News Ticker

Owais Raza Qadri Naats Best New Live Mehfil e Naat Courtesy Qadri Ziai Sound

By Sadqe Ya Rasool Allah - Friday, 8 March 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats Best New Live 

Mehfil e Naat Courtesy Qadri Ziai Sound


Owais Raza Qadri Naats Best New Live Mehfil e Naat Courtesy Qadri Ziai Sound








پہلی نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنےوالانیت کرےکہ وہ جماعت کےساتھ نمازپڑھےگااورجماعت کی حفاظت کرےگایوں اُسے اجروثواب بڑھ کر ملےگا جیسا کہ

باجماعت نمازپڑھنےکی فضیلت:

        حضورنَبِیِّ رَحمت،شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”آدمی کاجماعت کےساتھ نمازپڑھنااکیلےنمازپڑھنےسے27درجےزیادہ اجررکھتاہے۔“([71])
      لہٰذابندہ مسجد میں بیٹھنے کی بدولت  اِس زائد ثواب کے حصول کی نیت کرلے۔
      حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمنبراطہرپرخطبہ دیااوریہ آپ کاآخری خطبہ تھا،ارشادفرمایا:اےلوگو!جس نےپانچوں نمازوں کواُن کےوقت میں باجماعت اداکیا وہ سابقین کےساتھ پہلےگروہ میں پُل صراط  سے چمکتی بجلی کی طرح گزر جائےگااوروہ قیامت میں آئےگا تواُس کاچہرہ چودھویں کےچاندکی طرح  چمکتاہوگااوراُسےہردن کےعوض جس میں اُس نے جماعت کی حفاظت کی ہوگی راہِ خدا میں شہید ہونے والے کا اجر دیا جائےگا۔([72])

      حضرت سیِّدُناکعْبُ الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:ہم توریت شریف میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ جماعت میں بندے کی نماز کا ثواب  حاضرین کی تعداد کے برابر بڑھ جاتا ہے ،اگر وہ ایک ہزار ہوں تو ایک ہزار درجے اجر زیادہ ہوجاتا ہے۔([73])

باجماعت نمازمیں چارخوبیاں ہیں:

       حضرت سیِّدُناامام شَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں:جماعت سےنمازپڑھنےمیں چارخوبیاں ہیں:(۱)…سنت کااِتِّباع(۲)…ثواب کی زیادتی(۳)…سَہو(بھول)سےبچاؤاور (۴)… ریاکاری سے چھٹکارا۔([74])

دوسری نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالارَسُوْلِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُوَافَقَت کی نیت کرے جیساکہ مروی ہے:’’بےشکاللہتعالٰی نےتمہارےنبی کےلیےسُنَنِ ہُدٰی مُقرَّر فرمائی ہیں اورسُنَنِ ہُدٰی پراِکتفافرمایاہے،اگرتم اپنے گھروں میں نمازپڑھو گےجیسا کہ یہ پیچھے رہ جانے والا پڑھتا ہے تو تم ضرور اپنے نبی کی سُنَّت چھوڑنے والے ہوگے اور لازمی گمراہ ہوجاؤگے۔‘‘([75])

سُنَّت پرعمل کاثواب:

       حضورتاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: جس نےمیری سنتوں میں سے ایک سنت کو زندہ کیامیں بروزِ قیامت اُس کی شفاعت کروں گا۔([76])

ترکِ سُنَّت کاوبال:

       حضوررَحمَتِ عالَم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں کہ مدینہ

منوَّرہ کاایک فرشتہ روزانہ یوں پکارتاہے:جس نےرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت  چھوڑی  وہ قیامت کے دن ان کی شفاعت  سے محروم  رہےگا۔([77])

تیسری نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالامسلمانوں کےمجمع میں اضافےکی نیت کرےتاکہ اُسےبڑافضل حاصل ہواوروہ بھی انہی میں سے ایک فرد شمارہواوریہ کہ وہ منتخب بندوں میں سے ہوجائے۔جیساکہ رَسُوْلِ مُکَرَّم،نَبِیِّ مُحْتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مَنْ کَثَّرَسَوَادَقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْیعنی جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہی  میں سے ہے۔([78])
       یوں ہی حضوراِمامُ الْاَنْبِیاءِوَالْمُرسَلِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: تم پرمسلمانوں کے بڑے گروہ کےساتھ رہنا لازم ہے کیونکہ بھیڑیاریوڑ سےالگ اور بھاگی ہوئی بھیڑکوہی پکڑتا ہے۔([79])

