا کہ عِبادات و مُعَامَلات بلکہ زِنْدَگی اور موت کے ہر مَرْحَلَے اور ہر موڑ پر عورتوں کے بھی حُقُوق مُقَرَّر کر دئیے گئے۔چُنَانْچِہ پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَردوں کی طرح ان کے مَعَاشِی و مُعَاشَرْتی حُقُوق مُقَرَّر ہوئے تو وہ مالی حُقُوق حاصِل ہونے پر اپنے مہر کی رقم اور جائداد کی مالِک بنا دی گئیں، اَلْغَرَضْ وہ عورتیں جو مَردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مَردوں کے دِلوں کا سُکُون اور ان کے گھروں کی مالِکہ بن گئیں۔ عورتوں کو دَرَجات و مَرَاتِب کی اتنی بُلَند مَنْزِلُوں پر پہنچا دینا یہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ اِحْسَانِ عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زِنْدَگی کی آخِری سانس تک اس اِحْسَان کا شکریہ اَدا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عَظِیمُ الشَّان اِحْسَان کی شکر گزاری کے فَرْض سے سبک دوش نہیں ہو سکتیں۔[8]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اسلام میں علم کی اہمیت
اِسْلَام دنیا كا وہ واحِد دین ہے جس کو یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کیلئے عِلْم حاصِل کرنا فَرْض قرار دیا،یہی وجہ ہے کہ کائناتِ عالَم کے سب سے پہلے اِنسان حضرت سَیِّدُنا آدَم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اَوّلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عِلْم کی بدولت ہی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔چُنَانْچِہ اِرشَاد ہوتاہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (پ۱، البقرة:۳۱)       ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اَشیا کے نام سکھائے۔

اسی طرح سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غارِ حرا میں سب سے پہلی نازِل ہونے والی وَحِی بھی عِلْم کی اَہَمِیَّت کا بَیِّن ثُبُوت ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳)الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴)عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵) (پ۳۰، العلق:۱ تا۵)

ترجمۂ کنز الایمان:پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،جس نے قلم سے لکھنا سکھایا،آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ان آیَاتِ مُبارَکہ میں جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب اور خالِق ہونے کا ذِکْر ہے وہیں عُلُوم کی بعض اَہَم شاخوں یعنی عمرانیات،تخلیقات، حَیاتیات اور عِلْمِ اَخلاقیات کی طرف بھی اِشارہ ہے۔اَلْغَرَضْ ان آیاتِ کریمہ کے ہر ہر لَـفْظ سے عِلْم کی اَہَمِیَّت اُجاگَر ہو رہی ہے، نیز ان آیاتِ مُبارَکہ میں جہاں دو۲ بار عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم ہے وہیں اس اِحْسَان کا اِظْہَار بھی ہے کہ یہ اسی کا کَرَم ہے کہ اس نے انسان کو عِلْم عَطا فرمایا اور لکھنا بھی سکھایا۔نیز عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم دینے کے علاوہ قرآن نے کئی مَقامات پر عِلْم و اَہْلِ عِلْم کی عَظَمَت و فضیلت اور جَہَالَت کی سَخْت مَذمَّت بیان فرمائی۔ جیسا کہ ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:

هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- (پ۲۳، الزمر:۹)    ترجمۂ کنز الایمان:کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔

عُلَمائے کرام اَنۢبِیَائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وَارِث ہوتے ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:بے شک عُلَما ہی اَنۢبِیَا کے وَارِث ہیں، اَنۢبِیَاعَلَیْہِمُ السَّلَام  دِرْہَم ودینار کا وارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ عَلَیْہِمُ السَّلَام  تو صِرف عِلْم کا وارِث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصِل کرلیا اس نے بڑا حِصّہ پالیا۔[9]جبکہ عُلَما کے عِلْمِ نبوَّت کے وَارِث ہونے کی وَضَاحَت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی ہے:

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا                   ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہم نے کِتاب کا وارِث کیا

مِنْ عِبَادِنَاۚ-(پ۲۲، فاطر:۳۲)          اپنے چُنے ہوئے بندوں کو۔

ان آیاتِ کریمہ کی تشریح میں عِلْم کی اَہَمِیَّت کے اِظْہَار اور ایک مسلمان کو سچا اور پختہ مسلمان بنانے کے لئے رسولِ پاک عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔[10] عِلْم حاصِل کرنا ہر مسلمان (مَرد اور عورت) پر فَرْضِ عین ہے۔ ایک بار اِرشَاد فرمایا: اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ۔[11] عِلْم حاصِل کرو چاہے چین سے ہو۔جبکہ ایک قول میں ہے:اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلَی اللَّحْدِ[12] عِلْم حاصِل کرو پیدائش سے لے کر قَبْر میں جانے تک۔

