News Ticker

Latest Posts

Owais Raza Qadri crying at Live New Mehfil e Naat Must Watch It

- Sunday, 21 April 2019 No Comments

Owais Raza Qadri crying at Live

New Mehfil e Naat Must Watch It



Owais Raza Qadri crying at Live New Mehfil e Naat Must Watch It









Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 19th April 2019 Rawalpindi

- Saturday, 20 April 2019 No Comments

Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 

19th April 2019 Rawalpindi



Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 19th April 2019 Rawalpindi





سب سے پہلے مہندی کس نے لگائی؟

سُوال :سب سے پہلے مہندی اور کَتَم کا خِضاب کس نے کیا؟نیز سیاہ  خِضاب کس نے شروع کیا ؟
جواب:سب سے پہلے مہندی اور کَتَم کا خِضاب حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کیا جبکہ سیاہ خِضاب سب سے پہلے فرعون نے کیا جیسا کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: سب سے پہلے مہندی اور کَتَم کا خِضاب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کیا اور سب سے پہلے سیاہ خِضاب فرعون نے کیا۔([41])

سفید داڑھی میں مہندی لگانے کی فضیلت

سُوال :کیا سفید داڑھی میں مہندی لگانے کی بھی کوئی فضیلت ہے؟
جواب:جی ہاں۔حضرتِ سیِّدُنا علّامہ جلالُ الدّین سُیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ’’شرح الصُّدور‘‘میں نَقْل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفوعاً رِوایت ہے:جوشخص اس حالت میں فوت ہوا کہ اس نے ( کالے خِضاب کے علاوہ مثلاً لال یا زَرد مہندی کاخِضاب  کیا ہوا تھا، منکر،نکیر اس سے قبر میں سوال نہیں کریں گے، منکر کہے گا: اے نکیر! اس سے سوال کرو۔ نکیر جواب دے گا کہ میں اس سے کیسے سوال کروں حالانکہ اس کے چہرے  پر اسلام کا نور ہے۔([42])

خوشی کے موقع پرمَرد کا ہاتھوں میں مہندی لگانا کیسا؟

سُوال :کیاعید یا  شادی وغیرہ خوشی  کے مَواقع پر مَرد اپنے  ہاتھوں میں  مہندی لگا سکتے ہیں؟
جواب:مَرد عید یا  شادی وغیرہ خوشی  کے مَواقع پر بھی  اپنے  ہاتھوں میں مہندی نہیں لگا سکتے کیونکہ مہندی لگانے سے عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے اور عورتوں کی مشابہت اِختیار کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں ایک مُخَنَّث کو حاضِر کیا گیا جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔ اِرشادفرمایا:اِس کا کیا حال ہے؟ (یعنی اِس نے مہندی کیوں لگائی ہے؟) لوگوں نے عرض کی:یہ عورَتوں سے مُشابہَت کرتا ہے۔ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا:اسے شہر بد ر کر دولہٰذا اس کو شہر بدر  کر دیا  گیا، مدینہ سے نکال کر نَقِیع ([43])  کو بھیج دیا گیا۔([44])
مَرد تو مَرد چھوٹے بچوں کو بھی مہندی  لگانے کی ممانعت ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے چھوٹے بچّوں کے ہاتھ پاؤں مہندی سے  نہ رنگیں کہ  فتاویٰ عالمگیری میں ہے:بِلاضرورت چھوٹے بچوں کے ہاتھ پاؤں میں مہندی نہیں  لگانی چاہیے ، عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں مہندی لگا نا جائز ہے ۔ ([45]) ہاں بچیوں کے ہاتھ پاؤں میں مہندی  لگانے میں حرج نہیں جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: لڑکیوں کے ہاتھ

 پاؤں میں(مہندی) لگا  سکتے ہیں جس طرح ان کو زیور پہنا سکتے ہیں۔([46])
سُوال :کیا بچّے کو دودھ پلانے سے عورت کاوُضُو ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب: بچّے کو دودھ پلانا نواقضِ وضو (یعنی وہ چیزیں جو وضو کو توڑ دیتی ہیں ان)میں سے نہیں لہٰذا بچّے کو دودھ پلانے سےعورت کاوُضُو نہیں ٹوٹتا۔  
٭٭٭
٭٭٭٭٭٭

