News Ticker

Owais Raza Qadri | Talking against Selfies of Facebook and Whats up | Must Watch It.

By Sadqe Ya Rasool Allah - Wednesday, 25 April 2018 No Comments

Owais Raza Qadri | Talking against Selfies of Facebook and Whats up | Must Watch It.



Owais Raza Qadri | Talking against Selfies of Facebook and Whats up | Must Watch It.




گھریلواورخانگی زندگی بڑی اہمیت کی حامل ہے،زندگی کایہ شعبہ سکون بخش اورنشاط انگیزہوتویہ نہ صرف ایک گھرکے لیے نافع اورسودمندثابت ہوتاہے؛بلکہ اس سے نوواردمہمان کی صحیح اورٹھوس تربیت ہوتی ہے اوراس کے اخلاق ورجحانات کی تعمیربھی ہوتی ہے اورخاندانی نظام کی بقا اوراستحکام بھی اسی پرموقوف ہے اوراگرخدانخواستہ زندگی کایہ پہلوکج روی اورناہمواری کاشکارہو،افتراق وانتشاراوربغض وعنادنے زندگی کے اس پہلوکوتاریک بنادیاہوتوایک طرف اس سے خاندانی نظام کاشیرازہ بکھرکررہ جاتاہے تودوسری طرف نسل نوبھی ایسے جہنم زارماحول میں صحیح اورٹھوس تربیت سے محروم ہوتی ہے،جس کی وجہ سے وہ اخلاق وکردارکے لحاظ سے قطعاغیرذمہ دارہوتی ہے اورمعاشرے کاعضومعطل اورناکارہ جزثابت ہوتی ہے۔

نکاح ایک پائیداررشتہ
آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ اوررفیق خضرہے،زندگی کے ہرموڑپرسیرت طیبہ انسان کی راہ نمائی کرتی ہے اورزندگی کے تاریک گوشوں کواپنی ضوفشانی سے تاب ناک بنادیتی ہے،میاں بیوی کارشتہ ایک پاکیزہ اورمقدس رشتہ ہے،شریعت کامنشایہ ہے کہ جب زن وشوکے مابین یہ رشتہ قائم ہوجائے توتادم حیات باقی رہے اوراس پر محبت وخلوص کاپختہ رنگ بیٹھ جائے،ظاہرہے کہ یہ چیزاسی وقت وجود پذیر ہوسکتی ہے جب کہ زوجین میں سے ہرایک اپنے اپنے حقوق کو ادا کریں، اوراپنے رفیق حیات کے ساتھ خوش گواراوردوستانہ تعلقات کوفروغ دیں، تاہم یہ بھی ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ اس رشتہ کی بقا اور استحکام میں شوہر کاغیرمعمولی کردارہوتاہے اورشریعت مطہرہ نے زمام نکاح اسی کے ہاتھ میں سونپی ہے،اسی لیے ایک شوہرکااپنی بیوی سے کیساتعلق ہوناچاہیے؟ اور شوہرکواپنی رفیقہٴ حیات کے ساتھ کیساطرزعمل اختیارکرنا چاہیے؟ اس کے لیے ہمیں سیرت طیبہ سے سبق لینے اوراس کواپنی عملی زندگی میں برتنے کی ازحدضرورت ہے۔

بیوی کے کاموں میں دلچسپی
سرکاردوعالم صلی الله علیہ وسلم کے کاندھوں پرنبوت کی بھاری ذمہ داریاں عائدکی گئی تھیں،جس کی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی خارجی وبیرونی زندگی بہت ہی مصروف اورصبرآزماتھی،لیکن بایں ہمہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ جب گھرتشریف لے جاتے توکبھی آٹاگوندھ دیتے توکبھی گھرکی دیگرضروریات پوری کردیتے،حضرت عائشہسے آپ صلی الله علیہ وسلم کے گھریلومعمولات کے با رے میں دریافت کیاگیاتوانہوں نے بتایا:اپنے سرسے جوئیں نکالتے،اپنی بکری کادودھ دوہتے،اپنے کپڑے سی لیتے،اپنی خدمت خودکرلیتے،اپنے جوتے سی لیتے اوروہ تمام کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں،وہ اپنے گھروالوں کی خدمت میں لگے ہوتے جب نمازکاوقت ہوتاتوچھوڑکرچلے جاتے ۔(مسنداحمد)

آپ صلی الله علیہ وسلم کے طرزعمل سے ایک کام یاب اورخوش گوارزندگی کااصول معلوم ہوتاہے،یہ ٹھیک ہے کہ مردوعورت کے مابین تقسیم کارہے،مردنے بیرونی اورخارجی امورکی ذمہ داری لے رکھی ہے اورعورت نے گھریلواورخانگی امورکی ذمہ داری لے رکھی ہے،تاہم اس رشتہ کوامن ومحبت کاگہوارہ بنانے اوراس کومضبوط سے مضبوط تربنانے کے لیے شوہرپریہ اخلاقی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ عورت کے کاموں میں دلچسپی لے اورگھریلوکاموں میں اس کاہاتھ بٹائے اورگھریلوامورکے متعلق مشورے دے۔