تعلیم نسواں کیوں ضروری ہے؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم یا مِلّت کو اس کی آئندہ نسلوں کی مذہبی و ثقافتی تَرْبِیَت کرنے اور اسے ایک مَخْصُوص قومی و مِلّی تَہْذِیب و تَمَدُّن اور کلچر (Culture)سے بہرہ وَر کرنے میں اس قوم کی خواتین نے ہمیشہ بُنْیَادِی و اَساسی کِردار ادا کیا ہے۔کیونکہ ایک عورت ہر مُعَاشَرے میں بَطَورِ ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے زِنْدَگی گزارتی ہے اور اپنی ذات سے وَابَسْتہ اَفراد پر کسی نہ کسی طرح ضَرور اَثَر انداز ہوتی ہے،[13]لِہٰذا اِسْلَام نے عورتوں کی اس بُنْیَادِی اَہَمِیَّت کے پیشِ نَظَر اس کی ہر حَیْثِـیَّت کے


 مُطابِق اس کے حُقُوق و فَرَائِض کا نہ صِرف تَعَیُّن کیا بلکہ اسے مُعَاشَرے کا ایک اَہَم اور مُفِید فرد بنانے کے لیے اس کی تعلیم و تَرْبِیَت پر بھی خُصُوصِی تَوَجُّہ دی۔ جیسا کہ ذیل میں مَوجُود فرامینِ مصطفےٰ سے ظاہِر ہے۔

علم سیکھو کے آٹھ حروف کی نسبت سے اسلامی بہنوں کی تعلیم و تربیت پر مبنی (8)فرامینِ مصطفٰے
مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْلَامی بہنوں کی تعلیم وتَرْبِیَت کے حوالے سے جو مُـخْتَلِف مَوَاقِع پر فرامین اِرشَاد فرمائے، ان میں سے آٹھ۸ پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1 )…عورتوں کو چرخہ کاتنا سکھاؤ اور انہیں سورۂ نُور کی تعلیم دو۔ [14]

(2 )…عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا: جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔[15]

(3 )…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا (کا حِصّہ) ہیں۔[16]

(4 )…باندیوں کے لیے اچھّی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام کر کے انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے والوں کو دوہرے ثواب کا مُژْدَہ سنایا۔[17] اس رِوایَت کی شَرْح میں حضرت علّامہ مولانا بَدْرُ الدِّین عینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی تحریر فرماتے ہیں: اچھّی تَرْبِیَت کرنے اور عِلْمِ دین سکھانے کا حُکْم صِرف باندی کے لیے خاص نہیں بلکہ اس حُکْم میں سب شامِل ہیں۔[18]

(5 )… سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدَتُنا شِفا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایاکہ وہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نملہ (چیونٹی) کا دم کیوں نہیں سکھاتی جیسے انہیں لکھنا سکھایا ہے۔[19] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن لفظِ نملہ کے معنیٰ کی وَضَاحَت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:نملہ باریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بَہُت سَخْت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جِسْم پر چیونٹیاں رینگتی مَحْسُوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔بعض کا خَیال ہے کہ اس کا نام موتی جھرہ ہے مگر یہ دُرُسْت نہیں کہ موتی جھرہ تمام جِسْم پر ہوتا ہے حضرت شِفا (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا)مکہ معظمہ میں اس مرض کا بہترین دَم کرتی تھیں آپ وہاں اس دَم کی وجہ سے مَشْہُور تھیں۔ [20]

(6 )…اپنی اولادکو تین۳ باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبی کی مَحبَّت (۲) اَہْلِ بیْت کی مَحبَّت اور (۳) قرأتِ قرآن۔ [21]

(7 )…اپنی اولاد کے ساتھ نیک سُلُوک کرو اور انہیں آدابِ زِنْدَگی سکھاؤ۔[22]

(8 )…جس نے تین۳ بچیوں کی پروش کی، انہیں اَدَب سکھایا، ان کی شادی کی اور اَچھّا سُلُوک کیا اس کے لیے جنّت ہے۔ [23]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عَمَلی عِلْمی اَقدامات
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابیات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے عملی طور پر بھی ان کی تعلیم و تَرْبِیَت کا حد دَرَجَہ اِہتِمام فرمایا۔

حُصُولِ عِلْم کی چُونکہ عام طور پر دَرْج ذَیل صورتیں ہوتی ہیں:

(1)…اُسْتَاذ علم سکھانے کیلئے کسی مَخْصُوص وَقْت پر شاگرد کو اپنے پاس بلائے۔

(2)…شاگرد کے گھر جا کر اسے پڑھائے اور اس کی تَرْبِیَت کرے۔

(3)…کوئی ایسی جگہ مُقَرَّر کر دے جو اس کا اور اس کے شاگرد کا گھر نہ ہو۔

(4)…جو لوگ کسی وجہ سے اُسْتَاذ کی خِدْمَت میں حاضِر ہو سکیں نہ اُسْتَاذ ان کے پاس جا سکے تو انہیں زیورِ عِلْم سے مالا مال کرنے کیلئے اُسْتَاذ علم حاصِل کرنے والوں کو یہ ذِمَّہ داری سونپے کہ کسی وجہ سے شریکِ مَـحْفِل نہ ہونے والوں تک یہ عِلْمی فیضان پہنچائیں۔

نوٹ: بہتر یہ ہے کہ شاگرد اُسْتَاذ کے پاس جاکر سیکھے،جیسا کہ (حضرت سَیِّدُنا) موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام (حضرت سَیِّدُنا) خضر عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس عِلْم سیکھنے گئے تھے،(حضرت سَیِّدُنا)خضر عَلَیْہِ السَّلَام آپ کے پاس نہ آئے تھے۔[24] لِہٰذا اس اِعْتِبَار سے اگر سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عملی اَقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تمام صورتیں بَدَرَجَۂ اَتم نَظَر آتی ہیں۔چُنَانْچِہ،