رِزق میں  برکت کا وظیفہ

       دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ کے صفحہ 128پر ہے:ایک صحابی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خدمت ِاقدس (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوئے اور عرض کی: دُنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی۔ فرمایا: کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے۔ خلقِ دُنیا آئے گی تیرے پاس ذَلیل و خوار ہو کر ، طلوعِ فجر کے ساتھ سو بار کہا کر ’’سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ‘‘  اُن صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سات دن گزرے تھے کہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی:حضور! دُنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی، میں حیران ہوں کہاں اُٹھاؤں کہاں رکھوں! (لسان المیزان،  حرف العین،۴/۳۰۴، حدیث: ۵۱۰۰، زرقانی علی المواھب،ذکر طبه  صلی الله علیه وسلم من داء الفقر،۹/۴۲۸ واللفظ له)


فہرست

            عنوان
صفحہ
عنوان
صفحہ
دُرُود شریف کی فضیلت
2

صرف ماں کے سیِّدہ ہونے سے اولاد سیِّد نہیں ہوتی

21
مسجد کے دائیں کونے میں دو معلّق تخت
2
فیضانِ سُنَّت کے دَرْس کی اَہمیت و فضیلت
22
6
فیضانِ سُنَّت کے دَرس سے روکنا کیسا؟
25
فاسقِ مُعْلِن کو عملیات کی وجہ سے ولی کہنا کیسا؟
7
دَرْس  سے روکنے والوں کو کیسے راضی کیا جائے؟
30
ولی ہونے  کے لیے اِیمان وتقویٰ شرط ہے
11
کھجورسے روزہ اِفطارکرنے میں حکمت
31
کرامات کا ظہور خاتمہ بالایمان کے لیے سَنَد نہیں
13
”حلیم“ کو”کھچڑا“ کہنے کی وجہ
33
اَورادِ عطّاریہ کی مدنی  بہار
14
تفریحاً شکار کرنا کیسا؟
34
سر یا چہرے پر تھپڑ مارنا کیسا؟
16
کیا سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مہندی لگائی؟
35
وَلدیت تبد یل کرنے کا حکم
17
سب سے پہلے مہندی کس نے لگائی؟
36

شادی کارڈ میں قصداً کسی اور  کا نام بطورِ باپ لکھناکیسا؟

18
سفید داڑھی میں مہندی لگانے کی فضیلت
37

لے پالک بچے کی وَلدیت تبدیل کرنا  کیسا؟

19
خوشی کے موقع پرمَرد کا ہاتھوں میں مہندی لگانا کیسا؟
37

بَہُو کا اپنے سُسَر کو” ابّا جان“ کہنا کیسا؟

20
بچّے کو دودھ پلانے سے عورت کاوُضُو نہیں  ٹوٹتا
39
                                                                  




Owais Raza Qadri Naats New Mehfil e Naat 19th April 2019 at Faisalabad

- No Comments

Owais Raza Qadri Naats New Mehfil e Naat 19th April 2019 at Faisalabad



Owais Raza Qadri Naats New Mehfil e Naat 19th April 2019 at Faisalabad


Hafiz Tahir Qadri Latest Live Mehfil e Naat 18 April 2019 at Kharian District Gujrat

- Friday, 19 April 2019 No Comments

Hafiz Tahir Qadri Latest Live Mehfil e Naat 18 April 2019 at Kharian District Gujrat


Hafiz Tahir Qadri Latest Live Mehfil e Naat 18 April 2019 at Kharian District Gujrat



Owais Raza Qadri Naats Live New Mehfil e Naat 18 April 2019 at Karachi

- No Comments

Owais Raza Qadri Naats Live New Mehfil e Naat 18 April 2019 at Karachi


Owais Raza Qadri Naats Live New Mehfil e Naat 18 April 2019 at Karachi


Symptoms of Depression and Treatment by Dr۔ Dost Muhammad Courtesy Madani Channel

- Tuesday, 16 April 2019 No Comments

Symptoms of Depression and Treatment by Dr۔ Dost Muhammad Courtesy Madani Channel



Symptoms of Depression and Treatment by Dr۔ Dost Muhammad Courtesy Madani Channel





