News Ticker

Latest Posts

Shajra e Nasab of Prophet Muhammad S.A.W. PBUH by Ahmed Raza Rizwan

- Thursday, 2 May 2019 No Comments

Shajra e Nasab of Prophet
Muhammad S.A.W. PBUH by Ahmed Raza Rizwan






بیت المقد س آمد

حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے کھجوریں کھائیں، نہر سے پانی پیا اور پھر اپنے مُبَارَک فرزند کو گود میں لیے قوم کے پاس تشریف لے آئیں۔منقول ہے کہ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا اور گود میں ایک نَومَوْلُود بچے پر اُن کی نظر پڑی تو وہ رونے لگے کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے([73]) اور کہنے لگے:
یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا(۲۷)یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ(۲۸) (پ١٦، مريم:٢٧، ٢٨)
ترجمۂ کنزالایمان: اے مریَم بے شک تُو نے بہت بڑی بات کی۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ بُرا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار۔
کہتے ہیں کہ ہارون اس زمانے میں بنی اِسرائیل کے ایک بہت ہی عِبَادت گُزَار اور گوشہ نشین شخص کا نام تھا([74]) چونکہ حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا بھیبہت نیک پرہیزگار اور عِبَادت


 گُزَار خاتون تھیں اس لیے اُنہوں نے آپ کو اُن کی بہن کہا یعنی اے نیک عورت! تجھے یہ کام زیب نہیں دیتا تھا۔([75]) نہ تو تیرا باپ عِمران کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں حَنَّہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا؟([76])

حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا گہوارے میں کلام

جب قوم نے بہت زیادہ طعنہ زنی اور مَلامَت کی تو حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا خود تو خاموش رہیں مگر بچے کی طرف اِشارہ کر دیا کہ جو کچھ کہنا ہے اِن سے کہو! اس پر لوگوں کو غصّہ آیا اور انہوں نے کہا: جو بچہ ابھی پیدا ہوا ہے وہ کیسے ہم سے بات کرے گا...!! مروی ہے کہ جس وَقْت یہ گفتگو ہو رہی تھی حضرت سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دودھ نَوش فرما رہے تھے، گفتگو سُن کر آپ نے دودھ پینا چھوڑ دیا، بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر لوگوں کی جانب مُتَوَجِّہ ہوئے اور دائیں دستِ اقدس  کی انگشتِ شہادت (یعنی سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی) سے اشارہ کر کے کلام شروع فرمایا۔([77])


اِعلانِ بند گی

ابتدا میں آپ نے اپنی عُبُودِیَّت (بندہ ہونے) کا اِعلان فرمایا کہ
اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ (پ١٦، مريم:٣٠)          ترجمۂ کنزالایمان: میں ہوں اللہ کا بندہ۔
چونکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مُتَعَلِّق یہ تہمت لگائی جانے والی تھی کہ آپ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں اور یہ تہمت اللہرَبُّ الْعِزَّت کی ذاتِ عالی پر لگتی تھی اس لیے منصبِ نبوَّت ورِسالت کا تقاضا یہی تھا کہ والِدہ کی براءَت بیان کرنے سے پہلے وہ تہمت دُور فرما دی جائے جو اللہ تعالیٰ کی جنابِ پاک میں لگائی جائے گی لہٰذا آپ نے سب سے پہلے اپنی بندَگی کا اِعْلان فرمایا تا کہ کوئی اِنہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے۔([78])

عطائے کِتاب ونبوَّت کا بیان

پھر عطائے کِتاب ونبوَّت کا بیان فرمایا کہ
اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ(۳۰) (پ١٦، مريم:٣٠)
 ترجمۂ کنزالایمان: اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔
حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ آپ والِدہ کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کو توراۃ کا اِلہام فرما دِیا گیا تھا([79]) اور جھولے میں تھے جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوَّت عطا کر دی گئی اور اس حالت میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے۔([80])بعض مفسرین نے آیت کے معنی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوَّت اور کِتاب ملنے کی خبر تھی جو


 عنقریب آپ کو ملنے والی تھی۔([81])

اِنْعَاماتِ اِلٰہیہ اور بعض صِفَات کا تذکِرَہ

اس کے بعد خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِنْعَامات اور اپنی بعض صِفَات کا ذِکْر کرتے ہوئے فرمایا:
وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ(۳۱)وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(۳۲)وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا(۳۳) (پ١٦، مريم:٣١-٣٣)
 ترجمۂ کنزالایمان: اور اس نے مجھے مُبَارَک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مَروں گا اور جس دن زندہ اُٹھایا جاؤں گا۔
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ جب تک آدمی زندہ ہے اور کوئی ایسا شرعی عُذْر نہیں پایا جا رہا جس سے عِبَادت ساقِط ہو جائے تب تک شریعت کی طرف سے لازِم کی گئی عِبَادات اور دئیے گئے احکامات کا وہ پابند ہے([82]) جیسا کہ آپ نے فرمایا:  \ör¤یعنی جب تک میں زمین پر زندہ رہوں تب تک اس نے مجھے نماز کا مکلّف ہونے پر اسے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے قابِل مال ہونے کی صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔([83]) صِرَاط الجنان میں ہے: اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو شیطان کے بہکاوے