حصولِ علم کی پہلی صورت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عِلْمِ دین سیکھنے کے بارے میں نہ صِرف ہر مَوْقَع پر صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حَوْصَلہ افزائی فرمائی بلکہ مُـخْتَلِف مَوَاقِع پر انہیں اس کی ترغیب بھی دِلائی۔چونکہ اس وَقْت حُصُولِ عِلْم کا واحِد ذریعہ ذاتِ نبوی تھی اور ہر مَـحْفِل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَرْبِیَت و اصلاح کے بیش قیمت مَدَنی پھول اِرشَاد فرماتے رہتے تھے، جیسا کہ حضرت سیِّدَتُنا ہند بنتِ اُسَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قرآنی اَلْفَاظ میں خِطاب فرماتے تھے۔ میں نے سورہ ق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مِنْبَر پر بَکَثْرَت سُن کر

 یاد کی تھی۔[25] یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تَرْبِیَت فرما رہے تھے اور صَحَابِیّات طَیِّبَات عَلَیْہِنَّ الرِّضْوَان بھی باپردہ ایک طرف مَوجُود تھیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ مَحْسُوس فرمایا کہ شاید صحابیات کو بات سمجھ میں نہیں آئی چُنَانْچِہ ان کے قریب آ کر دوبارہ از سرِ نو وَعْظ و نصیحت اِرشَاد فرمایا۔[26] ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عید کے مَوْقَع پر تمام خواتین کو شِرْکَت کا پابند بنایا، حَالَتِ پاکی تو کجا، ناپاکی کی حَالَت میں بھی آنے کی تاکید فرمائی، یہی نہیں بلکہ اوڑھنی کے نہ ہونے پر بھی انہیں مَعْذُور نہ جانا اور حاضِری کی سَخْت تاکید فرمائی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم نو عمر لڑکیوں، حیض والیوں اور پردے والیوں کو حُکْم دیا کہ عیدَین پر (نَماز کے لیے)گھر سے نکلیں مگر حیض والیاں نَماز میں شامِل نہ ہوں،بلکہ بھلائی کے کاموں اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں۔ میں نے عَرْض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے بعض کے پاس تو جِلْبَاب (برقع یا بڑی چادر) نہیں ۔تو آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی جِلْبَاب (بڑی چادر کا کچھ حِصّہ)اوڑھا لے۔[27]

حج اور عمرہ کے مَوْقَع پر بھی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبارگاہِ رِسَالَت

میں حاضِر رہیں اور یوں حج وغیرہ کے مُتَعَلِّق بھی  بَہُت سے اَہَم اور بُنْیَادِی مَسَائِل ہم تک انہی کے ذریعے پہنچے۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا عورتوں پر بھی جِہاد فَرْض ہے؟تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اِرشَاد فرمایا: ہاں!مگر ان پر جو جِہاد فَرْض ہے اس میں قِتال نہیں اور وہ حج و عمرہ ہے۔[28]اسی طرح صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے بعض صورتوں میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بات کی صَراحَت بھی حاصِل کر لی کہ مَردوں کی طرح وہ بھی نیکی و خیر کے بعض کام کر سکتی ہیں مَثَلًا مَعْذُور[29] اور فوت شدہ[30] کی طرف سے وہ  بھی حج ادا کر سکتی ہیں۔

اَلْغَرَضْ زِنْدَگی کے کئی شعبوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خواتین کو شِرْکَت کے مَوَاقِع فَرَاہَم کیے اور ان کی نہ صِرف حَوْصَلہ اَفزائی فرمائی، بلکہ عِبادات سے لے کر سماجی اور مُعَاشَرْتی تمام مَسَائِل و مَراحِل میں ان کی خصوصی تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا، یہاں تک کہ دورِ نبوی میں چند مَوَاقِع ایسے بھی آئے جب صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی فراست کو ہر ایک نے تسلیم کیا۔ چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ حَجَّةُ  الْوَدَاع کے مَوْقَع


پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس مسئلہ میں تشویش کا شِکار ہو گئے کہ عَرَفہ (یعنی نو ذو الحجۃ الحرام) کے دن روزہ رکھا جائے گا یا نہیں؟تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ فَضْل بِنْتِ حارِث رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس مَوْقَع پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس اِخْتِلاف کو کچھ یوں دُور فرمایا کہ دودھ کا ایک پیالہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقْدَس میں بھیجا جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے ہی نوش فرما لیا۔[31] اور یوں صحابہ کرام کی تشویش دور ہو گئی۔ اسی طرح ایک دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سوال کیا: عورت کیلئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ تو کسی صحابی کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیدہ خاتونِ جنّت حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس آئے اور ان سے اس سوال کا جواب پوچھا تو انہوں نے کچھ یوں جواب اِرشَاد فرمایا: عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ کسی مَرد کو دیکھے اور نہ کوئی مَرد اسے دیکھے۔ لِہٰذا حضرت سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بارگاہِ رِسَالَت میں جب یہ جواب عَرْض کیا تو سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا: (اے علی!) یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟ عَرْض کی: آپ کی شہزادی فاطمہ (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) نے۔ تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: فاطمہ نے سچ کہا ہے، فاطمہ تو میرے بَدَن کا ٹکڑا ہے۔ [32]

