News Ticker

Owais Raza Qadri Naats 1st Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Faisalabad

By Sadqe Ya Rasool Allah - Saturday, 9 March 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats 1st Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Faisalabad


Owais Raza Qadri Naats 1st Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Faisalabad






سُوال : معتکف غسل فرض ہونے کے عِلاوہ بھی نہا سکتا ہے یا نہیں؟نیز معتکف  کا وضو خانے پر صابن اِستعمال  کرنا کیسا ہے؟
جواب:اِستنجا  خانے اور غسل خانے عموماً فنائے مسجد ہی میں بنے ہوتے ہیں لہٰذا معتکف  بِلاتکلف اِن پر آ جا سکتا ہے،غسل بھی کر سکتا ہے اور صابن بھی اِستعمال کر سکتا ہے۔فرض غسل کے عِلاوہ ٹھنڈک حاصل کرنے (www.videoszilla.com)کے لیے یا سُنَّت یا مستحب غسل  کرنے سے بھی معتکف کے اِعتکاف پر کوئی  اَثر نہیں  پڑتا مگر فرض غسل کے عِلاوہ غسل کرتے وقت یہ ضَرور دیکھ لیا جائے کہ اس کے لیے مناسب وقت
اور پانی بھی موجود ہے یا نہیں۔اگر وقت ایسا  ہو کہ نہانے لگیں گے تو کسی بھی فرض  نماز کی جماعت یا خطبۂ جمعہ اور نمازِ جمعہ فوت ہو جانے کا اندیشہ ہے یا سیکھنے سکھانے کے حلقوں میں شرکت نہیں ہو پائے گی  یا پانی ختم ہو جائے گا جس کی وجہ سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا تو ایسی صورت میں سُنَّت یا مستحب غسل کرنے سے پرہیز کریں۔ویسے بھی مذہبِ حنفی میں  جمعہ کا غسل سنَّتِ غیرمؤ کدہ ہے جیسا کہ خَاتَمُ الْمُحَقِّقِیْن حضرتِ سیِّدُنا علّامہ ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی فرماتے ہیں:نمازِ جمعہ (www.videoszilla.com) کے لیے غسل کرنا سُنَنِ زَوائِد (یعنی سنّتِ غیر مؤ کدہ)میں سے ہے،اِس کے ترک پر عتاب (یعنی ملامت) نہیں۔([12]) اگر  غسل خانے فنائے مسجد میں نہ ہوں بلکہ دُور ہوں تو  پھر معتکف فرض غسل کے عِلاوہ ٹھنڈک حاصل کرنے یا سُنَّت یا مستحب غسل  کرنے اور صابن کے ساتھ ہاتھ منہ دھونے کے لیے وہاں نہیں جا سکتا۔
علمِ دِین سے دُوری اور جہالت کے سبب بعض لوگ سُنَّت کے مطابق وُضو اور غسل کرنا بھی نہیں جانتے جس کی وجہ سے بہت زیادہ پانی ضائع ہوتا ہے۔آج کل تو حالت يہ ہے کہ لوگ جب وُضو کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں  تو بیٹھتے ہی نَل کھول لیتے ہیں  پھر بڑے مزے سے آستین چڑھا کر وُضو  کرنا شروع کرتے ہیں تو اس طرح وُضو شروع کرنے سے پہلے ہی کافی پانی ضائع ہو چکا ہوتا ہے ۔اِسی طرح  مسواک کرتے وقت اور سر کا مسح کرتے وقت بھی  نَل کُھلا ر (www.videoszilla.com)ہتا ہے تو یوں بھی  کافی مقدار میں  پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے!جہاں آدھے چُلّوپانی سے کام چلتا ہو وہاں پورا چُلّو پانی لینا بھی اِسراف([13]) میں داخِل ہے جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی  فرماتے ہیں:چُلّو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی نہ گرے کہ اِسراف ہو گا۔ایسا ہی جس کام کے لئے چُلّو میں پانی لیں  اُس کا اَندازہ رکھیں، ضرورت سے زیادہ نہ لیں مثلاً ناک میں  پانی ڈالنے کے لئے آدھا چُلّو کافی ہے تو پورا چُلّو نہ لے کہ اِسراف ہو گا۔ہاتھ، پاؤں،سینہ،پُشت پر بال ہوں تو ہڑتال وغیرہ سے صاف کر ڈالے یا تَرَشْوا لے، نہیں تو پانی زیادہ خرچ ہو گا۔([14])اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نعمتوں کی  (www.videoszilla.com)قدر کرنے اور اِسراف سے بچنے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال :اگر خدانخواستہ کوئی بدنصیب  کلمۂ کفر بک کر دائرۂ اِسلام سے خارج ہو جائے تو تجدیدِایمان کے بعد کیا اُسے سابقہ نماز روزے   کی قضا  کرنی  ہو گی یا نہیں؟
جواب:مسلمان ہو نے کے بعد جو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  مُرتد یعنی کافر ہو گیا تو اس کے سابقہ تمام نیک اَعمال مثلاً نماز،روزہ ،حج،زکوٰۃ اور صدقہ وخیرات وغیرہ  غارت (یعنی برباد) ہو گئے، صاحبِ اِستطاعت ہونے کی صورت میں حج دوبارہ کرنا ہو گا۔ اَلبتہ زمانۂ (www.videoszilla.com) اسلام کی جو نمازیں اور روزے باقی تھے وہ اب بھی بدستور باقی ہیں لہٰذا ان کی اَدائیگی ضَروری ہے چنانچہ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے  ہیں :زمانۂ اسلام میں  کچھ عبادات قضا  ہوگئیں  اور ادا کرنے سے پہلے مُرتد ہو گیا، پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضا کرے اور جو ادا کر چکا تھا اگرچہ اِرتداد سے باطل ہو گئی مگر اس کی قضا نہیں اَلبتہ اگر صاحبِ اِستطاعت ہو تو حج دوبارہ فرض ہو گا۔([15]حالتِ اِرتداد میں مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  جتنے دن گُزرے ان  میں  نماز پڑھنا نہ  (www.videoszilla.com)پڑھنا برابر ہے،  پڑھی  تو اس کا کوئی ثواب نہیں،نہ  پڑھی  تو اس کی قضا نہیں کیونکہ  حالتِ اِرتداد میں  نماز فرض ہی نہیں ہوتی ،نماز صرف مسلمان پر فرض ہوتی ہے۔
سُوال :نمازی کی طرف مُنہ کر کے کھڑے ہونا یا بیٹھنا کیسا ہے ؟
جواب:نماز پڑھنے والے کے عین چہرے کی طرف مُنہ کر کے کھڑا ہونا یا بیٹھنا مکروہِ تحریمی ہے ۔ ہاں  اگر کوئی پہلے سے اس طرف منہ کر کے کھڑا یا بیٹھا ہے اور  کسی نے آ کر اس کے سامنے نماز شروع کر دی  تو اب کراہت نماز شروع کرنے والے پر ہے  جیسا کہ فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں:کسی شخص کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھناایسے ہی مکروہ ہے جیسے نمازی کی طرف مُنہ کرنا، پس اگر مُنہ کرنا (www.videoszilla.com) نمازی کی طرف سے ہو تو کراہت اس پر ہو گی ورنہ نمازی کی طرف چہرہ کرنے والے پر کراہت ہے۔([16])
 امام صاحبان کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دائیں بائیں پھر جانا یا مقتدیوں کی طرف مُنہ کر لینا سنَّت ہے مگر مقتدیوں کی طرف مُنہ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے  کہ کسی  مسبوق([17])  کی طرف مُنہ نہ ہو چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت،مجدِّدِ دِین وملّت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: (امام کے لیے)بعدِ سلام قبلہ رُو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے وہ شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں (یعنی سامنے)اگر چہ اَخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق یعنی جانبِ مقتدیان مُنہ نہ کرے۔ بہرحال پھرنا مطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رُو بیٹھا  (www.videoszilla.com)رہا تو مبتلائے کراہت و تارکِ سنّت ہو گا۔([18])لہٰذا جما عت کا سلام پھر جانے کے بعد پیچھے نماز پڑھنے والوں  کی طرف چہرہ کر کے اُنہیں دیکھنے یا پیچھے جانے کے لیے اُن کی طرف منہ کر کے ان کی نماز ختم ہونے کا اِنتظار کرنے یا نمازیوں  کے سامنے کھڑے ہو کر اِعلان کرنے  یا  دَرس وبیان کرنے سے بچنا ہو گا۔اسی طرح  جمعۃ المبارک کے خطبے میں بھی اِحتیاط کرنی چاہیے ۔ اگر کسی سے یہ غَلَطیاں ہوئی ہوں تو اُسے توبہ کرنی چاہیے ۔