 میں آ کر لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی معْرِفت کے اتنے اَعْلیٰ مقام پر فائز ہو چکے ہیں کہ اب ہم پر کوئی عِبَادت لازِم نہیں رہی اور ہر حرام وناجائز چیز ہمارے لئے مُبَاح (جائز) ہو چکی ہے۔ جب مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ مَعْرِفت رکھنے والی اور سب سے مُقَرَّب ہستیوں یعنی انبیا ورُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَ السَّلامُ سے عِبَادات ساقِط نہیں ہوئیں بلکہ پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مُقرَّب بندے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معْرِفت رکھنے والے یعنی ہمارے آقا مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے بھی عِبَادات ساقِط نہیں ہوئیں تو آج کل کے جاہِل اور بناوٹی صُوفیا کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم سے عِبَادات ساقِط ہو چکی ہیں۔ ایسے بناوٹی صُوفی شریعت کے نہیں بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں اور اس کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے دِین، مذہب اور ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کے شر سے ہمیں مَحْفوظ فرمائے۔([84])

حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی براءَت

واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس کلام سے وہ تہمت بھی رَفع ہو گئی جو آپ کی والِدَہ ماجِدَہ طَیِّبَہ طاہِرہ عفیفہ حضرت سیِّدَتُنا مریَم بَتُول رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاپر لگائی گئی تھی کیونکہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے بِالیقین (یعنی یقینی طور پر) اُس کی وِلادت اور اُس کی فطرت نِہَایت پاک وطاہِر ہے([85]) یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ معجزہ دیکھا تو انہیں حضرت مریم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی

 براءَت وطَہارت کا یقین ہو گیا اور انہوں نے کہا: ضرور یہ کوئی بڑا مُعَامَلہ ہے۔([86])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بےنِیازی بھی خوب ہے کہ کبھی تو اپنے محبوب بندوں کو دُشمنوں کے ذریعے مَصَائب وآلام میں مبتلا کر کے ان کے دَرَجات بلند فرماتا ہے اور کبھی دُشمنوں سے ان کی حِفاظت وبراءَت کا ایسا انتظام فرماتا ہے کہ دیکھنے والے دَنگ رہ جاتے ہیں اور اس طرح پورے عالَم پر ان کی عظمت اور مقام کی رِفْعَت (بلندی) آشکار ہو جاتی ہے۔ دیکھئے! ایک وِیران بیابان میں اس خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے کھانے پینے کا کیسا خوب سامان کیا اور کس خوبی سے ان کی براءَت وطَہارت ظاہِر فرمائی،  سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! اس سے خُدا تعالیٰ کی قدرتِ کامِلہ کا اظْہار ہوتا ہے۔ نیز ان واقِعات سے حضرت سیِّدَتُنا مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی ثابِت قَدَمی اور صبر واستقامت کا پہلو بھی واضح ہوا کہ سخت مشکل لمحات اور بے حد صبرآزما گھڑیوں میں بھی انہوں نے شکوہ وشکایَت  اور بےصبری کا مُظَاہَرہ نہ کیا، راضی بہ رِضا رہیں بلکہ لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کے اندیشے سے کہا:
یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(۲۳) (پ١٦، مريم:٢٣)
ترجمۂ کنزالایمان: ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔
آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اس طرزِ فکْر سے ہمیں یہ مدنی پھول حاصل ہوا کہ بندے کو چاہئےکہ مَصَائب وآلام سے گھبرا کر کبھی زبان پر شِکْوہ وشِکایت نہ لائے، ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہے اور صبر واستقامت کا دامَن مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھے کہ یہی اللہ والوں کی شان ہے اور یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر انسان جنت کی اَبَدی نعمتوں سے سرفراز ہو سکتا ہے۔ یاد رکھئے کہ زبان پر شکوہ وشِکایت لانے اور بےصبری کا مُظَاہَرہ کرنے سے صبر کا اجْر تو ضائع ہو سکتا ہے لیکن مصیبت دُور نہیں ہو سکتی۔
؎     زبان پر شکوۂ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