حصولِ علم کی دوسری صورت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حُصُولِ عِلْم کی دوسری صُورَت سے مُراد یہ ہے کہ اُسْتَاذ خود چل کر شاگرد کے ہاں جائے اور اسے عِلْم کی دولت سے مالا مال کرے۔ جب ہم اس تَناظُر میں مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حَیاتِ طیبہ پر نَظَر ڈالتے ہیں تو ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بَہُت سی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے گھروں میں بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان خاص مَوَاقِع کی تفصیلات خاص اسی گھر کی میزبان خواتین سے آج ہم تک پہنچی ہیں۔ ذیل میں اس کی پانچ۵ مثالیں پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1 )…ایک مرتبہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب کے ہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ پر کپکپی طاری ہے۔حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: اے اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب! کیوں کپکپا رہی ہو؟ عَرْض کی: بُخار کی وجہ سے۔ پھر فوراً کہنے لگیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بَرَکَت نہ عَطا فرمائے تو ان کے اس جملے پر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: بُخار کو بُرا مت کہو! یہ تو ابنِ آدم کی خطاؤں کو یوں دُور کرتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔ [33]

(2 )…حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شوہر حضرت سَیِّدُنا ابو سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی

 عَنْہ کی وفات کے بعد سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَعْزِیَت کیلئے آپ کے پاس تشریف لائے تو اُس وَقْت آپ نے اپنے چہرے پرمُصَبَّر (ایلوا)کا لیپ کیا ہوا تھا، سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ دیکھ کر دَرْیَافْت فرمایا: اُمِّ سَلَمَہ یہ کیا ہے؟ تو گویا آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِدَّت میں چونکہ خوشبو لگانا مَنْع ہے اور ایلوے میں خوشبو نہیں ہوتی، اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اِرشَاد فرمایا:اس سے چہرے میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے تو رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر دیا کرو۔(یعنی عِدَّت میں صِرف خوشبو ہی مَـمْنُوع نہیں بلکہ زِیْنَت بھی مَـمْنُوع ہے، ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نِکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے،لہٰذا زِیْنَت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ مَـمْنُوع ہے، اگر لیپ کی ضَرورت ہی ہو تو رات میں لگا لیا کرو کہ وہ وَقْت زِیْنَت کا نہیں اور دن میں دھو ڈالا کرو۔) پھر اِرشَاد فرمایا:خوشبو اور مہندی سے بھی بال نہ سنوارو۔(یعنی زمانۂ عِدَّت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حِصّہ خصوصًا سر میں اِسْتِعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رَنگت بھی۔)عَرْض کی: کنگھا کرنے کے لیے کیا چیز سر پر لگاؤں؟(یعنی عورت کو سر دھونے کنگھی کرنے کی ضَرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مَـمْنُوع ہوگئیں تو یہ ضَرورت کیسے پوری کروں؟)فرمایا: بیری کے پتّے سر

 پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔[34]

(3 )…سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسا اَوقات حضرت سَیِّدَتُنا شفا بنت عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر قیلولہ فرمایا کرتے تھے، چُنَانْچِہ انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے ایک بِسْتَر اور چادَر کو مَخْصُوص کر رکھا تھا کہ جب کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوپہر میں ان کے گھر قیلولہ فرماتے تو یہی بِسْتَر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے بچھایا کرتیں۔ یہ بستر ہمیشہ آپ کے پاس رہا یہاں تک کہ جب مَروان بن حکم کا دور آیا تو اس نے لے لیا۔[35]

(4 )…فتح مکہ کے دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سگی بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مکان پر غسل فرمایا،پھر نَمازِ چاشت ادا فرمائی۔[36]تو اس کی تفصیلات اسی طرح ایک مرتبہ ان کے ہاں تشریف لائے تو دَرْیَافْت فرمایا: کچھ (کھانےکو) ہے؟ عَرْض کی:سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ اِرشَاد فرمایا: لے آؤ! جس گھر میں سرکہ ہے، اس گھر والے سالَن کے مُحتَاج نہیں۔[37]

(5 )…حضرت سَیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا خولہ

 بنت قیس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائےتو میں نے کھانا تیّار کیا،تَناوُل فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا میں گناہوں کو مِٹانے والی چیز کی طرف تمہاری رَہْنُمائی نہ کروں ؟ عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِرشَاد فرمائیے۔فرمایا:مشقتوں کے باوُجُود پورا وُضو کرنا(یعنی سردی یا بیماری وغیرہ کی حالت میں جب وضو مُکَمَّل کرنا بھاری ہو تب مُکَمَّل کرنا[38])،مَسْجِد میں کَثْرَت سے جانا، ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا اِنتِظار کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے




Owais Raza Qadri Naats 2nd Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Sarfraz Colony Faisalabad

- Saturday, 9 March 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats 2nd Private New
Mehfil e Naat 8th March 2019 at Sarfraz Colony Faisalabad