نام، نسب اور کُنْیَت

حضرت اُمِِّ سُلَیْم کا نسب

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والِد کا نام مِلْحَان اور والدہ کا نام مُلَیْکَہ ہے۔ والِد کی طرف سے نسب اس طرح ہے: اُمِّ سُلَیْم بِنْتِ مِلْحَان بن خَالِد بن زَيْد بن حَرَام بن جُنْدُب بن عَامِر بن غنم بن عَدِیّ بن نَجَّار([30]) (تَیْمُ اللهبن ثَعْلَبَه بن عمرو بن خَزْرَج ([31]) اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: اُمِّ سُلَیْم بِنْتِ مُلَيْكَة بِنْتِ مالِك بن عَدِیّ بن زَيْد مناة بن عَدِیّ بن عمرو بن مالِك بن نَجَّار۔([32])

نام

آپ کے نام کے بارے میں بہت اَقوال ہیں مثلاً سَھْلَہ یا رُمَیْلَہ یا رُمَیْصَاء یا غُمَیْصَاء وغیرہ۔([33])

کنیت

آپ کی مشہور کنیت اُمِّ سُلَیْم ہے اس کے عِلاوہ ایک کنیت اُمِّ اَنَس بھی آئی ہے۔([34])


قبیلہ

مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَہَا اللہُ شَرۡفًا وَّ تَعۡظِیۡمًا کی سرزمین پر دو بڑے قبیلے ایک اَوْس اور دوسرا خَزْرَج آباد تھے۔ انہیں اور ان کے حلیف قبیلوں کو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصار کا لقب عطا فرمایا تھا۔“([35]) ان دونوں میں سے ہر ایک کی آگےبہت شاخیں ہیں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا  تعلق قبیلہ خَزْرَج کی ایک شاخ بنو نجَّار سے ہے، اس لحاظ سے آپ خزرجیہ نجَّاریہ ہیں۔([36])

قبیلے کی قدر ومنزلت

بنو نجَّار بڑا قدر ومنزلت کا حامِل قبیلہ ہے کیونکہ اس کی فضیلت میں خود پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے فرامین وارِد ہیں جیساکہ بخاری شریف میں حضرت سیِّدنا ابوحُمَیْد ساعِدی رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  سے مروی ہے کہ  نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: بےشک انصار کے گھرانوں میں  بہترین گھرانہ بنو نجار کا ہے،اس کے بعد عَبْدُالْاَشہل کا پھر بنو حارث کا اور  پھر بنو ساعِدہ  کا الغرض انصار کے سب گھرانے ہی بہترین ہیں۔([37])نیز یہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے دادا جان کا ننہال بھی ہے یعنی  حضرت سیِّدنا عَبْدُ الْمُطَّلِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والِدہ اسی قبیلے سے تھیں اور جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم (ہجرت فرما کر) مدینہ طَیِّبہ تشریف لائے تو اسی قبیلے (کے ایک صحابی حضرت ابواَیُّوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے

 شرفِ میزبانی سے نوازا تھا۔([38]) اس کے عِلاوہ کئی مشہور اور جلیل القدر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا تَعَلُّق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ یہاں ان میں سے چند کا ذِکْر کیا جاتا ہے:
·         حضرت سیِّدنا حسّان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ([39]): جلیل القدر صحابی اور دربارِ رِسالت کے مشہور شاعِر ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے اَشْعَار میں گستاخانِ رسول کی گستاخیوں کا ردّ فرماتے اور سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح میں اشعار نظم کرتے تھے۔
·         حضرت اُبَیّ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ([40]): کاتِبِ وحی اور بہت بڑے قاری ہیں۔ اُن چھ۶ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں جنہوں نے زمانۂ نبوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں قرآن مجید حِفظ کیا اور ان فقہا صحابہ میں سے ہیں جو زمانۂ نبوی میں فتویٰ دیتے تھے۔ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو سیِّدُ الْاَنْصَار (انصار کے سردار) کے خطاب سے نوازا۔([41]) بدر اور دیگر غزوات میں شریک ہوئے، امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  آپ کو سَیِّدُ الْمُسْلِمِیْن (مسلمانوں کے سردار)کے لقب سے پکارتے تھے۔([42])
·         حضرت ابو اَیُّوب خالِد بن زید انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ ([43]): یہی وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں سرکارِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ شریف آمد