حُصُولِ رِزْق کی کوشش خِلَافِ تَوَکُّل نہیں

ان واقعات سے یہ مدنی پھول بھی حاصِل ہوا کہ حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنا اور اس کے لیے اسباب اختیار کرنا تَوَکُّل کے خِلَاف نہیں، دیکھئے! اللہ رَبُّ العزّت نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو کھجور کی جڑ پکڑ کر ہِلانے کا حکم فرمایا حالانکہ جس کے حکم سے خشک دَرَخْت تروتازہ ہو کر پل بھر میں پھل آور ہو سکتا ہے یقیناً وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ اس پر بھی قادِر ہے کہ بغیر کسی مشقت کے اِن کے پاس کھجوریں آ گرتیں لیکن ایسا نہ ہوا اور اِنہیں جڑ ہِلانے کا حکم دیا گیا، اس میں حُصُولِ رِزْق کے لیے کوشش کرنے اور کام کاج کرنے کی تعلیم ہے۔ انسان کو چاہئے کہ کوشش ترک کر کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بےکار نہ بیٹھا رہے بلکہ محنت کرے اور جو ظاہِری اسباب مُقَرَّر ہیں انہیں اختیار کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا فضل تلاش کرے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا کرَّمَ اللهُ تَعَالٰی وَجْهَهُ الْکَرِیْم کے یہ اشعار اسی مفہوم کی جانِب اشارہ کرتے ہیں:
؎     اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ قَالَ لِمَرْيَمَ
وَهُزِّیْ اِلَيْكِ الْجِذْعَ تُسَاقِـطِ الرُّطَب
وَلَوْ شَاءَ مَالَ الْجِذْعُ مِنْ غَيْرِ هَزِّهَا
اِلَيْهَا وَلٰكِنِ الْاُمُوْرُ لَهَا سَبَب


تَوَكَّلْ عَلَى الرَّحْمٰنِ فِیْ كُلِّ حَاجَةٍ
وَلَا   تَتْرُكَنَّ   الْجُهْدَ   فِیْ   كَثْرَةِ   التَّعَب([87])
یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے فرمایا کہ کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہِلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی حالانکہ اگر وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو ان کے ہِلائے بغیر جڑ اپنے آپ ہی ان کی طرف جھک جاتی (لیکن ایسانہیں ہوا یہ اس لیے کہ دنیا عالَمِ اسباب ہے اور یہاں) ہر کام کا کوئی نہ کوئی سبب مقرر ہے لہٰذا تم ہر حاجت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہی بھروسا کرو اور سخت تھکے ہوئے ہونے کے باوجود کوشش کرنا مت چھوڑو۔

تَوَکُّل ترکِ اسباب کا نام نہیں

یاد رہے کہ تَوَکُّل اسباب کے ترک کا نام نہیں یعنی یہ نہیں کہ آدمی اسباب سے تَعَلُّق توڑ کر بیٹھا رہے اور کہے: اللہ تعالیٰ ہر شے پرقدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش بھی رَوزی دے گا۔ بلاشبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، کوئی شے اس کی قدرت سے باہَر نہیں اور اس کی قدرت کسی سبب اور علَّت کی بھی محتاج نہیں لیکن اس نے خود ہی اپنی حکمت کے مُطَابِق اس دنیا کو عالَمِ اسباب بنایا ہے جہاں ہر شے کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق ہے اس لیے عُلَما فرماتے ہیں کہ عالَمِ اسباب میں رہ کر ترکِ اسباب گویا اِبْطَالِ حکمتِ الٰہیہ ہے۔([88]) (یعنی چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی حکمت کے مطابق دنیا میں ہر شے کو کسی نہ کسی سبب سے مُتَعَلِّق فرمایا ہوا ہے لہٰذا دنیا میں رہتے ہوئے اسباب سے منہ موڑنا اور انہیں چھوڑ دینا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حکمت کو باطِل کرنا ہے۔) مَروِی ہے کہ ایک زاہِد آبادی سے کِنارہ کشی کر کے پہاڑ کے دامَن میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا: جب تک اللہ

عَزَّ وَجَلَّ مجھے میرا رِزْق نہ دے گا میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ ایک ہفتہ گزر گیا اور رِزْق نہ آیا، جب مرنے کے قریب ہو گیا تو بارگاہِ الٰہی میں عرض گُزَار ہوا: اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! تُو نے مجھے پیدا کیا ہے لہٰذا میری تقدیر میں لکھا ہوا رِزْق مجھے عطا کر دے ورنہ میری روح قبض کر لے۔ غیب سے آواز آئی: میری عزّت وجلال کی قسم! میں تجھے رِزْق نہیں دوں گا یہاں تک کہ تو آبادی میں جائے اور لوگوں کے درمیان بیٹھے۔ زاہِد آبادی میں گیا اور بیٹھ گیا، کوئی کھانا لے کر آیا تو کوئی پانی لایا، زاہِد نے خوب کھایا اور پیا لیکن دل میں شک پیدا ہو گیا تو غیب سے آواز آئی: کیا تو اپنے دنیاوِی زُہد سے میرا طریقہ بدل دینا چاہتا ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ اپنے دستِ قدرت سے لوگوں کو رِزْق دینے کے بجائے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ لوگوں کے ہاتھوں سے لوگوں تک رِزْق پہنچاؤں۔([89])