Owais Raza Qadri Naats 2nd Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Sarfraz Colony Faisalabad




نجات دِلانےوالے اَعمال کی معلومات
(مع41حکایات)

نَجات دِلانے والے اَعمال

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیک لوگوں کے وہ عمدہ اَخلاق اور اچھی عادات یا وہ بہترین اَعمال جن کے ذریعے بندہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرتا اور دُنیوی و اُخروی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے اُنہیں ’’مُنْجِیَاتیعنی نجات دلانے والے اَعمال ‘‘کہا جاتا ہے۔([2]) ایک مسلمان کے لیے ظاہری وباطنی گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے اور نیک اَعمال بجالانے کی بڑی اہمیت ہےکیونکہ نیک اَعمال رِضائے الٰہی حاصل کرنے، رحمتِ الٰہی پانے، نجات دلانے اور جنت میں لے جانے کا بہت بڑا سبب ہیں۔جس طرح ’’مُحَرَّمَاتِ بَاطِنِیَّہ (یعنی باطنی حرام چیزیں مثلاً)تکبر ورِیا وعجب(یعنی خوپسندی) وحسد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات(یعنی علاج) کا علم ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ ویسے ہی ’’مسائل علم قلب یعنی فرائض قلبیہ مثل تواضع واِخلاص وتوکل وغیرہا اور اُن کے طرقِ تحصیل(حاصل کرنے کے طریقوں)کا علم بھی ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘([3])البتہ اس مسئلے میں کافی تفصیل ہے۔اِسی ضرورت کے پیش نظر مجلسالمدینۃ العلمیۃنے پہلے ’’باطنی گناہوں کی معلومات ‘‘پر مشتمل ایک کتاب بنام ’’باطنی بیماریوں کی معلومات‘‘ مرتب کی جسے اللہ   عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے بہت پذیرائی ملی ، پھر ’’مسائل قلب کی معلومات ‘‘پر مشتمل ایک کتاب مرتب کرنے کا اِرادہ کیا جس میں حتی المقدور ہر عمل کی تعریف، آیت مبارکہ، حدیث پاک، حکم یا

 ترغیب، حکایت اور اُس نیک عمل کو کرنے کا ذہن بنانے اور عمل کرنے کے مختلف طریقوں کا بیان ہو، چنانچہ یہ کام شعبۂ بیاناتِ دعوتِ اسلامی کے سپرد کردیاگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس عظیم کام کو کم وبیش تین ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کر لیا گیا اور شیخ طریقت امیراہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اِس کا نام ’’نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات‘‘ منتخب فرمایا ہے۔ اِس کتاب پر چھ اسلامی بھائیوں نے کام کرنے کی سعادت حاصل کی، بالخصوص اِن تین اسلامی بھائیوںناصر جمال عطاری المدنی، علی رضا عطاری المدنی اور عبدالرحمن عطاری المدنی سَلَّمَہُمُ اللّٰہُ الْغَنِینے خوب کوشش کی۔ کام کی تفصیل کچھ یوں ہے:

(1)اِس کتاب میں فقط 39مسائلِ علمِ قلب یعنی فرائضِ قلبیہ مثل تواضع واِخلاص وتوکل وغیرہا اور ان کے طرقِ تحصیل (حاصل کرنے کے طریقوں)کو بیان کیا گیاہے۔
(3) مشکل تعریفات سے اِحتراز کرتے ہوئے مشہور اور عام فہم تعریفات پر ہی اِکتفاء کیا گیا ہے البتہ بعض جگہ ضرورتاً ایک سے زائد تعریفات کو یکجا کرکے حتی المقدور باحوالہ بیان کیا گیا ہے، بصورتِ دیگر وہاں عام فہم تعریف ذکر کردی گئی ہے۔
(4)بعض آیات میں تفسیر کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے،نیز آیات کو قرآنی رسم الخط میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ترجمۂ کنزالایمان کا بھی اِلتزام کیا گیا ہے۔
(5)اکثر وہ اَحادیث بیان کی گئی ہیں جن میں اُس عمل کی کسی نہ کسی فضیلت کا بیان ہو، نیز  تمام اَحادیث کی تخریج یعنی مکمل حوالہ بھی ذکر کر دیا گیا ہے اور بعض اَحادیث کے تحت اُن کی شرح بھی ذکر کی گئی ہے۔

(6)جن کا حکم شرعی باآسانی مل گیا اسے باحوالہ ذکر کردیا گیا ہے ، بقیہ کے حوالے سے ترغیبی کلام ڈال دیا گیا ہے، بعض جگہ اَحکام کی مختلف صورتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
(7)ہرعمل کو کرنے کا ذہن بنانے یا اُسے بجالانے یا اُسے حاصل کرنے کے بعض مختلف طریقوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس کتاب میں جو بھی خوبیاں ہیں وہ یقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم ، اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عطا، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اہل بیت عظام، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کی عنایتوں اور امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں کا نتیجہ ہیں اور بتقاضائے بشریت جو بھی خامیاں ہوں اُن میں ہماری کوتاہ فہمی کو دخل ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اس سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اس میں سرزد ہونے والی غلطیوں کو معاف فرمائے ،اِسے عوام وخواص کے حق میں نافع بنائے، ہم سب کو اِخلاص کے ساتھ دِین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، شیخ طریقت امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی غلامی اور دعوتِ اسلامی میں اِستقامت عطا فرمائے، حضورنبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلہ سے مدینہ منورہ میں شہادت کی موت، جنت البقیع میں مدفن اور جنت الفردوس میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
بنا دے مجھے نیک نیکوں کا صدقہ
گناہوں سے ہر دم بچا یاالٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نجات دِلانے والے اَعمال کی تعریفات