کے بعد شرفِ میزبانی سے نوازا تھا۔([44])
·         حضرت مُعَاذ اور حضرت مُعَوِّذ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمَا([45])یہ اسلام کے وہ شاہین صفت کم سن مُجَاہِدین ہیں جنہوں نے غزوۂ بدر میں شریک ہو کر لشکرِ کفار کے سپہ سالار ابوجہل کو موت کے گھاٹ اتارا تھا، چنانچہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: ”کِلَاکُمَا قَتَلَہٗتم دونوں نے اسے قتل کیا۔“([46])
·         حضرت سَہْل اور  حضرت سُہَیل رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُمَا([47]): یہ دونوں مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ کے ننھے یتیم مدنی منّے ہیں۔ زمین کا وہ مُبَارَک ٹکڑا جسے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے مسجدِ نبوی شریف کی تعمیر کے لیے خرید فرمایا، ان ہی دونوں بھائیوں کی مِلک تھا۔([48])

حضرت اُمِّ سُلَیْم اور کی رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے رشتہ داری

مفسر شہیر، حکیم الاُمَّت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نقل فرماتے ہیں: (حضرت اُمِّ سُلَیْم اور ان کی بہن) حضرت اُمِّ حرام (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی مَحرمہ ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔گفتگو اس میں ہے کہ مَحرمہ کیوں تھیں یا تو آپ کی رضاعی خالہ ہیں یا حضرت عَبْدُالله کی خالہ ہیں یا عَبْدُالْمُطَّلِب کی کیونکہ عَبْدُاللہ اور

 عَبْدُ الْمُطَّلِب بنونجَّار کے رشتہ دار ہیں۔([49])      

نِکاح اور خاندان

پہلا نِکاح اور اولاد

قبولِ اسلام سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نِکاح قبیلہ بنو نجَّار ہی کے ایک شخص مالِک بن نَضَر سے ہوا تھا([50]) اور اس سے آپ کے دو بیٹوں بَراء اور اَنَس کا ذِکْر ملتا ہے۔([51]) ان دونوں نے بھی اسلام قبول کرنے کی سَعَادت حاصل کی اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا۔
·         حضرت بَراء بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: غزوۂ اُحُد، خندق اور بعد کے غزوات میں سرکارِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہوئے، جنگ میں بہت بہادری سے لڑا کرتے تھے اور دشمن پر غالب آتے تھے۔([52]) پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس کتنے ضعیف لوگ ہیں جنہیں بہ ظاہِر کمزور و ناتُواں سمجھا جاتا ہے لیکن اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر قسم کھا لیں تو ضرور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی قسم کو پورا فرما دے گا، بَرا بن مالِک بھی انہی لوگوں میں سے ہے۔“([53])


؎  بکھرے بال، آزردہ صورت ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت
بدر! مگر یہ شان ہے ان کی بات نہ ٹالے رَبُّ العزت
·         حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: مشہور صحابی اور حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے خادمِ خاص ہیں، کنیت ابو حمزہ ہے، خلافتِ فاروقی میں بصرہ منتقل ہو گئے تھے  اور وہیں انتقال فرمایا، آپ بصرہ کے آخری صحابی ہیں، بوقتِ وفات عمر مُبَارَک ننانوے برس یا ایک سو تین برس تھی۔ آپ کی کثیر اولاد ہوئی، بہت مخلوق نے آپ سے روایات لیں۔([54]) کہا گیا ہے کہ آپ سے ایک ہزار دو سو چھیاسی (1286احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک سو اڑسٹھ (168) حدیثیں مُتَّفَق عَلَیْہ (یعنی بخاری و مُسْلِمدونوں میں ) ہیں اور 83 احادیث صرف بخاری میں  اور 71 صرف مُسْلِم میں ہیں۔([55])

مالِک بن نَضَر کا قتل

مروی ہے کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے اسلام قبول کرنے کے وَقْت مالِک بن نَضَر ان کے پاس موجود نہیں تھا، جب وہ آیا (اور اسے ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر ملی تو) کہنے لگا: کیا تم بے دینہوگئی ہو؟ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: میں بے دین نہیں ہوئی بلکہ اس شخص (یعنی سیِّدِ انس و جاں، رحمتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم) پر ایمان لے آئی ہوں۔([56]) اسلام قبول کرنے کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنی اولاد کو بھی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے میں مصروف ہو گئیں چنانچہ رِوَایَت ہے کہ آپ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو

 (جو اس وَقْت بہت کم عمر تھے) کلمۂ شہادت کی تلقین کرتے ہوئے فرماتیں، کہو: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ، کہواَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ تو حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی طرح کہنے لگے۔ یہ دیکھ کر ان کے والِد مالِک بن نَضَر نے آپ سے کہا کہ میرے بیٹے کو مت بگاڑ۔ فرمایا: میں اسے بگاڑ نہیں رہی۔([57]) اس واقعے کے بعد مالِک بن نَضَر ملک شام کے سفر پر روانہ ہوا،([58]) تو راستے میں کسی دشمن سے ٹکڑاؤ ہو گیا اور اُس نے اِسے قتل کر ڈالا۔([59])

حضرت اُمِّ سُلَیْم کا دوسرا نکاح

مالِك بن نَضَر کے قتل کے کچھ عرصے بعد جبکہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا عِدَّت گزار چکی تھیں تب حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا۔ ان کا تَعَلُّق بھی قبیلہ بنونجَّار سے تھا لیکن ابھی تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اس لئے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انکار کر دیا اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کی شرط لگا دی۔([60])مروی ہے کہ آپ نے ان سے فرمایا: اے ابو طلحہ! تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارا معبود جس کی تم عبادت کرتے ہو محض ایک درخت ہے جو زمین سے اُگا اور فلاں قبیلے کے حبشی نے اسے تراش (کر کسی بت کی شکل میں بدل) دیا؟ ابو طلحہ نے کہا: ہاں! کیوں نہیں۔ فرمایا: تو کیا زمین سے اگنے والی ایک لکڑی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے تمہیں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی جسے فلاں قبیلے کے حبشی نے تراش (کر بت کی شکل میں بدل) دیا ہے...!! پھر فرمایا: لہٰذا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی عِبادت کے لائق نہیں اور حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں (اگر تم ایسا کرو) تو میں تم سے شادی کر لوں گی اور اس کے عِلاوہ کچھ مہر بھی نہیںمانگوں گی۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سوچنے کی مہلت مانگی اور واپس چلے گئے، پھر جب آئے تو ایمان ان کے دل میں سرایت کر چکا تھا اور کہنے لگے: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور

حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم اس کے رسول ہیں۔
اس کے بعد حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ان کے ساتھ نِکاح ہو گیا۔([61])

حضرت ابوطلحہ کا مختصر تَعَارُف

حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام زید ہے لیکن کنیت سے مشہور ہیں، اعلیٰ درجے کے تیر انداز تھے۔ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ لشکر میں ابوطلحہ کی صرف آواز بڑی جماعت سے بہتر ہے۔ بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں کے ساتھ آپ آئے تھے پھر غزوۂ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامِل ہوئے۔([62])

اس نِکاح سے اولاد

اس نکاح سے بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اولاد کی نعمت سے بہرہ مند ہوئیں، حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  سے آپ کے دو۲ شہزادوں ابوعمیر اور عَبْدُ الله کا ذِکْر ملتا ہے، دونوں نے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا اور بڑے فضائل وکمالات کے حامِل ہوئے۔


·           حضرت ابوعمیر بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: ان کا نام كبشہ ہے۔([63]) حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ان پر بہت شفقت فرماتے تھے اور ازراہِ لطف وعنایت بعضاوقات خوش طبعی بھی فرمایا کرتے تھے۔ کم عمری میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، جس کا پورا واقعہ شروع میں بیان ہو چکا ہے۔
·         حضرت عَبْدُ اللہ بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ غزوۂ حنین کے بعد پیدا ہوئے۔ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے خود ان کی تحنیک([64]) فرمائی۔ ایک قول کے مطابق انہوں نے 84ھ میں مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ میں انتقال فرمایا۔([65]) ان کی اولاد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے بڑے عُلَما اور صلحا (نیک وپرہیزگار افراد) پیدا فرمائے۔

چند اور شرف        صحابیت پانے والے رشتہ دار

حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے عزیز واقارب میں سے جن افراد کو سروَرِ عالم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا عظیم شَرَف نصیب ہوا ان میں سے چند کے نام اور مختصر تَعَارُف یہاں ذِکْر کیا جاتا ہے، ملاحظہ کیجئے: 
·         حضرت مُلَیْکَہ بنتِ مالِک انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والِدہ ہیں۔([66]) ايك بار پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی دعوت پر ان


 کے گھر تشریف لائے اور کھانا تَنَاوُل فرمانے کے بعد دو رکعت نماز پڑھائی چنانچہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ان کی نانی حضرت مُلَیْکَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نےرَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے پر بُلایا جو آپ کے لئے تیار کیا تھا۔ آپ نے تَنَاوُل فرمایا پھر فرمایا کہ کھڑے ہوجاؤ تا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اُٹھا جو زیادہ عرصہ گزر جانے کے باعث کالی ہو گئی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہو گئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی اور بوڑھی امّاں ہمارے پیچھے تھیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر تشریف لے گئے۔([67])
·          حضرت سُلَیْم بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے بھائی ہیں۔([68]) غزوۂ بدر اور اُحُد میں شرکت کی۔([69]) انصار کے 70 قُرَّاء صحابہ میں سے ہیں۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  فرماتے ہیں: ان 70 کا حال یہ تھا کہ جب رات ہوتی تو مدینہ طَیِّبہ میں اپنے مُعَلِّم کے پاس چلے جاتے اور ساری رات قرآن پاک سیکھنے میں گزار دیتے اور دن میں جو طاقت ور تھے وہ لکڑیاں جمع کرتے اور پانی بھر کر لاتے اور صاحبِ حیثیت بکریاں چرا کر گزر بسر کرتے اور صبح ہوتے ہی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے حجرۂ مُبَارَکہ کے قریب جمع ہو جاتے۔([70]) حضرت سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ


 نے ان 70صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سمیت سانحہ بئرِ معونہ([71])  میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
·         حضرت زید بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: یہ بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے بھائی ہیں۔([72]) غزوۂ اُحُد میں شرکت کی([73]) اور جنگِ جِسْر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔([74]) جنگ جِسْر رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے آخر میں 13 ہجری  کو لڑی گئی۔([75]) یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  کا دورِ خلافت تھا۔
·         حضرت حرام بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سگے


 بھائی ہیں۔([76]) غزوۂ بدر اور اُحُد میں شرکت کی۔([77]) انصار کے 70 قُرَّاء صحابہ میں آپ بھی ہیں اور انہیں کے ساتھ سانحہ بئرِ معونہ  میں جام شہادت نوش فرمایا۔
نوٹ: آپ کے ایک اور بھائی کا ذِکْر بھی ملتا ہے ان کا نام عبّاد ہے۔([78]) ان کے بارے میں تفصیل معلوم نہ ہو سکی۔
·         حضرت اُمِّ حَرام بنت ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سگی بہن ہیں۔([79]) حضرت سیِّدنا عُبَادَہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  کی اہلیہ ہیں۔([80]) ایک روز سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ان کے ہاں محوِ آرام تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے مسکرانے  کا سبب پوچھا تو فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھے دکھائے گئے جو راہِ خدا میں جہاد کے لیے اس سمندر (یعنی بحیرۂ عرب) کے سینے پر ایسے سوار ہوں گے جیسے بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: حُضُور! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ان کے لیے دُعا فرمائی۔([81]) چنانچہ سمندری راستے سے اسلام کا سب سے پہلا لشکر امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں روم کی طرف روانہ ہوا اس میں حضرت اُمِّ حَرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی اپنے شوہر کے ساتھ شریک تھیں اور اسی دوران ایک سواری سے گِر کر آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

·          یہ 28 ہجری کا واقعہ ہے۔([82]) آپ کا مزارِ اقدس قبرص کے مقام پر واقع ہے۔([83])
·         حضرت اُمِّ عَبْدُ الله بنتِ ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن ہیں۔ اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا۔

Related Topics: mental health, depression, mental illness, medicine, science, medscape, major depressive disorder, depressed, depression symptoms, connections, depressed people, severe depression, psychology, depressive disorder, why am i depressed, functional depression, osmosis, hair pulling, are you depressed, am i depressed, trichotillomania, lack of energy, can't sleep, insomnia, high functioning depression, self harm, depression signs, loss of appetite, depresion, symptoms of depression, signs of depression, people in depression, medscaped education, medical student resources, studying, medical student, sad, physician, videos for med students, med student videos