خوش بختوں کی مجلس:

       ایک روایت میں ہے:مساجد میں ذکر کی مجالس والوں کے لیے اللہعَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتاہے:اےمیرےفرشتو!هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيْسُهُمْیعنی یہ  وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والابھی بدبخت نہیں رہتا۔([80])


چوتھی نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالاایک نمازکےبعددوسری نمازکےاِنتظارکےلیےوہاں جمےرہنے کی نیت کرےجیساکہ درج ذیل فرمانِ باری تعالٰی کی تفسیر میں منقول  ہے۔چنانچہ
       اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اصْبِرُوْا  وَ  صَابِرُوْا  وَ  رَابِطُوْا-  وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) (پ۴،اٰلِ عمرٰن:۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اےایمان والوصبرکرو اور صبرمیں دشمنوں سےآگےرہواورسرحدپراسلامی ملک کی نگہبانی کرواوراللہسےڈرتے رہواس امیدپرکہ کامیاب ہو۔
       ایک قول کےمطابق اِس آیَت میں مذکورلفظ” رَابِطُوۡا“سے مراد مسجدوں میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کے لیے جمے رہنا ہے۔([81])

خطائیں معاف اوردرجات بلندہوں:

       اللہعَزَّ  وَجَلَّکےمحبوب،دانائےغُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:کیا میں تمہیں اُس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبباللہکریم خطاؤں کو معاف فرماتااوردرجات کوبلندفرماتاہے۔حضرات صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی:کیوں نہیں!اےاللہعَزَّ  وَجَلَّکےرَسُوْلصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ارشادفرمایا:مساجدکی طرف  کثرت سےجانا ، مشقت کےوقت وضو کرنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرناپس یہی نگہبانی ہے، یہی نگہبانی ہے۔([82])

بڑی نگہبانی:

      حضورنَبِیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اُس شہسوار کی طرح ہےجس نے راہِ خدا میں اپنےقریب گھوڑاباندھ رکھا ہو،وہ جب تک کوئی بات نہ کرے یا کھڑا نہ ہوجائے آسمانوں کے فرشتے اُس پردرود(رحمت)بھیجتے رہتے ہیں اور یہ بڑی نگہبانی میں مشغول ہے ۔([83])

پانچویں نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنےوالااپنےکان،آنکھوں ،زبان اور دیگر اعضاء کوممنوعہ چیزوں سے بچانےکی نیت کرےاورمسجد میں بیٹھنے سےرہبانیت(عبادت ورِیاضت میں مُبالغہ کرنے اور لوگوں سے دور رہنے)کی نیت کرے۔جیسا کہ

اس اُمَّت کی رُہبانیت:

      حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت سیِّدُناعُثمان بن مَظْعُوْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض  کی: یَارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا نفس مجھےجس چیزکی طرف بلاتاہے اور جس بات کا حکم دیتا ہے اُس کی وجہ سے زمین میرےلیےتنگ ہوگئی ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسارفرمایا:تمہارا نفس تمہیں کس بات کاحکم دیتاہے؟عرض کی:یہ مجھےرُہبانیت(سب سےالگ تھلگ رہنے)کا حکم دیتاہے۔تواللہعَزَّ  وَجَلَّکےپیارےحبیب،حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اےعثمان!اِس  بات کورہنےدو کیونکہ میری اُمَّت کی رُہبانیت ایک

 نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔([84])
      ایک روایت میں یوں ہےکہ حضرت سیِّدُناعُثمان بن مَظْعُوْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹےکااِنتقال ہوگیا تووہ  گھر میں بیٹھ رہےاور اپنے لیے ایک کمرہ مخصوص کرلیااورمسجد کیحاضری ترک کردی۔حضورنَبِیِّ رَحمت،شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں غائب پایا تو بُلوا کرارشادفرمایا:اے عثمان! کیا تم جانتے ہو کہ بے شک اللہ تعالٰی نے میری اُمَّت پر رُہبانیت کو حرام کردیا ہے اور میری اُمَّت کی رُہبانیت مسجدوں میں بیٹھناہے۔([85])

ہزاررکعت نفل پڑھنےسےافضل:

      حضرت سیِّدُنااَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:غیبت کاترک زیادہ پسندیدہ ہےیاہزاررکعت(نفل)نمازپڑھنا؟ارشادفرمایا:غیبت کاچھوڑنا ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہے۔([86])