(1)نیت کی تعریف:

’’نیت لغوی طورپردل کے پُختہ (پکے) اِرادے کو کہتے ہیں اور شَرعاً عبادت کے اِرادے کو نیت کہا جاتا ہے۔‘‘([4])

(2)اِخلاص کی تعریف:

’’کسی بھی نیک عمل میں محض   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ ‘‘([5])

(3)شکر کی تعریف:

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ’’شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے اِحسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کرنا۔‘‘([6])

(4)صبر کی تعریف:

’’صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا) کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔ بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں: (۱) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ (۲) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔([7])


(5)حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:

’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اَخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتاؤ، عادت‘‘ یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔
امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔‘‘([8])

(6)محاسبۂ نفس کی تعریف:

محاسبہ کا لغوی معنی حساب لینا، حساب کرناہے اور مختلف اعمال کرنے سے پہلے یا کرنے کے بعد ان میں نیکی وبدی اور کمی بیشی کے بارے میں اپنی ذات میں غور وفکر کرنا اور پھر بہتری کے لیے تدابیر اختیار کرنا محاسبۂ نفس کہلاتا ہے۔حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: ’’اعمال کی کثرت اور مقدار میں زیادتی اور نقصان کی معرفت کے لیے جو غور کیا جاتا ہے اسے محاسبہ کہتے ہیں، لہٰذا اگر بندہ اپنے دن بھر کے اعمال کو سامنے رکھے تاکہ اسے کمی بیشی کا علم ہو (کہ آج میں نے نیک اعمال زیادہ کیے یا کم کیے)تو یہ بھیمحاسبہ ہے۔‘‘ ([9])


(7)مراقبہ کی تعریف:

مراقبہ کے لغوی معنی نگرانی کرنا، نظر رکھنا، دیکھ بھال کرنا کے ہیں،اس کا حقیقی معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا لحاظ کرنا اور اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا ہے۔ اور جب بندے کو اس بات کا علم (معرفت) ہوجائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھ رہا ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ دل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، بندوں کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ہر جان کے عمل سے واقف ہے، اس پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسے مخلوق کے لیے جسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے، جب اس طرح کی معرفت حاصل ہوجائے اور شک یقین میں بدل جائےتو اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کو مراقبہ کہتے ہیں۔([10])


(8)مجاہدہ کی تعریف:

مجاہدہ جہد سے نکلاہے جس کا معنی ہے کوشش کرنا، مجاہدے کا لغوی معنی دشمن سے لڑنا، پوری طاقت لگادینا، پوری کوشش کرنااور جہاد کرنا ہے۔ جبکہ نفس کو ان غلط کاموں سے چھڑانا جن کا وہ عادی ہوچکا ہے اورعام طور پر اسے خواہشات کے خلاف کاموں کی ترغیب دینا یا جب محاسبۂ نفس سے یہ معلوم ہوجائے اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اسے اس گناہ پر کوئی سزا دینا مجاہدہ کہلاتا ہے۔([11])


(9)قناعت کی تعریف:

٭قناعت کا لغوی معنی قسمت پر راضی رہنا ہے اور صوفیاء کی اصطلاح میں روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔([12]) ٭حضرت محمد بن علی ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ’’قناعت یہ ہے

کہ انسان کی قسمت میں جو رزق لکھا ہے اس پر اس کا نفس راضی رہے۔‘‘([13])  ٭‏ اگر تنگدستی ہونے اور حاجت سے کم ہونے کے باوجود صبر کیا جائے تو اسے بھی قناعتکہتے ہیں۔([14])


(10)عاجزی وانکساری کی تعریف :

لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے۔([15])


(11)تذکرۂ موت کی تعریف :

 خوفِ خداپیدا کرنے، سچی توبہ کرنے، ربّ  عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرنے، دُنیا سے جان چھوٹنے، قربِ الٰہی کے مراتب پانے، اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت حاصل کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا تذکرۂ موت کہلاتا ہے۔


(12)حسن ظن کی تعریف :

‏ کسی مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ’’حسن ظن ‘‘کہلاتا ہے۔


(13)توبہ کی تعریف:

جب بندے کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ گناہ کا نقصان بہت بڑا ہے، گناہ بندے اور اس کے محبوب کے درمیان رکاوٹ ہے تو وہ اس گناہ کے ارتکاب پر ندامت اختیار کرتا ہے اور اس بات کا قصد واِرادہ کرتا ہے میں گناہ کو چھوڑ دوں گا، آئندہ نہ کروں گا اور جو پہلے کیے ان کی وجہ سے میرے اعمال میں جو کمی واقع ہوئی اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا تو بندے کی اس مجموعی کیفیت کو توبہ کہتے ہیں۔ علم ندامت اور اِرادے ان تینوں کے مجموعے کا نام توبہ ہے لیکن بسا اوقات ان تینوں میں سے ہر ایک پر بھی توبہ کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔([16])


