News Ticker

Latest Posts

Owais Raza Qadri Naats Latest Full Noori Mehfil on Shab e Barat 20th April 2019 at Faisalabad

- Sunday, 21 April 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats Latest Full Noori Mehfil
 on Shab e Barat 20th April 2019 at Faisalabad






انبیائے کِرَام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت و       تبلیغ

حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمائے صدیاں بِیت چکی تھیں، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے جنہوں نے لوگوں کو شِرک وکفر سے باز رہنے کی تلقین کی، خدائے واحِد ویکتا کی عِبادت کی طرف بلایا،انہیں بداعمالیوں کے بُرے انجام سے خبردار کیا اور نیک اعمال کی جزا وثواب سے مُتَعَلِّق بتا کر بہت ساروں کو اعمالِ حسنہ کا پیکر بنایا۔

زمانے کے اُتار چڑھاؤ

اس دوران زمانے نے بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے؛ کبھی حضرت سیِّدنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مسحور کُن اور دلوں کو چُھو لینے والی مُبَارک آواز کے کرِشمات کا نظارہ کیا جسے سُن کر انسان  اور جانور مدہَوش ہو جاتے، چَرند پَرند پناہ گاہوں سے باہر آ جاتے، شِیر خوار (دودھ پیتے) بچے رونا بھول کر ہمہ تن گوش (یعنی پوری طرح مُتَوجِّہ) ہو جاتے اور اس مُبَارک آواز کے سوز وگُداز میں ڈوب کر کئی افراد کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی اور کبھی ان کے مُقَابَلے میں شیطان بھی نظر آیا جس نے سَعَادت مندوں کے اس پاکیزہ و پُرنور اجتماع میں رَخْنَہ(فساد) ڈالنے اور لوگوں کو راہِ ہِدایَت سے گم راہ کرنے کے لئے بانسری وطنبورہ ایجاد کیا اور محفلِ موسیقی جما کر شَرِیر وبدبخت لوگوں کو اپنا پیروکار بنایا؛ پھر حضرت سیِّدنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اسعظیم اور بےمثال سلطنت کا منظر بھی نظر آیا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی

سَطْوَت وہیبت سے جِنَّات بھی تھرتھرا اُٹھتے تھے، چَرند پَرند حیوانات اور جمادات تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تاِبع فرمان تھے؛ اس کے عِلاوہ بہت ساری قوموں کے عُرُوج وزوال کی داستانیں بھی محفوظ کیں ...اور... اب حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عہدِ مُبَارک ہے۔ اسی دَور کی بات ہے.....

تذکرۂ ولادت و پروَرِش

خاندانِ بنُو ماثان بنی اِسرائیل کے سرداروں، بادشاہوں اور عُلَما کا خاندان تھا۔([3]) حضرت سیِّدنا عِمران بن ماثان رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ اسی عالی رُتبہ خاندان کے چشم وچراغ تھے، بہت مُتَّقی و پرہیزگار اور صالِح مرد تھے، بنی اسرائیل کے سرداروں میں آپ کا شُمار ہوتا تھا۔ حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہم زُلْف بھی تھے یعنی ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ محترمہ کی بہن تھیں۔ باوجود یہ کہ ان کی شادی کو عرصۂ دراز ہو چکا تھا، ابھی تک اولاد کی نعمت سے بہره وَر نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ہر شادی شدہ جوڑے کی طرح ان کے دل بھی اولاد کے لئے بےچین تھے اور آنکھیں بڑی بےقراری سے ان پُرمَسَرَّت گھڑیوں کے انتظار میں تھیں جب ان کے سامنے ان کے ہنستے مسکراتے بچے کھیل رہے ہوں مگر ابھی تک قسمت نے یاوَری نہیں کی اور ان کا یہ شجرِ امید بار آور نہ ہو سکا لیکن چونکہ یہ صالحین کا خاندان تھا اس لئے کبھی زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا میں راضی رہے۔ وقت گزرتا رہا اور اب یہ عمر کے اس حصے کو پہنچ چکے تھے جس میں عام طور پر اولاد ہونے کی امید ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ ناامید نہیں تھے، ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکی

 قدرت ورحمت پر اِنہیں پورا بھروسا اور كامِل يقين تھا، ان پر یہ حقیقت آشکار تھی کہ اولاد کا جلد یا بہ دیر ہونا یا سِرے سے عطا ہی نہ ہونا سب خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی مشیت واِرادے پر مَوْقُوف ہے جس میں اس کی لاتعدادحکمتیں پنہاں ہیں، وہ خالقِ بےنیاز عَزَّ وَجَلَّ جب چاہے، جسے چاہے جس چیز سے چاہے نواز دےاور جب، جس سے جو چیز چاہے روک لے۔ اسے اپنی قدرت کے اِظہار کے لئے کسی سبب اور عِلَّت کی حاجت نہیں، یقیناً وہ پاک ذات اس پربھی قادِر ہے کہ ہمیں اس پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کی نعمت سے بہرہ وَر فرمائے اور ہماری خالی جھولی بھر دے... بہرحال دن گزرتے رہے پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِکی زوجہ محترمہ جن کا نام حَنَّہ تھا، کے دل میں اولاد کی مَحبَّت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور زیادہ مَوْج زَن ہو گیا، طبیعت میں اِضطراب برپا ہوا، اَرمان مچلنے لگے، آتَشِ شوق کچھ اور بھڑک اُٹھی اور یہ بڑی ہی عاجزی واِنکساری کے ساتھ بارگاہِ ربِّ باری میں ملتجی ہوئیں، دُعا کی اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرنے کی نَذر مان لی...دلِ بےقرار سے نکلی ہوئی یہ بےتاب آرزو بارگاہِ ربِّ ذُوْالجلال میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی اور آثارِ حمل ظاہِر ہو گئے۔

امید بارآور ہونا

ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن یہ کسی دَرَخْت کے سائے تَلے بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک پَرندے پر نظر پڑی جو اپنے بچوں کو دانہ کھِلا رہا تھا۔ اس سے آپ کے دل میں اولاد کا شوق مَوْج زَن ہوا اور دُعا کی کہ ”اَللّٰھُمَّ لَکَ عَلَیَّ اِنْ رَزَقْتَنِیْ وَلَدًا اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہٖ عَلٰی بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَیَکُوْنُ مِنْ سَدَنَتِہٖ وَخِدَمِہٖ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیرے لیے نَذْر مانتی ہوں کہ اگر تُو

نے مجھے اولاد کی نعمت سے نوازا تَو میں اُسے بیت المقدس کے لیے وَقْف کر دوں گی تاکہ وہ اس کے مُجَاوِروں اور خادِموں میں سے ہو۔ پھر کچھ دنوں بعد حامِلہ ہو گئیں۔([4]) پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کے آثار نمودار ہوتے دیکھ کر انہیں بڑی مَسَرَّت ہوئی، سمجھیں کہ میرے پیٹ میں لڑکا ہے اورسابقہ نَذر کی تجدِید کرتے ہوئے پھر سے وہی نذر مان لی کہ میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرتی ہوں۔ ([5])  قرآنِ کریم ان کی اس نذر کو یوں بیان فرماتا ہے:
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)(پ٣، آلِ عمران:٣٥)
 ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عَرْض کی اے ربّ میرے میں تیرے لئے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تَو تُو مجھ سے قبول کر لے بےشک تُو ہی ہے سنتا جانتا۔

نوٹ

واضح رہے کہ اس زمانہ میں یہ رَواج تھا کہ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکے وَقف کئے جاتے تھے کہ وہ بُلُوغ (بالغ ہونے) تک وہاں کی خدمت کرتے، بالغ ہو کر انہیں اِختیار ملتا کہ خواہ اسی کام میں مَشغُول رہیں یا دُنْیَوی کاروبار کریں لیکن اگر وہ یہاں قیام اِختیار کر لیتے تو پھر انہیں دُنْیَوی کاروبار کا اِختیار نہ رہتا تھا۔ یہ بچے اپنے ماں باپ کی خدمت گھر کے کام کاج سے بالکل دُور رکھے جاتے تھے چونکہ بنی اسرائیل میں نہ مالِ غنیمت آتا تھا نہ قیدی، اس لئے اس وَقْف کا رَواج تھا، کوئی نبی ایسا نہ گزرا جس کی نسل میں بیت المقدس کی خدمت