چھٹی نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنےوالاباہر نکلنےتک مسجدمیں اعتکاف کی نیت کرے ۔

بےشمارثواب:

      حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:ایک عمل ایسابھی ہےجس کاثواب شمار سے باہرہےاوروہ اعتکاف ہےاوررَسُوْلِ مُکَرَّم،نَبِیِّ مُحْتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی


عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرَمَضان شریف کے آخری10دنوں کا اعتکاف فرمایاکرتے تھے۔([87])

حکایت:مغفرت کرواکرہی اُٹھوں گا

      منقول ہےکہ ایک شخص کسی مسجد میں داخل ہوا ،وہاں ایک دَرْوَیش ونیک آدمی کواعتکاف کی حالت میں دیکھاتو پوچھا:آپ اِس وقت یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟انہوں نے فرمایا:مجھ سےگھر والے کی نافرمانی ہوگئی تومیں نے اُس کے گھرمیں بیٹھنے کو لازم کرلیا اوریہ عہدکرلیاہے کہ وہ جب تک میری مغفرت نہیں فرمادے گا میں یہاں سےنہیں نکلوں گا۔([88])
      یوں ہی ایک شخص کسی مسجدمیں گیا تو وہاں ایک دَرْویش کو اعتکاف میں دیکھ کر پوچھا:آپ یہاں کیوں بیٹھےہیں؟توانہوں نےفرمایا:اُس نےمجھےاپنےدروازےپر بلوایاتومیں آگیا،اب میں حضوری کی اجازت کاانتظارکر رہا ہوں۔([89])

ساتویں نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنے والا نیت کرے کہ ”اگرمُیَسَّرآیا تو علم حاصل کروں گااورذکر کے حلقےمیں شرکت کروں گا۔“تاکہ اُسے بڑا ثواب حاصل ہو۔جیسا کہ

راہِ خدامیں جہادکرنےوالےکی مثل:

      حدیْثِ پاک میں آیاہےکہ رَسُوْلِ اَکرم،شفیْعِ اَعْظَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:جوشخصاللہعَزَّ  وَجَلَّکےذکرکےلیےصبح کومسجدگیاوہ راہِ خدامیں جہاد کرنے

والےکی طرح ہے۔([90])

پانچویں نہ بننا:

       مُعلّمِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:عالِم بنویا طالِبِ علم یا عالِم کی بات سننےوالے بنویااِن سے محبت کرنے والے اور پانچویں نہ بننا کہ ہلاک ہوجاؤگے۔([91])

سال بھرکی عبادت سےزیادہ پسندیدہ:

       سرورِ کونین،شہنشاہِ دارَیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں:عالِم کے پاس گھڑی بھربیٹھنااللہ تعالٰی کوایک  سال کی عبادت سے زیادہ پسندہےجس میں وہ  پلک جھپکنے کی مقداربھی اللہعَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی نہ کرے۔([92])

علم کی محفل گویا رسولُ اللہکی محفل ہے:

       مروی ہےکہ’’جس نے علم کی مجلس کو پایا گویااُس نے میری مجلس کو پایا اور جس نے میری مجلس  کو پایا بروزِقیامت اُس کے لیے کسی عذاب کی سختی نہیں ہوگی۔‘‘([93])

سایَۂ عرش میں رہنےوالے:

       حضرت سیِّدُناابوہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہاللہعَزَّ  وَجَلَّقیامت کے دن ارشادفرمائےگا:اَیْنَ الْمُتَحَابُوْنَ بِجَلَالِی الْیَوْمَ اَظِلُّھُمْ فِی ظِلِّیْ لَاظِلَّ اِلَّاظِلِّیْیعنی

کہاں ہیں میری عزت وجلال کی وجہ سے باہم محبت کرنے والے،آج میں انہیں اپنے عرش کےسائے میں رکھوں گاکہ میرے عرش کے سائے کے  علاوہ کوئی سایہ نہیں ۔([94])
      سیِّدُناابوطالِب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں:حدیث شریف میں”بِجَلَالِیْ“سے مرادہے”میرےاِحترام واِکرام اورتعظیم  کی وجہ سےباہم  محبت کرنے والے“مطلب یہ ہے کہ  وہ لوگ میری اِطاعت میں ایک دوسرے کی مدد کرتےہیں، میری محبت میں باہَم اُلْفَت رکھتے ہیں اور میری ہی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتےہیں اورایسااِس لیےہےکہ میں اِن چیزوں کومحبوب رکھتاہوں اورمیں نے بندے کے اِس عمل کو بڑا اوربلند رتبہ کردیا۔([95])

بلنددرجہ چاہتےہوتو۔۔۔!