(14)صالحین سے محبت کی تعریف:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے اس کے نیک بندوں سے محبت رکھنا،ان کی صحبت اختیار کرنا، ان کا ذکر کرنا اور ان کا ادب کرنا ’’صالحین سے محبت ‘‘کہلاتا ہے کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے جس سے محبت کی جائے اس کی دوستی وصحبت کو محبوب رکھا جائے، اس کا ذکر کیا جائے، اس کا ادب واحترام کیا جائے۔

(15)اللہ ورسول کی اطاعت کی تعریف:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّاو راس کے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرنا اور جن سے منع فرمایا ان کو نہ کرنا ’’اللہ ورسول کی اطاعت‘‘ کہلاتا ہے۔


(16)دل کی نرمی کی تعریف:

دل کا خوفِ خدا کے سبب اِس طرح نرم ہونا کہ بندہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے اور نیکیوں میں مشغول کرلے، نصیحت اُس کے دل پر اَثر کرے، گناہوں سے بے رغبتی ہو، گناہ کرنے پر پشیمانی ہو، بندہ توبہ کی طرف متوجہ ہو، شریعت نے اس پر جو جو حقوق لازم کیے ہیں ان کی اچھے طریقے سے ادائیگی پرآمادہ ہو، اپنے آپ، گھربار، رشتہ داروں وخلق خدا پر شفقت ورحم و نرمی کرے، کلی طور پر اس کیفیت کو ’’دل کی نرمی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


(17)خلوت وگوشہ نشینی کی تعریف :

٭خلوت کے لغوی معنیٰ ’’تنہائی ‘‘ کے ہیں اور بندے کا   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنے، تقویٰ وپرہیزگاری کے درجات میں ترقی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے گھر یا کسی مخصوص مقام پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر اس طرح معتدل انداز میں نفلی عبادت کرنا ’’خلوت وگوشہ نشینی‘‘کہلاتا ہے کہ حقوقُ اللہ (یعنی فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ) اور شریعت کی طرف سے اس پر لازم کیے گئے تمام حقوق کی ادائیگی، والدین، گھروالوں، آل اَولاد ودیگر حقوق العباد (بندوں کے حقوق)کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ ٭ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے نزدیک لوگوں میں ظاہری طور پر رہتے ہوئے باطنی طور پر ان سے جدا رہنا یعنی خود کوربّ تعالٰی کی طرف متوجہ رکھنا خلوت وگوشہ نشینی ہے۔


(18)توکل کی تعریف:

٭توکل کی اِجمالی تعریف یوں ہے کہ اسباب وتدابیر کو اختیار کرتے ہوئے فقط اللہتبارَک وتعالٰی پر اِعتماد وبھروسہ کیاجائے اور تمام کاموں کو اُس کے سپرد کر دیا جائے۔


(19)خشوع کی تعریف:

بارگاہِ اِلٰہی میں حاضری کے وقت دِل کا لگ جانا یا بارگاہِ اِلٰہی میں دلوں کو جھکا دینا ’’خشوع‘‘ کہلاتا ہے۔([17])


(20)ذِکرُ اللہ کی تعریف :

٭ذِکرکے معنٰی یاد کرنا،یاد رکھنا،چرچا کرنا،خیرخواہی عزت و شرف کے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ذِکر اِن تمام معنوں میں آیا ہوا ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّکو یادکرنا، اُسے یاد رکھنا، اس کا چرچا کرنا اور اس کا نام لیناذِکرُاللہ کہلاتا ہے۔([18])

(21)راہِ خدا میں خرچ کرنے کی تعریف :

  اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا اور اَجروثواب کے لیے اپنے گھروالوں، رشتہ داروں، شرعی فقیروں، مسکینوں، یتیموں، مسافروں، غریبوںو دیگر مسلمانوں پر اور ہرجائز ونیک کام یا نیک جگہوں میں حلال وجائز مال خرچ کرنا ’’راہِ خدا میں خرچ کرنا‘‘ کہلاتا ہے۔

(22)اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تعریف :

خوشی، غمی، راحت، تکلیف، نعمت ملنے ،نہ ملنے، الغرض ہراچھی بری حالت یا تقدیر پر اس طرح راضی رہنا، خوش ہونا یا صبر کرنا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شکوہ یا واویلا وغیرہ نہ ہو ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہنا‘‘ کہلاتا ہے۔


(23)خوفِ خدا کی تعریف :

خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔([19])


(24)زُہد کی تعریف :

دنیا کو ترک کرکے آخرت کی طرف مائل ہونے یا غیرُاللہ کو چھوڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے کا نام زُہد ہے۔([20])اور ایسا کرنے والے کو زاہد کہتے ہیں۔زُہد کی مکمل اور جامع تعریف حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کا قول ہے، آپ فرماتے ہیں: ’’زُہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز کو ترک کردے جو اسے   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دور کرے۔‘‘([21])

(25)اُمیدوں کی کمی کی تعریف :