کے لئے مُحَرَّر (وَقْف)نہ ہوئے ہوں۔([6]) نیز صرف لڑکوں کو ہی وَقْف کیا جاتا تھا کیونکہ لڑکیاں عورتوں والے مسائل اور زنانہ کمزوریوں اور مَردوں کے ساتھ نہ رِہ سکنے کی وجہ سے اس خدمت کے قابِل نہ سمجھی جاتی تھیں۔([7]) یہی وجہ ہے کہ نذر ماننے کے بعد جب حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اپنے شوہر حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کو اس بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے: ”افسوس! یہ تم نے کیا کیا، سوچو تو سہی! اگر تمہارے پیٹ میں بجائے لڑکے کے لڑکی ہوئی تَو لڑکی تو اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتی (پھر تمہاری نَذْر کیسے پوری ہو گی؟)“ اس سے ان دونوں صاحِبوں کو شدید فِکْر لاحِق ہو گئی، پھر حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے وضعِ حمل سے پہلے ہی حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کا انتقال ہو گیا۔([8]) یہ حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے لیے بہت بڑی آزمایش تھی جس میں یہ صبر واِستقامت کے سہارے پوری اتریں۔

بیٹی کی پیدايش

شب وروز گزرتے رہے پھر ایک دن وہ پُرمَسَرَّت گھڑی بھی آ پہنچی جب حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے ہاں بیٹی کی وِلادت ہوئی، یہ ان کے لیے بڑی خوشی کا موقع تھا مگر چونکہ بیٹے کی امید پر یہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی نذر مان چکی تھیں اور اب خِلَافِ امید لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کے باعِث نذر پوری ہونا بہ ظاہِر ناممکن ہو گیا تھا لہٰذا ایک نعمت وعِبادت سے مَحْرُومی پر اِنہیں افسوس ہوا، پارہ تین۳،سورۂ آلِ عمران، آیت

owais raza qadri, owais raza qadri naats, naat, world, owais, qadri, allah, madina, sunni, islamic, naats, ramzan, newnaat, nabi, naat shareef, raza, naat sharif, new naat 2019, naat 2018, pakistani naat, marhaba, heera gold, new naat, new naat 2018, islamic naat, rabi ul awal, owais qadri, rabi ul awal new kalam, ya nabi , beautiful naat owais raza qadri, alhaaj muhammad owais raza qadri, naat 12 rabi ul awal 2018, naats 12 rabi ul awal, owais raza qadri new naat 2018, naat rabi ul awal 2018, owais raza qadri 2018, owais raza qadri naat, marhaba ae jaan e janan, 12 rabi ul awal 2018, new islamic naat

 نمبر 36 میں ہے:
 قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ- (پ٣، آلِ عمران:٣٦)
ترجمۂ کنزالایمان: بولی اے ربّ میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی۔
مفسر شہیر، حکیم الامت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:(حضرت حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا اپنے) اس (کلام) سے مقصود ربّ کو خبر دینا نہیں بلکہ فقط اِظْہَارِ غم ہے کہ نَذْر کا پورا ہونا بظاہر ناممکن ہو گیا، آپ کا یہ غم بےصبری یا ناشکری کا نہ تھا بلکہ ایک نعمت یا ایک عِبادت سے محرومی کا تھا کہ بیٹا ہوتا تو خدمتِ بیت المقدس کرتا مجھے دائمی ثواب پہنچتا، لڑکی نہ یہ کام کر سکے گی نہ مجھے اجر ملے گا۔ بےصبری کا غم برا ہے محرومی کا غم وحسرت عبادت۔ ایک فقیر اپنے مالدار نہ ہونے پر اس لئے غم کرتا ہے کہ اگر میں مالدار ہوتا تو دوسروں کی طرح میں سینما دیکھتا، شراب پیتا تو یہ مُجْرِم ہے اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میں مالدار ہوتا تو کوٹھیاں، موٹر تیار کرتا نہ مُجْرِم ہے نہ ثواب کا مستحق۔ اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں بھی زکوٰۃ دیتا، حج کرتا وغیرہ یہ غم عِبادت ہے اور یہ فقیر ان عبادات کا ثواب پائے گا۔ آپ کا یہ غم اس تیسری قسم کا تھا یعنی عَرْض کیا کہ مولیٰ! یہ کیا ہوا میں نے تو لڑکی جنی...اب اپنی نذر کیسے پوری کروں...!! ([9])

جذبۂ خدمتِ دین

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہاں ایک بات بڑی قابِلِ تَوَجُّہ ہے کہ مدّتوں اِنتظار  کے بعد جب کوئی اُمِّید بر آتی اور کوئی آرزو پوری ہوتی ہے تو دل کو بےحد فرحت وخوشی کا اِحساس ہوتا ہے، ایسے میں کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی یہ خوشی وشادمانی

