News Ticker

Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat 14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan

By Sadqe Ya Rasool Allah - Friday, 15 March 2019 No Comments

Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat
14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan


Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat 14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan





پیری مُریدی کی شَرعی حیثیت

سُوال :بیعت لینا اور بیعت کرنا کیسا ہے ؟نیز پیری مُریدی کی شرعی حیثیت بھی بیان
 فرما دیجیے۔  

جواب :بیعت کا لغوی معنیٰ بک جانا اور اِصطلاحِ شرع و تصوّف میں اس کی متعدد صورتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ  کسی پیرِکامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے،آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے  نیک اَعمال کا اِرادہ  کرنے اور اسے اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا ذریعہ بنانے کا نام بیعت ہے۔یہ سُنَّت ہے،آج کل کے عُرفِ عام میں اسے  ”پیری مُریدی“ کہا جاتا ہے۔ بیعت کا ثبوت قرآنِ کریم میں موجود ہے چُنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 71 میں خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-                                                ترجمۂ کنزالایمان:جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہیر،حکیمُ الْامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:اِس سے معلوم ہوا کہ دُنیا میں کسی صالح(نیک) کو اپنا امام بنا لینا چاہئے  شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے  اور طریقت میں’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح(نیک) امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔اس آیت میں  تقلید،بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔([2])  

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ(پسندیدہ سنَّت)ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ  ولیُّ اﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور  رَبُّ العزّت عَزَّ  وَجَلَّ  فرماتاہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پ۲۶،الفتح :۱۰)

 ترجَمۂ کنزالایمان:وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو  اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔

اور فرماتا ہے:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ۲۶،الفتح :۱۸)

ترجَمۂ کنزالایمان:بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

اور بیعت کو خاص بجہاد سمجھنا جہالت ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ

ترجَمۂ کنز الایمان:اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللّٰہ  کا  شریک کچھ نہ    

وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (پ۲۸،الممتحنة :۱۲)

ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضعِ ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی  تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔([3])

احادیثِ مُبارَکہ میں بیعت کا ذِکر
سُوال :کیا  احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا  ذِکر آیا ہے؟

جواب: جی ہاں ! احادیثِ مُبارَکہ میں بھی بیعت کا ذِکر آیا ہے اور یہ بیعت مختلف چیزوں مثلاًکبھی تقویٰ و اِطاعت پر،کبھی لوگوں کی خیرخواہی اورکبھی غیر معصیت(یعنی گناہ کے علاوہ)والے کاموں میں اَمیر کی اِطاعت وغیرہ  پر ہوا کرتی تھی۔اس کے علاوہ دِیگر کاموں پر بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت ہونا ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مشکل اور آسانی میں ،خوشی اور ناخوشی میں خود پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں ،سُننے اور اِطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی سے اس کے اِقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کے سِوا کچھ نہ کہیں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں مَلامت کرنے وا لے کی مَلامت سے نہیں ڈریں گے۔([4])

حضرتِ سیِّدُنا عُبادَہ بِن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بیان کرتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سا تھ ایک مجلس میں تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تم لوگ مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم  اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور زِنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ  تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے ،تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پورا  کیا اس کا اَجر اللہ عَزَّ   وَجَلَّ پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا اِرتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی وہ اس کا کفّا رہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کو کیا اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّنے اس کا پَردہ رکھا تو اس کا مُعامَلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سِپُرد ہے اگر وہ چا ہے تو اسے مُعاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے  عذاب دے۔([5])

حضرتِ سیِّدُنا امام فخرُ الدِّین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تفسیرِ کبیر میں نقل فرماتے ہیں:جب مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں لَیْلَۃُ الْعُقْبَہ کو 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بِن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! آپ اپنے ربّ عَزَّ    وَجَلَّ کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو شرط چاہیں مَنوا لیں۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تیرے ربّ عَزَّ   وَجَلَّ کے لیے یہ شرط ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے سا تھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لیے یہ شرط ہے کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو جن چیزوں سے باز رکھتے ہو ان سے مجھ کو بھی باز رکھنا (یعنی جس طرح اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرنا)تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا صِلہ ملے گا؟ تو رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’جنّت۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یہ تو نفع مند بیعت ہے،ہم اس بیعت کو نہ  توڑیں گے اور نہ ہی  توڑنے کا مُطالبہ کریں گے،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ  نازِل ہوئی،اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اِرشاد فرماتا ہے: (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-)(پ۱۱،التوبة:۱۱۱) ترجَمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنّت ہے ۔([6])

بیعت ہونے کے فَوائد و بَرکات
سُوال :بیعت ہونے  سے کیا کیا فَوائد و برکات  حاصل  ہوتے  ہیں؟

جواب :کسی پیرِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہونے سے پیرِکامل سے نسبت  حاصل ہو جاتی ہے جس کی بدولت باطِن کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار  ہوتا ہے۔ پیرِکامل  کی صحبت اور اس کے فَوائد بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا فقیہ عبدُالواحد بن عا شر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَادِر  فرماتے ہیں:عارفِ کامل کی صحبت اِختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد دِلائے گا اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نَفْس کا مُحاسَبہ کراتے ہوئے اور”خَطَراتِ قلْب“(یعنی دل میں پیدا ہونے والے شیطانی وَساوس)سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا دےگا۔اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض و نوافل محفوظ ہو جائیں گے۔”تصفیۂ قلب“(یعنی دل کی صفائی) کے ساتھ ”ذکرِ کثیر“کی دولت میسر آئے گی اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائے  گا۔([7])

اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کی

بارگاہ میں سُوال ہوا کہ”مُرید ہونا واجب ہے یاسنَّت؟نیز مُرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مُرشِد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فَوائد حاصل ہوتے ہیں؟“ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا:مُرید ہونا سنَّت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیِّدِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اِتصالِ مسلسل۔ (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ )(پ۱،الفاتحہ :۶) ترجمۂ کنزالایمان:”راستہ ان کا جن پر تو نے اِحسان کیا۔“میں اس کی طرف ہدایت ہے،یہاں تک فرمایا گیا: مَن لَّا شَیْخَ لَہٗ فَشَیْخُہُ الشَّیْطٰن جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔([8]) صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر اِنتساب باقی رہا تو نظر والے تو اس کے بَرکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں، قبر میں، حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔([9])  


بیعت ہونے کے فَوائد میں سے یہ بھی ہے کہ یہ  پیرانِ عظام یا اِن سلسلوں کے اَکابرین وبانیان اپنے مُریدین و متعلقین سے کسی بھی وقت غافل نہیں رہتے اور مشکل مقام پر ان کی مدد فرماتے ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام عبدُ الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: بے شک سب اَئمہ و اولیا و عُلَمائے ربانیین(و مشائخِ  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام)اپنے پَیروکاروں اور مُریدوں کی شفاعت کرتے ہیں،جب ان کے مُرید کی روح نکلتی ہے ،جب منکر نکیر اس  سے قبر میں سُوال کرتے ہیں،جب حشر میں اس کا نامۂ اعمال کھلتا ہے،جب اس سے حساب لیا جاتا ہے،جب اس کے اَعمال تولے جاتے ہیں اورجب وہ پل صِراط پر چلتا ہے تو ان تمام مَراحِل میں وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں اور کسی بھی جگہ اس سے  غافل نہیں ہوتے۔([10])

ہے عصیاں کے بیمار کا دَم لبوں پر

خدارا لو جلدی خبر غوثِ اعظم

تمہیں میرے حالات کی سب خبر ہے

پریشاں ہوں میں کس قدر غوثِ اعظم (وسائلِ بخشش)

پیرِکامل کی بَرکت سے اِیمان سلامت رہا
سُوال : نزع کے وقت پیرِ کامل کا اپنے مُرید کی مدد کرنے کا کوئی واقعہ ہو تو برائے کرم  

بیان فرما دیجیے۔  

جواب :جب نزع کا وقت ہوتا ہے تو اس مشکل ترین  وقت میں شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رِشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے جو اسے دینِ اسلام سے بہکانے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر اِنسان کسی پیرِ کامل کا مُرید ہو تو  شیطان کے ان  حیلوں کو  ناکام بناتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اور پیرِ کامل کی بَرکت سے اپنا اِیمان سلامت لے کر جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  561 صفحات پر مشتمل کتاب”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صَفْحَہ493 پر ہے:”امام فخرُالدِّین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نزع کا جب وقت آیا ،شیطان آیا کہ اس وقت شیطان پوری جان توڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (مرنے والے کا) کا اِیمان سلب ہوجائے (یعنی چھین لیا جائے)، اگر اس وقت پھرگیا تو پھر کبھی نہ لوٹے گا۔ اُس نے اِن سے پوچھا کہ تم نے عمر بھر مُناظروں مُباحثوں میں گزاری ،خدا کو بھی پہچانا؟ آپ نے فرمایا :بیشک خدا ایک ہے۔اس نے کہا:اس پر کیا دَلیل؟آپ نے ایک دلیل قائم فرمائی، وہ خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا اُستاد)رہ چکا ہے اس نے وہ دلیل توڑ دی۔ اُنہوں نے دوسری دلیل قائم کی اُس نے وہ بھی توڑ دی۔ یہاں تک کہ ۳۶۰