 نفس کی پسندیدہ چیزوں یعنی لمبی عمر،صحت اور مال میں اضافے وغیرہ کی امید نہ ہونا’’اُمیدوں کی کمی‘‘ کہلاتا ہے۔([22])اگر لمبی عمر کی خواہش مستقبل میں نیکیوں میں اضافے کی نیت کے ساتھ ہوتو اب بھی ’’اُمیدوں کی کمی‘‘ہی کہلائے گی۔([23])


(26)صدق کی تعریف :

حضرت علامہ سید شریف جرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی صدق یعنی سچ کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’صدق کا لغوی معنی واقع کے مطابق خبر دینا ہے۔‘‘([24])


 (27)ہمدردیٔ مسلم کی تعریف:

کسی مسلمان کی غمخو اری کرنا اور اس کے دکھ درد میں شریک ہونا ’’ہمدردیٔ مسلم‘‘ کہلاتاہے۔ہمدردیٔ مسلم کی کئی صورتیں ہیں، بعض یہ ہیں:(۱)بیمار کی عیادت کرنا (۲)انتقال پر لواحقین سے تعزیت کرنا (۳)کاروبار میں نقصان پر یا مصیبت پہنچنے پر اِظہارِ ہمدردی کرنا (۴)کسی غریب مسلمان کی مدد کرنا (۵)بقدرِ استطاعت مسلمانوں سے مصیبتیں دور کرنا اور اُن کی مدد کرنا(۶)علم دِین پھیلانا (۷)نیک اَعمال کی ترغیب دینا (۸) اپنے لیے جو اچھی چیز پسند ہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیےبھی پسند کرنا۔ (۹)ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم کی مدد کرنا (۱۰) مقروض کو مہلت دینا یا کسی مقروض کی مدد کرنا(۱۱) دکھ درد میں کسی مسلمان کو تسلی اور دلاسہ دینا۔ وغیرہ


(28)رجا کی تعریف:

آئندہ کے لئے بھلائی اور بہتری کی اُمید رکھنا’’ رَجَا‘‘ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص اچھا بیج حاصل کرکے نرم زمین میں بودے اور اس زمین کو گھاس پھوس وغیرہ سے صاف کردے اور وقت پر پانی اور کھاد دیتا رہے پھر اس بات کا امیدوار ہوکہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کھیتی کو آسمانی آفات سے محفوظ رکھے گا تو میں خوب غلہ حاصل کروں گا تو ایسی آس اور امید کو ’’رَجَا‘‘ کہتے ہیں۔([25])


(29)محبت الٰہی کی تعریف:

طبیعت کا کسی لذیذ شے کی طرف مائل ہوجانا محبت کہلاتا ہے۔([26]) اور محبت الٰہی سے مراد اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا قرب اور اس کی تعظیم ہے۔([27])


(30)رضائے الٰہی کی تعریف:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا چاہنا رضائے الٰہی ہے۔


(31)شوقِ عبادت کی تعریف:

عبادت میں سستی کو ترک کرکے شوق اور چستی کے ساتھ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا شوقِ عبادت ہے۔


(32)غنا کی تعریف:

جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اُس سے نااُمید ہونا غنا ہے۔([28])


(33)قبول حق کی تعریف:

باطل پر نہ اَڑنا اور حق بات مان لینا قبولِ حق ہے۔


(34)مال سے بے رغبتی تعریف:

مال سے محبت نہ رکھنا اور اس کی طرف رغبت نہ کرنا مال سے بے رغبتی کہلاتا ہے۔


(35)غبطہ(رَشک) کی تعریف:

کسی شخص میں کوئی خوبی یا اس کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ مجھے بھی یہ خوبی یا نعمت مل جائے اور اس شخص سے اس خوبی یا نعمت کے زوال کی خواہش نہ ہو تو یہ غبطہ یعنی رشک ہے۔([29])


(36)محبت مسلم کی تعریف:

’’کسی بندے سے صرف اس لیے محبت کرے کہ ربّ تعالٰی اس سے راضی ہوجاوے، اس میں دنیاوی غرض ریا نہ ہو اس محبت میں ماں باپ، اولاد اہل قرابت مسلمانوں سے محبت سب ہی داخل ہیں جبکہ رضائے الٰہی کے لیے ہوں۔‘‘([30])


(37)اللہ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کی تعریف:

اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پوشیدہ اَفعال سے واقع ہونے والے بعض اَفعال کو اس کی خفیہ تدبیر کہتے ہیں اور اس سے ڈرنا اللہکی خفیہ تدبیر سے ڈرنا کہلاتا ہے۔([31])


(38)اِحترامِ مسلم کی تعریف:

مسلمان کی عزت و حرمت کا پاس رکھنا اور اسے ہر طرح کے نقصان سے بچانے کی کوشش کرنا اِحترامِ مسلم کہلاتا ہے۔

(39)مخالفت شیطان کی تعریف:

اللہ تعالٰی کی عبادت کرکے شیطان سے دشمنی کرنا، اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں شیطان کی پیروی نہ کرنا اور صدقِ دِل سے ہمیشہ اپنے عقائدو اَعمال کی شیطان سے حفاظت کرنا مخالفت شیطان ہے۔([32])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد