News Ticker

Muhammad Owais Raza Qadri | Mahfil e Naat at Islamabad April 2018

By Sadqe Ya Rasool Allah - Tuesday, 17 April 2018 No Comments

قصہ ٔقارون

گزرے ہوئے وقتوں کی بات ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک شخص تھا جس کانام قارون تھا ،اس نے لوگوں پر بہت ظلم کرنا شروع کردیا،اللہ نے اس کو ڈھیرسارامال عطاکررکھاتھا،اس کے پاس مال اتنی وافرمقدار میں تھا کہ اس کے خزانوں کی چابیاں ایک بہت بڑی جماعت اٹھایاکرتی تھی،اس کو اپنے اس مال پر بہت گھمنڈ اورفخرتھا، ایک دن یہ اپنے مال ومتاع کے ساتھ بڑی تاب میں اپنے گھر سے نکلا، بڑے تکبر کے ساتھ چل رہاتھا۔
اس کی قوم والو ں نے اس سے کہا کہ تم اپنے اس مال پرفخر اورتکبرمت کرو، اور جو اللہ رب العزت نے تمہیں مال عطا کیا ہے اس کوغرباء ومساکین پرخرچ کرکے اپنے لئے آخرت میں ذخیرہ کرلو،اور زمین میں سکون سے زندگی بسر کر اور لوگوں پرظلم مت کر۔ اس نے کہا یہ مال تو میری اپنی محنت کانتیجہ ہے یہ مال مجھے کسی نے نہیں دیا، وہاں کچھ لوگ موجود تھے انہوں نے قارون کو دیکھ کر کہا کہ کاش ہمیں بھی اس جیسا مال ومتاع دیاجاتا۔ وہاں کچھ اہل علم بھی موجود تھے انہوں نے ان سے کہا کہ تم اس مال کی خواہش کررہےہو بلکہ تمہیں چاہئے کہ تم اچھے اعمال کرکے اپنے رب سے اس کاصلہ لو۔
بس اتنی دیر تھی کہ اللہ رب العزت کو قارون کا یہ عمل پسند نہ آیا اور اللہ رب العزت نے اِس کو اِس کے مال ومتاع اور لشکر سمیت زمین میں دھنسادیا۔
اس واقعے سے ہمیں کچھ اسباق ملتے ہیں:
1-اللہ رب العزت کی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کیاجائے۔
2-جو مال اللہ رب العزت نے عطاکیا ہے اس کو ایسی جگہ پر خرچ کیاجائے جہاں خرچ کرنے سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہو۔
3-جو مال اللہ نے عطا کیا ہے اس پر اللہ کا شکرادا کیاجائے اور لوگوں کو اپنے آپ سے حقیر نہ سمجھاجائے۔
4-کسی کے پاس کوئی اچھی چیز نظرآئے اس پر اللہ رب العزت سے وہ چیز طلب کی جائے اور اگرکوئی بری چیز نظرآئے تو اس سے اللہ رب العزت کی پناہ طلب کی جائے۔
5-اللہ تعالیٰ جتنا مال عطاکرے اس پر قناعت اختیارکی جائے۔
6-جس کے لئے اللہ رب العزت عذاب کافیصلہ کردے پھر اللہ کے عذاب سے اس شخص کو کوئی نہیں بچاسکتا۔
یہ واقعہ سورۃ القصص کے رکوع نمبر7سے ماخوذہے۔

حافظ فیصل یاسین


ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں باہر نکلاتو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ۔ ابوذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے ۔ اس لئے میں چاند کے سائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابوذر ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابوذر ! یہاں آؤ ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو لوگ ( دنیا میں ) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے ۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیاہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں ، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو ۔

Sahih al-Bukhari 6443


Muhammad Owais Raza Qadri | Mahfil e Naat at Islamabad April 2018



Tags:

No Comment to " Muhammad Owais Raza Qadri | Mahfil e Naat at Islamabad April 2018 "