عورت کی رائے کااحترام
آپ صلی الله علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کاایک نمایاں اورواضح پہلویہ بھی تھاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ازواج مطہرات کی رائے کااحترام کرتے تھے،صلح حدیبیہ کے موقع پرجب کفارمکہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم اورتقریباپندرہ سومسلمانوں کوعمرہ کرنے سے روک دیا اورآپ صلی الله علیہ وسلم نے غیرمعمولی فراست اوربصیرت ودوراندیشی سے کفارمکہ سے صلح کرلی،صلح نامہ تحریرہونے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین …بھی طبعی طورپررنجیدہ اورکبیدہ خاطرتھے اورغم سے نڈھال تھے…آپ صلی الله علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اورصحابہ کرام کے اس طرزعمل کاتذکرہ کیا،ام سلمہ رضی اللہ عنہا جوعقل مند اورمزاج فہم تھیں،نے کہا:آپ ان سے کچھ نہ کہیے،آپ کھڑے ہوکراپنااونٹ ذبح کردیجیے اورحلق کرالیجیے،آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی رائے قبول کی،چناں چہ آپ باہرتشریف لائے،اپنی قربانی کی اورحلق کرایا،آپ صلی الله علیہ وسلم کودیکھ کرصحابہ کرام نے بھی قربانیاں کیں اورحلق کرایا،ہجوم کایہ عالم تھاکہ ہرایک دوسرے پرٹوٹ رہاتھا، اورعجلت اس قدرتھی کہ ہرشخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہاتھا۔ (بخاری، حدیث نمبر:2731)اس سے معلوم ہوتاہے کہ اہم امورمیں عورت سے رائے لینی چاہیے اوررائے پسندآنے کی صورت میں اس پرعمل بھی کرناچاہیے۔

گھروالوں کے دین کی فکر 
آپ صلی الله علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کاایک تاب ناک اورلائق تقلیدپہلویہ بھی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم پنے اہل خانہ کی دین کی فکرکرتے تھے اوران کودین داربنانے کااہتمام کرتے تھے،حضرت عائشہفرماتی ہیں:آپ صلی الله علیہ وسلم کامعمول تھاکہ جب کبھی گھرمیں تشریف لاتے توقدرے بلندآوازسے یہ کلمات دہراتے:اگرابن آدم کے پاس مال کے دوبھرے ہوئے میدان ہوں توبھی آدمی تیسرے میدان کی حرص کرے گا،اس کے حرص کے منھ کوصرف قبرکی مٹی ہی بھرسکتی ہے۔(شعب الایمان،حدیث نمبر:9799) آپ صلی الله علیہ وسلم کے ان کلمات کو بار بار دہرانے کامقصدیہ تھاکہ اہل بیت کودنیاکی بے ثباتی اورفانی ہونے کایقین دلوں میں بیٹھ جائے۔

آج یہ دیکھنے میں آیاہے کہ کسی حدتک مردحضرات نمازوں کے پابندہوتے ہیں،تلاوت قرآن اورنوافل کااہتمام کرتے ہیں،لیکن ان کے گھرمیں دین کاماحول نہیں ہوتاہے،ان کے بیوی اوربچے فرائض وواجبات سے غفلت اورسستی برتتے ہیں،آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ ہم اپنے گھروالوں کودین داربنانے کااہتمام کریں،انہیں مرضیات خداوندی پرچلنے کی عادت ڈالیں۔

بیوی سے اظہارمحبت
بیوی سے محبت وتعلق کااظہاربھی اس رشتہ کی پختگی اوراستحکام میں غیرمعمولی اوراہم کرداراداکرتاہے،آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے وقتافوقتامحبت کااظہارکرتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ میں پانی پی رہی تھی،اتنے میں آپ صلی الله علیہ وسلم گھرتشریف لائے اورفرمایا:عائشہ!تھوڑاپانی بچانا،میں نے پانی بچادیا،آپ صلی الله علیہ وسلم قریب آئے اورپوچھاعائشہ!تم نے اپنے ہونٹ کہاں لگائے تھے؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بتلانے پرآپ صلی الله علیہ وسلم نے گلاس کے اسی حصہ پرہونٹ لگاکرپانی نوش فرمایا۔(نسائی)ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں کھانے کے دوران ہڈی چوستی توآپ صلی الله علیہ وسلم جہاں سے میں نے اس ہڈی کوچوساہوتاوہاں منھ رکھ کرہڈی کوچوستے۔(مسندابویعلی الموصلی،حدیث نمبر:4771)

بیوی کے اعزاء واقارب کاخیال
ہرانسان کواپنے اعزاء واقارب سے جذباتی لگاؤہوتاہے،بیوی کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ میراشوہرمیرے رشتہ داروں کے ساتھ اچھائی سے پیش آئے اورا ن سے بہترسلوک کرے،حضرت عائشہفرماتی ہیں:مجھے حضرت خدیجہ پرغیرت آتی تھی،جب کہ میں نے ان کودیکھابھی نہیں تھااوروجہ اس کی یہ تھی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کثرت سے ان کاذکرکیاکرتے تھے،کبھی بکری ذبح کرتے تواس کاگوشت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں میں بھیجاکرتے تھے۔(بخاری)

اس سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ بیوی کے رشتہ داروں کے ساتھ خیرخواہی اورحسن سلوک کرے اوران کے لیے وقتا فوقتا ہدایا بھیجتارہا کرے، بیوی کے سامنے اس کے رشتہ داروں کی برائی نہ کرے اورنہ ان کی پیٹھ پیچھے غیبت کرے،اس سے زوجین میں محبت بڑھے گی اورازدواجی رشتہ پائیدار اورپرسکون ہوگا۔

اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ امت مسلمہ کوصحیح اورحق بات سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے اوربحیثیت شوہرآپ صلی الله علیہ وسلم کاجواسوہ مبارکہ ہے اس کواپنی زندگی کے اندرنافذکرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین ثم آمین۔

Tags:

No Comment to " Owais Raza Qadri | Talking against Selfies of Facebook and Whats up | Must Watch It. "