      حضورنَبِیِّ رحمت،شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےلیے باہم محبت کرواوراللہتعالٰی کےلیے بھائی  بنوکیونکہ جواللہعَزَّ  وَجَلَّکے لیے کسی کا بھائی بنتاہے اللہ تعالٰی اُسے اتنا بلند درجہ عطا فرماتاہےجس تک اُس کا کوئی عمل  بھی نہیں پہنچ سکتا ۔([96])

نیک دوست سےبہترکوئی چیزنہیں:

      امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:دین اسلام

کے بعد بندے کو نیک دوست سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی ۔([97])
      رَسُوْلِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے:اللہ عَزَّ  وَجَلَّجس کےساتھ بھلائی کااِرادہ فرماتا ہے اُسے نیک وصالح دوست  عطا فرمادیتاہے، اگروہ(عبادت وغیرہ) بھول جائے تو یہ اُسے یاددلاتاہےاوراگروہ یاد رکھے تو یہ اُس کی مددکرتا ہے۔([98])

حکایت:کیاوہ ہمیں عذاب دےگا؟

      حضرت سیِّدُناثابت بُنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں:ہم عرفات کےایک پہاڑ کے پاس ٹھہرےہوئےتھےکہ دونوجوان آئےجنہوں نےبغیرآستین والےجبےپہنے ہوئےتھے،اُن میں سےایک نے دوسرےسےکہا:اےمحبوب۔دوسرےنےجواب دیا:اےمُحِب!میں حاضر ہوں۔پہلےنےکہا:آپ کیاکہتےہیں کہ ہم جس کی خاطرایک دوسرےسےمحبت کرتےہیں کیاوہ ہمیں عذاب دےگا؟حضرت سیِّدُنا ثابت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں:اُس وقت میں نےہاتِفِ غیبی سےایک آوازسنی  کہ’’ ہاں! وہ ایسانہیں کرے گا۔‘‘([99])

آٹھویں نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنےوالایہ نیت کرےکہ شایداللہعَزَّ  وَجَلَّکی خاطرکسی مسلمان بھائی سےاچانک ملاقات ہوجائے اور  اُس سے فائدہ اٹھایا جائے کہ وہ دنیا کی زندگی میں اُسے نفع دے اور مرنے کے بعد اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اُس کی شفاعت کرے۔

نویں نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنے والابارگاہِ الٰہی سےنُزولِ رحمت کےاِنتظار کی نیت کرے تاکہ وہ بھی اُن میں سے ہوجائے جنہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔

محفل ذکرکی برکتیں:

      رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں:جولوگاللہعَزَّ  وَجَلَّکاذکر کرنےکےلیےکہیں بیٹھتےہیں تورحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہےاورفرشتےانہیں گھیرلیتے ہیں،اللہتعالٰی اپنےپاس نوری مخلوق میں  اُن کا ذکرفرماتا ہے اورایک پکارنےوالا انہیں پکار کرفرماتاہے:بخشےہوئےاٹھو،میں نےتمہارےگناہوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ہے۔([100])

مسجدیں دارُالاَمان ہیں:

      حضورتاجدارِرِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:مسجدیں دارُالاَمان ہیں جہاں انہیں آباد کرنے والےامن میں ہیں،مسجدیں محفوظ جگہیں ہیں جہاں انہیںآبادکرنےوالےحفاظت میں ہیں اورمسجدیں آرائش گاہیں ہیں جہاں انہیں آباد کرنے والےسنورتےہیں اور جب تک وہ مسجدوں میں ہوتےہیں اللہ تعالٰی اُن کی حاجتوں کو پورا فرماتااور اُن کی حفاظت فرماتاہے ۔([101])

فرشتوں کی دعاکامستحق کون؟

      سرورِکونین،شہنشاہِ دارَیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں:تم میں

سے کوئی نماز پڑھ کر جب تک اُسی جگہ بیٹھا رہتا ہےتوفرشتے اُس پر درودبھیجتے رہتے ہیں اور اُس پررحمت نازل ہوتی ہےاورجب تک اُس کاوضوقائم رہتاہےفرشتےدعا کرتے ہیں:اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!اِس پر رحم فرما۔پھر اگر اُس کا وضوٹوٹ جائے تو اَب نماز قبول نہیں ہوگی یہاں تک کہ وُضوکرلے۔([102])