 وقتی اور عارضی ثابِت ہو لہٰذا وہ اسے دائمی بنانے اور باقی رکھنے کی ہر ممکن تدبیر کرتا ہے پھر بات جب اولاد کی ہو اور وہ بھی ایسی جو برسہا برس اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد حاصِل ہوئی ہو تو کوئی ماں باپ اس کا ایک لمحے کے لیے بھی آنکھوں سے اَوجھل ہونا گوارا نہیں کرتے، اس کی ہر ضِد پوری کرتے اور اسے ہر خوشی مُہَیَّا کرنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اس طَور پر یہ وَقْت ان وَالِدَین کے لیے بہت پُرآزمایش بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے گُزَشتہ عہدوپیماں جو اُنہوں نے اولاد کے سلسلے میں کیے تھے کہ اسے عالِم یا حافِظ بنائیں گے یا وَقْفِ مدینہ (یعنی دین کے کاموں کے لیے وَقْف) کر دیں گے وغیرہ وغیرہ، پر کس قدر قائم رہتے ہیں کیونکہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے یا اسے کسی چیز کی آرزو ہوتی ہے تو بڑی بڑی نذریں مان لیتا ہے لیکن جب ان آرزوؤں اور اُمیدوں کی تکمیل ہو جاتی ہے تو ان میں اس قدر مگن ہوتا ہے کہ پہلے کیے ہوئے تمام عہد وپیماں سے یکسر غافِل ہو جاتا ہے اور بہت دَفعہ تو ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے؛ لیکن قربان جائیے حضرت سیِّدَتُنا حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اِیفائے عہد (وعدہ پورا کرنے) اور خدمتِ دین کے جذبے پر، آپ کا یہ گِرَاں قدر جذبہ صد کروڑ مرحبا...!! دیکھئے! ایک ہی اِکلوتی بیٹی ہے جو طویل عرصہ اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد عطا ہوئی ہے پھر باوجود یہ کہ لڑکیوں کوخدمتِ بیت المقدس کے لیے قُبول نہیں کیا جاتا لیکن آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اپنی نذر کی تکمیل کی فِکْر میں ہیں، خدا تعالٰی کی بارگاہ میں کیا ہوا اپنا عہد وفا (پورا) کرنے کے لیے بےچین ہیں، سُبْحٰنَ اللہِ ... سُبْحٰنَ اللہِ ...کاش! حضرت سیِّدَتُناحَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اخلاص اور نذر پوری کرنے کے اس جذبۂ صادِق کے صدقے ہمیں بھی ایسی توفیق نصیب ہو کہ رضائے


 الٰہی کو ہر شے پر مُقَدَّم جانیں اور اِس سلسلے میں پیش آنے والی کسی مصیبت وپریشانی کو خاطر میں نہ لائیں۔
؎ عَطا اَسْلاف کا جَذبِ دَرُوں کر!
شريک زُمرۂ لَا يَحْزَنُوْں کر!
خرَد کی گتھياں سلجھا چکا ميں
مرے   مولا!   مجھے   صاحِبِ   جُنُوں   کر!([10])
(یعنی اے مالِک و مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اَسلاف  کے قلبی اِحساسات اور جَذبات عطا فرما اور تیرے وہ محبوب بندے جنہیں بروزِ قیامت کوئی غم نہیں ہوگا مجھے بھی ان میں شامِل فرما ، میں عقل کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں اب مجھے عشقِ حقیقی کی دولت عطا فرمادے۔)اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیت المقدس کی جانِب رَوانگی

بہرحال حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اس بچی کا نام رکھا اور چونکہ آپ اسے بیت المقدس میں رکھنے کی نِیَّت کر چکی تھیں اس لیے اسے اور اس کی اولاد کے لیے شیطان سے محفوظ رہنے اور صالح وپرہیزگار ہونے کی دعا کی اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کی طرف چل دیں۔
بیت المقدس میں اس وقت چار۴ ہزار خُدَّام رہتے تھے اور ان کے سردار ستائیس یا ستر تھے۔ جن کے امیر حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے۔([11]) حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا

اپنی بیٹی کو لے کر جب یہاں پہنچیں تو اسے یہاں کے عُلَماء کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا: یہ میری بیٹی ہے جسے میں نے (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عِبَادت اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے) آزاد (یعنی وَقْف) کر دیا ہے۔ اگرچہ لڑکیاں اس خدمت کی صلاحیت نہیں رکھتیں مگر (چونکہ میں اسے وَقْف کر چکی ہوں اس لیے) میں اسے لوٹا کر گھر بھی نہیں لے جا سکتی لہٰذا آپ حضرات میری یہ نذر قبول فرما لیجئے۔([12])

قبولیتِ نذر

حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا یہ صِدْق واِخلاص، بارگاہ ربِّ ذُوْالجلال میں نذر پیش کرنے کا یہ جوش وجذبہ اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی سچی لگن بارگاہِ الٰہی میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی چنانچہ جب آپ نے بچی کو عُلَما کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے اس کی پَروَرِش ونگہداشت کی ذِمَّہ داری اُٹھانے کو قابِلِ افتخار خیال کیا اور ہر کسی نے اسے اپنی کفالت میں لینے میں رغبت ظاہِر کی کیونکہ یہ اُن کے سردار حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی لختِ جگر تھیں۔ حضرت زَکَرِیَّاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (جو اُن عُلَما کے سردار اور بچی کے خالو تھے) نے فرمایا: میں اس کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے گھر ہے۔ یہ سن کر دیگر عُلَما نے کہا: اس بچی کی پَروَرِش ونگہداشت کی فضیلت حق داری کی بِنا پر نہیں مل سکتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ ماں اس بات کی سب سے زیادہ حق دار ہے جس نے اسے جنم دیا لہٰذا ہم قُرعَہ ڈالیں گے اور جس کے نام قُرعَہ نکلے وہی اس کے نان نَفَقَہ کا ذِمَّہ دار ہو گا۔([13])

قُرعہ اندازی

اس کے بعد یہ حضرات نہرِ اُردَن کی طرف قلم لے کر چلے جس سے وَحی لکھتے تھے اور طے یہ ہوا کہ جس کا قلم پانی میں نہ ڈوبے نہ بہہ جائے وہ اس کی کفالت کی ذمہ داری اُٹھائے اور جس کا قلم ڈوب جائے یا بہہ جائے وہ اس کا مستحق نہیں چنانچہ ایسا کیا گیا، سب کے قلم ڈوب گئے یا بہہ گئے مگر حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قلم پانی میں ٹھہرا رہا۔ بعض رِوَایتوں میں ہے کہ تین بار قُرعَہ ڈالا گیا اور ہر دفعہ قُرعَہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نام ہی نِکلا لہٰذا اس کی کفالت کی ذِمَّہ داری بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس چلی گئی۔([14]) اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑی محبت وشفقت سے اس کی پَروَرِش میں مشغول ہو گئے۔

بیت المقدس میں پَروَرِش

کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بیت المقدس میں فرشِ مسجِد سے قدرے بلند ایک کمرہ بنایا اور وہاں اس بچی کو رکھا یہاں سِوائے آپ کے اور کوئی نہ جاتا تھا۔ اشیائے خُورد ونَوش وغیرہ سامانِ ضرورت بھی آپ ہی لے کر جاتے([15]) اور واپَسی پر تمام دروازے بند کر کے قفل لگا آتے۔([16]) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب خُورد و نَوش کا سامان لے کر وہاں پہنچتے تو اس بچی کے پاس بےموسم کے پھل یعنی گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں پاتے۔([17]) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروِی ہے کہ

 یہ جنت کے پھل ہوتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس بچی نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا بلکہ یہ پھل اس کے لیے دودھ کا بَدَل تھے۔([18])

پھلوں کے بارے میں سوال

ایک مرتبہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے مُخَاطَب کر کے پھلوں کے بارے میں پوچھا کہ
اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ- (پ٣، آل عمران:٣٧)         ترجمۂ کنزالایمان: یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟
آپ کا یہ سُوال نہ تو بےخبری سے تھا نہ تعجب یا حیرت سے کہ آپ تو جانتے تھے کہ یہ جنّتی پھل ہیں۔ یہ سوال اس بچی کی فہم وسمجھ آزمانے کے لیے تھا۔([19])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ...!!! بچپن کی اس ننھی سی عمر شریف میں اس بچی نے کیسا ایمان افروز جواب دیا...کہنے لگیں:
هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷) (پ٣، آلِ عمران:٣٧)
 ترجمۂ کنزالایمان: وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے۔
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ...کیسا نفیس جواب ہے اور کیا جامِع کلام ہے...!!اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ)کی ذات کو جانتی ہیں، اس کے صِفات کو بھی (کہ) وہ رازِق ہے، اس کی قدرت کو بھی کہ وہ جنَّت کے پھل دنیا میں بھیج سکتاہے (نیز) جنَّت کو بھی جانتی ہیں، وہاں کے پھل بھی پہچانتی ہیں بلکہ لانے والے فرشتہ کو بھی پہچانتی ہیں کہ یہ فرشتہ ہے...