دلیلیں حضرت نے قائم کیں اور اس نے سب توڑ دیں۔ اب یہ سخت پریشا نی میں اور نہایت مایوس۔ آپ کے پیر حضرت نجمُ الدین کبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں دُور دَراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے، وہاں سے آپ نے آواز د ی” کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خُدا کو بے دلیل ایک مانا ۔“اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ کسی مُرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیناچاہیے کہ ان کی باطنی توجہ وَسوسۂ شیطانی کو بھی دفع کرتی ہے اور اِیمان کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط ذَریعہ ہے۔

دَمِ نَزع شیطاں نہ اِیمان لے لے           حِفاظت کی فرما دُعا غوثِ اعظم

مُریدین کی موت توبہ پہ ہو گی      ہے یہ آپ ہی کا کہا غوثِ اعظم

مِری موت بھی آئے توبہ پہ مُرشِد!    ہوں میں بھی مُرید آپ کا غوثِ اعظم

کرم آپ کا گر ہوا تو یقیناً       نہ ہو گا بُرا خاتِمہ غوثِ اعظم

مُرید ہونے کا مقصد
سُوال :مُرید ہونے کا اصل مقصد بھی اِرشاد فرما د یجیے۔

جواب :مُرید ہونے کا اصل مقصد  یہ ہے کہ اِنسان  مُرشدِ کامل کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرکت سے سیدھے راستے پر چل کر اپنی زندگی شریعت وسنَّت کے مطابق گزار سکے اور اگر راہِ باطن ومعرِفت پر چلنا ہو تو پھر بیعت ہونا ضروری ہے

  کیونکہ  یہ  راستہ اِنتہائی کٹھن اور  باریک ہے جسے  بغیر کسی رہبر کے طے کرنا اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے لہٰذا اس راستے کو کامیابی وکامرانی کے ساتھ طے کرنے کے لیے اِنسان کو مُرشدِ کامل کی ضَرورت ہوتی ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:مُرید کو کسی مُرشِد و اُستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دِین کا راستہ  اِنتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں  شیطانی  راستے بکثرت اور نمایاں ہیں تو جس کا کوئی مُرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔ جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتا ہے وہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتا ہے جیسے خود بخود  اُگنے والا پودا جلد ہی سُوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہو گا۔ مُرید پر ضَروری ہے کہ وہ مُرشِد کا دَامن اس طرح تھام لے جس طرح اَندھا نہر کے کنارے اپنی جان نہر پار کرانے والے کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کی اِتباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی اسے چھوڑتا ہے۔ ([11])

میٹھے میٹھےا سلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ مُرید ہونے میں دِینی و اُخروی فوائد

 پیشِ نظر ہونے چاہئیں مگر بدقسمتی سے فی زمانہ بیشتر لوگوں نے ’’پیری مُریدی‘‘ جیسے اَہم منصب کو بھی محض  حُصولِ دُنیا  کا ذَریعہ بنا رکھا ہے۔ لوگ  پیرِ کامل کا  مِعیار یہ سمجھتے ہیں کہ پیر تعویذات یا عملیات میں ماہر ہو جو  ہر دُنیوی مشکل حل کر دیا کرے، اگرچہ پیرِکامل کی بَرکت سے بہت سارے دُنیوی مَسائل بھی حل ہوتے ہیں تاہم اسی چیز کو پیرِ کامل کا مِعیار سمجھ لینا اور جہاں کوئی مسئلہ حل نہ ہوا وہاں پیر صاحب کے کامِل ہونے میں شکوک  و شبہات میں پڑ جانا  سَرا سر جہالت و حماقت ہے لہٰذا مُرید ہوتے وقت  مُرشِدِ کامِل کی حقیقی  پہچان اور مُرید ہونے کے مَقاصد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے ۔

ازپئے غوثُ الوریٰ یامصطَفٰے

میرے اِیماں کی حِفاظت کیجئے

از طفیلِ مُرشِدی دِل سے مِرے

دُور دُنیا کی مَحبَّت کیجئے           (وسائلِ بخشش)



No Comment to " Hafiz Tahir Qadri Latest Mehfil e Naat 14 March 2019 at Raheem Yar Khan Pakistan "