فنائے مسجد میں  دُنیوی باتیں کرنا اور قہقہہ لگانا
سُوال :فنا ئے مسجِد کسے کہتے ہیں؟نیز فنائے مسجد میں دُنیوی باتیں  کرنے اور قہقہہ لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:فنائے مسجِد سے مُراد وہ جگہ ہے  جو ضَروریاتِ مسجِد  کے لئے بنائی گئی ہو اور مسجِد کی چار دیواری یا حدود کے اندر ہو نیز اس کے اور اَصل مسجِد کے درمیان راستہ نہ ہو جیسا کہ فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتےہیں:فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجِد سے متصل(یعنی مِلا ہوا) ہو  (www.videoszilla.com)اور دَرمیان میں راستہ نہ ہو۔([19])
رہی بات فنائے مسجد میں دُنیوی باتیں  کرنے اور قہقہے لگانے کی تو اس کے متعلق میرے آقا اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:فصیلِ مسجد بعض


 باتوں  میں  حکمِ مسجِد میں ہے معتکف بِلا ضَرورت اس پر جا سکتا ہے اس پر تُھوکنے یا ناک صاف کرنے یا نَجاست ڈالنے کی اِجازت نہیں ، بیہودہ باتیں ،قہقہے سے ہنسنا وہاں  بھی نہ چاہئے اور  (www.videoszilla.com)بعض باتوں  میں  حکمِ مسجد نہیں  اس پر  اَذان دیں  گے ،اس پر بیٹھ کر وُضو کر سکتے ہیں۔ جب تک مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نَماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیں،دُنیا کی جائز قلیل بات جس میں  چپقلش (جھگڑا)  ہو نہ کسی نَمازی یا ذاکِر (یعنی ذِکر کرنے والے)کی اِیذا (تو)اس میں حرج نہیں۔([20])

نمازی کے آگے سے گزرنے کی  وعیدات
سُوال : نمازی کے آگے سے گزرنا کیسا ہے ؟
جواب:نمازی کے آگے سے گزرنا  سخت گناہ ہے اَحادیثِ مُبارَکہ میں اس کی بہت سخت و عیدات  بیان ہوئی  ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا  زید بن خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا: اگر نمازی کے (www.videoszilla.com) آگے سے گزرنے والا جانتا کہ اُس پر کیا ہے؟ تو چالیس برس کھڑے رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔([21])
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہو کر گزرنے میں  کیا ہے؟ تو سو برس کھڑا رہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا۔([22])
حضرتِسیِدُنا کعب ُالاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:نمازی کے سامنے سے گُزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے؟ تو  زمین میں  دَھنس جانے کو(نَمازی کے آگے سے)گُزرنے سے بہتر جانتا۔([23]) مُصَلِّی(نمازی)کے آگے ستُرہ ہو یعنی کوئی ايسی چیز جس سے آڑ ہو جائے، تو سُترہ کے بعد سے گُزرنے میں کوئی حَرج نہیں۔([24])

سُترہ کیسا ہونا چاہیے؟
سُوال : سُترہ کیسا ہونا چاہیے؟نیز نمازی کے (www.videoszilla.com) آگے سے گُزرنے کے لیے کیا  چادر کا سُترہ کافی ہے ؟
جواب:سُترہ کم از کم ایک ہاتھ اونچا اور اُنگلی کے برابر موٹا ہو نا چاہیے لہٰذا جو چیز سُترہ بنائی جا رہی ہے اس کا کم ازکم ایک ہاتھ اونچا اور اُنگلی  برابر موٹا ہو نا ضَروری ہے اگر اس مِقدار سے کم ہو گی تو سُترہ نہیں ہو گا۔فقہِ حنفی کی مشہور و معروف کتاب
دُرِّمختار میں ہے:سُترہ ایک ہاتھ کی مِقدار اونچا اور اُنگلی برابر موٹا ہو۔([25])
رہی بات چادر کو سُترہ بنانے کی تو اگر  (www.videoszilla.com)کسی نے چادر کو اوپر سے پکڑ کر چھوڑ دیا اور نمازی کے آگے سے گزرا تو اس طریقے سے چادر کا سُترہ نہیں ہوسکتا اور گُزرنے والا گناہگار ہو گا۔



کینے کی تعریف اور سبب
سُوال:کینہ کسے کہتے ہیں؟نیز کینہ  پیدا     ہونے کا سبب کیا ہے؟
جواب: کینہ دِل کی چھپی ہوئی دُشمنی کو کہتے ہیں،یہ  ایک باطنی بیماری ہے ایسی باطنی بیماریوں کو مہلکات کہتے ہیں، ان کے بارے میں ضَروری اَحکامات کا جاننا مسلمان کے لیے فرضِ عین اور نہ جاننا گناہ ہے۔ کینہ پیدا ہونے کا بنیادی سبب
”غُصَّہ“ہے جیسا کہ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی فرماتے ہیں :کینہ کا معنیٰ یہ ہے کہ ”انسان اپنے دل میں  کسی کو (بِلا اجازتِ شرعی) (www.videoszilla.com)بوجھ سمجھے اور ہمیشہ کے لیے اس سے بغض و عداوت رکھے اور نفرت کرے ۔“ جب انسان کو غصَّہ آتا ہے اور وہ اس وقت اِنتقام لینے سے عاجز ہونے کی وجہ سے غصہ پینے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کا یہ غُصّہ باطِن کی طرف چلا جاتا ہے اور قرار پکڑ لیتا ہے  پھر ” کینے“کی شکل اِختیار کر لیتا ہے۔([26])

بِلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنے کا حکم
سُوال:کسی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا کیسا ہے ؟
جواب:مسلمان سے بِلاوجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے۔([27]لہٰذا ہر دَم اپنے سینے  کو مسلمانوں کے کینے سے پاک رکھیے۔حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بن مالِکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا:اے میرے بیٹے! اگر تم صُبْح (www.videoszilla.com) و شام اس حال میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کینہ نہ ہو تو (ایسا ہی) کرو۔ پھر مجھ سے فرمایا: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ،وَمَنْ اَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ اَحَبَّنِيْ،وَمَنْ اَحَبَّنِيْ  كَانَ مَعِيَ   فِي الْجَنَّةِ اے میرے بیٹے! یہ میری سنَّت ہے اور جس نے میری سنَّت کو زندہ کیا اُس نے مجھ سے مَحبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔([28]اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے سینوں کو مسلمانوں کے کینوں سے پاک و صاف فرمائے (www.videoszilla.com) اور ہمیں اِس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
کینۂ مسلم سے سینہ پاک کر
اِتباعِ صاحبِ لولاک کر (وسائلِ بخشش)

کینے سے بچنے کا طریقہ
سُوال:کینہ سے بچنے کا طریقہ بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:کینے سے بچنے کے لیےاس کے بارے میں عِلم ہونا ضَروری ہے ،جب اس کے بارے میں عِلم ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بچنے کا بھی  ذِہن بنے گا۔فی زمانہ کینے کا مَرض بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے،کسی کو اپنے ماں باپ سے کینہ ہے تو کسی کو اپنی اَولاد سے،کسی کو پڑوسیوں سے تو کسی کو عزیز و اقارب سے۔ ساس اور بہو کا کینہ (www.videoszilla.com) تو مثالی  ہے ،عُموماً اِن کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی بُرائی (یعنی غیبت وغیرہ) کرتی اور آپس میں بدگمانی رکھتے ہوئے مَعَاذَ اللہعَزَّوَجَلَّ ایک دوسرے پر جادُو کے اِلزامات دھرتی ہیں۔ عُموماً خاندان میں ہر ایک یہی کہتا دکھائی دیتا ہے کہ یہ جادُو کرتا ہے، وہ جادُو کرتا ہے، فُلاں نے جادو کروا دیا ہے گویا  کہ سارا معاشرہ ہی جادُوگر ہو گیا ہے۔ پھر یہ لوگ عاملوں کے پاس چکر لگاتے  ہیں، عامِل بھی اِن کی  نفسیات کے مطابق یہی بتاتے ہیں کہ تم  پر جادُو کیاگیا ہے اور بسااوقات وہ جادُو کروانے والے (www.videoszilla.com) کے نام کا پہلا حرف بھی  بتا دیتے  ہیں۔ اب اس نام کے بارے میں غور و فکر شروع ہو جاتا ہے کہ اس حَرف سے کس کا نام شروع ہو رہا ہے،اِتفاق سے جس پر شک ہو اُسی کے نام کا پہلا حَرف وہی  ہو جو عامِل نے بتایا ہے تو اب اس کی شامت آ جاتی ہے اور اس کے بارے میں دِل میں کینہ جَنَم لینا شروع کر  دیتا ہے۔

کینے سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرائیے اور یوں اپنا ذہن بنائیے کہ کینہ پَروَر شبِ بَراءَت (یعنی جہنم کی آگ سے چُھٹکارا پانے کی رات) میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نظرِ رَحمت اور (www.videoszilla.com) مغفرت سے محروم رہتا ہے جیسا کہ نبیوں کے سلطان،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:میرے پاس جبریل(عَلَیْہِ السَّلَام)آئے اورکہا:یہ شعبان کی پندرہویں  رات ہے اِس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  جہنم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے (www.videoszilla.com) بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر کافر اور عداوت والے (کینہ پَرور)اور رِشتہ کاٹنے والے،(تکبر کرتے ہوئے ٹخنوں سے نیچے)کپڑا لٹکانے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔([29])
یاد رکھیے!کینہ پَروَرْ بہت بڑا عبادت گزار ہی کیوں نہ ہو اُسے ڈر جانا چاہیے کہ یہ باطنی بیماری کہیں اس کی ساری نیکیوں پر پانی نہ پھیر دے کیونکہ پورے گودام کو جلانے کے لیے ایک چنگاری کافی ہوتی ہے، (www.videoszilla.com)ایک تیلی جلا کر گودام میں ڈال دیجیے تو پورا  گودام  دیکھتے ہی دیکھتے جل کر راکھ بن جائے گا لہٰذا اپنے دِل کو کینۂ مُسلِم سے پاک کیجیے اور جس کے بارے میں دِل میں کینہ ہو اُسے اپنے سے بہتر جانتے ہوئے یہ ذہن بنائیے کہ ہو سکتا ہے  وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہرحال کوئی بھی  ایسی ترکیب کی جائے کہ (www.videoszilla.com) دِل کینۂ مُسلِم سے پاک ہو کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت کا مدینہ بن جائے،اس ضمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے: حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر کتانی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:ایک شخص نے میرے ساتھ دوستی کی مگر میرے دل میں بوجھ رہا۔ میں نے اُسے تحفہ دیا تا کہ دِل  کی گِرانی دُور ہو مگر فائدہ نہ ہوا۔میں اُسے پکڑ کر (www.videoszilla.com) اپنے کمرے میں لے گیا اور کہا:اپنا پاؤں میرے چہرےپر رکھو۔ اُس نے اِنکار کیا،میں نے کہا:تجھے ایسا کرنا ہی پڑے گا چنانچہ اس نے اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھا  تو میرے دل سےگِرانی دُور ہو گئی۔ ([30])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم اِس طرح نہیں کر سکتے تو کم ازکم جس سے بغض و کینہ ہو اسے حقیر جاننے سے بچتے ہوئے سلام و مصافحہ کرنے اور تحفہ وغیرہ دینے  کی عادت بنانی چاہیے (www.videoszilla.com) کہ اس سے بھی آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اور بغض وکینہ دُور ہوتا ہے جیسا کہ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:تَصَافَحُوْا یَذْہَبُ الْغِلُّ وَ تَہَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْہَبُ الشَّحْنَاءُ یعنی مصافحہ کیا کرو کینہ دُور ہوگا اور تحفہ دیا کرو محبت بڑھے گی اور بُغْض دُور  ہو گا([31])۔ ([32])


نمازِ فجرکے ليے اُٹھنے میں سُستی کی وُجوہات
سُوال:نمازِ فجرکے لیے اُٹھنے میں بہت سُستی ہوتی ہےاس کی کیا وجہ ہے؟ نیز جلد بیدار ہونے کا نسخہ بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:نمازِ فجرکے لیے بیدار ہونے میں سُستی کی ایک وجہ رات میں سیرہو کر کھانا کھانابھی ہے کیونکہ ڈَٹ کر کھانے سے نیند گہری آتی ہے لہٰذا کھانا کم کھائیں (www.videoszilla.com) ، جب کھانا کم کھائیں گے تو نیند گہری نہیں آئے گی اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ صُبح آنکھ بھی جلد کُھلے گی۔
دوسری وجہ رات کو دیر سے سونا بھی ہے۔ اگر آپ رات دیر تک شاہراہوں پر گھومتے پھرتے رہیں گے یا رات میں نعت خوانی کے نام پر دو دو بجے تک بیٹھے رہیں گے پھرتین یا چار بجے جب سوئیں گے تو بھلا فجرمیں آنکھ کیسے کُھلے گی!
اگر آپ کی اِن کوتاہیوں کی  (www.videoszilla.com)وجہ سے نمازِ فجر قضا ہوئی تو آپ گناہگار ہوں گے
 بلکہ رات کا اکثر حصّہ گزر جائے اور نمازِ فجر جانے کا اندیشہ ہو تو اب سونے کی شرعاً اجازت  ہی نہیں جیسا کہ صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:دخولِ وقت کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا تو قطعاً  گنہگار ہوا جبکہ جاگنے پر صحیح اِعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دخولِ وقت سے پہلے بھی سونے کی اِجازت نہیں ہوسکتی جبکہ اکثر حصّہ (www.videoszilla.com) رات کا جاگنے میں گزرا اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی۔ ([33]لہٰذا  عشا  کی نَماز پڑھ کر حتَّی الامکان دو گھنٹے کے اندر اندر سو جایئے، یہ مدنی اِنعامات میں سے ایک مدنی اِنعام بھی ہے کہ” کیا آج آپ نے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں پڑھا یا پڑھایا؟ نیز مسجدِ محلہ کی عشا کی جماعت کے وقت سے دو گھنٹے کے اندر اندر گھر پہنچ گئے ؟“
وقت پر بیدار ہونے کے لیے سوتے وقت اپنے سرہانے اَلارم والی گھڑی رکھ لیجیے جس سے آنکھ کُھل جائے مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسا نہ  کیجیے کہ بسااوقات نیند میں ہاتھ لگ جانے یا سیل(Cell)ختم ہو جانے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے (www.videoszilla.com) کااندیشہ ہے لہٰذا دو یا حسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے۔اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: صرف ایک گھڑی پر اِعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ بعض اوقات خود بخود آگے پیچھے ہو جاتی ہے۔([34](شیخِ طریقت،اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:)میں سوتے  وَقت حتَّی الامکان تین گھڑیاں اپنے  سرہانے رکھتا ہوں۔
اگر جذبہ ہو گا تو راہیں خود بخود  کھلتی چلی جائیں گی اور اگر  جذبہ نہیں  ہو گا تو  گھر کیا مساجد میں دورانِ (www.videoszilla.com) اِعتکاف بھی کئی بدنصیب لوگ باجماعت نماز ادا کرنے سے محروم  رہ جاتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں باعمل بنائے اور پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
عمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی
گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
جلد بیدار ہونے کا ایک  رُوحانی نسخہ یہ ہے کہ سُورۂ کَہف کی آخری چار آیتیں([35]) یعنی(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسے ختم سُورہ  تک رات میں یا صُبح جس
 وقت جاگنے کی نیّت سے پڑھیں آنکھ کُھلے گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) ([36])
سُوال:بے وقت نیند آنے کی کیا  وجہ ہے؟نیز اس کا عِلاج بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب: بےوقت نیند عُمُوماً جگر اور گُردے کی خرابی کی وجہ سے آتی ہے۔اس کا عِلاج یہ ہے کہ ”ایک گلاس پانی(نیم گَرْم ہو تو زیادہ بہترہے اس)میں ایک چمچ شَہْد ملا کر نَہار مُنہ(یعنی صبح کچھ کھا نے سےقبل) اور روزہ ہو تو (www.videoszilla.com) اِفطار کے وقت بِلا ناغہ مستقل استعمال کیجیے موٹاپے اور بَہت سی بیماریوں بالخصوص پیٹ کے اَمراض سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ حفاظت ہو گی۔  بہتر یہ ہے کہ اس میں ایک ورنہ  آدھا لیموں بھی نچوڑ لیا کریں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  فَوائد زائد ہو جائیں گے۔اگر مطالعہ کرتے کرتے یا اِجتماع وغیرہ میں بیٹھے بیٹھے بے وقت نیند چڑھتی ہو گی تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بھی نَجات ملے گی۔“([37])اس علاج کے (www.videoszilla.com) لیے کوئی وقت مقرّر نہیں ہے لیکن بہتر وقت نہار مُنہ ہی پینا ہے۔ کوئی بھی علاج شروع کرنے سے قبل اپنے مُعالج سے ضرور مشورہ کر لیجیے۔ 





No Comment to " Owais Raza Qadri Naats 1st Private New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Faisalabad "