دسویں نِیَّت

      مسجدمیں بیٹھنےوالانیت کرےکہ شایدوہ مسلمان بھائیوں سےحیااوراُن  کی نفرت وبیزاری کے خوف سےگناہوں کو چھوڑدے۔جیسا کہ حضورنَبِیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اللہعَزَّ  وَجَلَّسے حیا کر جیسا کہ تو اپنی قوم کے نیک آدمی  سے حیا کرتا ہے۔([103])

کس کی صحبت اختیارکی جائے؟

      حضرت سیِّدُناعیسیٰرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےارشادفرمایا:ایسےبندے کےپاس بیٹھو جس کی زیارت تمہیں اللہ تعالٰی کی یاددِلائے،جس کی گفتگو تمہارے عمل میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی رغبت دے۔([104])
      حضرت سیِّدُناحاتِم اَصَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتےہیں:تم پر ایسےشخص کی صحبت لازم ہے کہ جب تم اُسے دیکھو تو تمہارے دل پر اُس کی ہیبت  طاری ہوجائے ،اُس کی زیارت تمہیں بیوی بچے بھلا دے اور جب تک تم اُس کے قُرب میں رہو تو اپنے مولیٰ تعالٰی کی نافرمانی نہ کرو۔([105])
       ایک صاحِبِ معرفت بزرگ فرماتے ہیں:میں نیک بندے سے اُسی طرح حیا کرتا ہوں جیسےاللہعَزَّ  وَجَلَّسےحیاکرتاہوں۔([106])

جس سےفرشتےبھی حیاکریں:

       (ایک طویل حدیْثِ پاک میں)مروی  ہےکہ جب حضرت سیِّدُناعُثمان بن عَفّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت میں حاضرہوئےتوحضورتاجدارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنی پنڈلی مُبارَک چھپالی جبکہ اُس وقت بارگاہِ عالی میں حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق،حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحاضر تھےاورپنڈلی شریف کھلی ہوئی تھی۔جب آپ سےاِس عمل کے بارے میں عرض کی گئی توارشادفرمایا:کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتےہیں۔([107])

گیارھویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالا عذابِ الٰہی سے چھٹکارے کی نیت کرے  ،یوں وہ اپنی اُمیدوں میں کمی کرنےوالااوراپنی دنیاوی زندگی کی تعمیروترقی سےبےرغبت ہوگااوراِس حالت میں وہ صاحِب فضیلت ہوگا۔

مساجدمیں بیٹھنےکی برکات:

       حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: ”اگر آسمان سے کوئی عذاب نازل ہوتومسجدوں والے اُس سے محفوظ رہیں گے۔“([108])
       منقول ہے کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا ذکرکرنے والوں کومُہْلِک عذاب نہیں پہنچتے۔([109])

بارھویں نِیَّت

       مسجدمیں بیٹھنےوالااللہتعالٰی کےلیےبنائےگئےدوستوں سےملاقات کی نیت کرےپس  اُس کی ملاقات اللہعَزَّ  وَجَلَّکےلیےہوگی اوراللہ تعالٰی کے گھرمیں  اُسے دیکھنا ہوگاتو یوں اُسے اللہ کریم کی بارگاہ سےثواب ملے گا۔چنانچہ

70ہزارفرشتوں کاساتھ اوردعا:

       مروی ہےکہاللہعَزَّ  وَجَلَّکےپیارےحبیب،حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدُناابورَزِیْن عُقَیْلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشادفرمایا:کیاتم جانتےہوکہ  جب بندہ اپنے گھرسےاللہ تعالٰی کی رضاکےلیےاپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے جاتا ہےتو70ہزارفرشتےاُس کےساتھ چلتےہیں اوراُس پردرود(رحمت)بھیجتےہوئےدعا کرتےہیں کہ اےہمارےربعَزَّ  وَجَلَّ!اِس نے تیرے لیےحُسْنِ سُلُوک کیا تو بھی اِس کے ساتھ اچھاسلوک فرما۔([110])تواگرتم اپنے جسم کو اِس میں لگاسکتے ہوتو ضرور لگاؤ۔
       یہاں حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہعَزَّ  وَجَلَّکی رضاکےلیےمسلمان

بھائی سے ملاقات کا حکم دیاہے۔

محبَّتِ اِلٰہی کےمستحق:

      حضورسرورِکونینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہتعالٰی ارشادفرماتا ہےکہ میری محبت اُن بندوں کےلیے لازم ہوگئی جومیرےلیےایک دوسرے سے ملتے، میری خاطرباہم محبت کرتےاورمیری وجہ سےہی ایک دوسرے کو کچھ دیتے ہیں۔([111])

نیکی کرواگرچہ میلوں سفرکرناپڑے:

      ایک روایت میں ہےکہ ایک میل چل کرجاؤاورکسی متقی امام کےپیچھےنماز پڑھو، دو میل چل کر جاؤاور کسی مریض کی عیادت کرو ،تین میل چل کرجاؤ اور کسی جنازہ میںشرکت کرو، جہاں ذکرِاِلٰہی ہواُس علم کی مجلس میں حاضر ی کے لیے چار میل تک چل کر جاؤ،پانچ میل چل کر جاؤاوردوناراض افراد کے مابین صلح کرواؤاور چھ میل  تک چل کرجاؤاوررضائےربُّ الاَنام کے لیے  کسی مسلمان بھائی کی  زیارت کرو([112])۔([113])
      اگر کوئی عالِم ہواور پہچان رکھتا ہوتو اس کے لیے بیان کردہ تمام نیتیں  ایک ہی عمل میں جمع ہوسکتی ہیں اور اُسے ہر نیت کے بدلے عظیم اجراور بڑا ثواب عطا  ہوگا لہٰذا ایسا بندہ

جسے  اچھی نیتوں کی بدولت ایک ہی عمل میں بہت سارے اجرحاصل ہوجائیں اُس میں اور ایسے بندے  میں بڑا فرق ہے جونیت کی دُرُستی بھول جانے کے سبب کثیر اعمال میں ایک بھی اجر حاصل نہ کرپائے۔تو ایسے شخص کی کوشش رائیگاں جاتی ہے اورعمل ضائع ہوجاتاسوائےیہ کہ اللہکریم اُسےاپنی رحمت سےنوازدے۔لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ([114])

مسجد میں بیٹھنے کی نِیَّتَوں کا خُلاصہ

      مسجد میں بیٹھنے والایوں نیتیں کرے: (1)…جماعت کے ساتھ نمازپڑھوں گا اوراُس کی محافظت کروں گا۔(2)رَسُوْلِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُوافَقَت واِتِّباع کروں گا۔(3)…مسلمانوں کےمجمع میں اضافہ کروں گا۔(4)…ایک نماز کےبعددوسری نمازکےانتظارکےلیےجمارہوں گا۔(5)…مسجدمیں بیٹھ کراپنے کان،آنکھ،زبان اوردیگراَعضاء کو ممنوعات سےبچاؤں گااوررُہبانیت اختیارکروں گا (یعنی عبادت وریاضت میں مبالغہ کروں گااورلوگوں سےدور رہوں گا)۔ (6)…مسجدسے نکلنےتک مسجدمیں اعتکاف کی نیت سےرہوں گا۔(7)…علم حاصل کروں گااورذکر کےحلقوں میں شریک رہوں گا۔(8)…یہ نیت کرتا ہوں کہ شاید اللہعَزَّ  وَجَلَّکی خاطرکسی مسلمان بھائی سے اچانک ملاقات ہوگئی تواُس سےفائدہ اٹھاؤں گاتاکہ وہ دنیاوی زندگی میں نفع کاسبب بنے اوربعدِوفات بارگاہِ الٰہی میں میری شفاعت کرے۔ (9)…بارگاہِ الٰہی سےنُزولِ رحمت کامنتظررہوں گا۔(10)…مسلمان بھائیوں سے حیاکرتے ہوئے اور اُن  کی نفرت وبیزاری کے خوف سےگناہوں کو ترک کروں گا۔

(11)…عذابِ الٰہی سےچھٹکاراحاصل کروں گاتاکہ اُمیدوں میں کمی کرنےوالا بن جاؤں اور دنیاوی زندگی کی تعمیروترقی سے بے رغبت ہوجاؤں۔(12)…اللہ تعالٰی کےلیے بنائے گئے دوستوں سے ملاقات کروں گا۔

مسجدسےنکلتےوقت کی دعا:

       (13)مسجدسےنکلتےوقت یہ دعاپڑھوں گا:بِسْمِ اللہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسَئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ،اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمیعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےنام سےشروع اوراللہتعالٰی کےرَسُوْل پردُرُودوسلام نازل ہو۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ! میں تجھ سےتیرےفضل کاسوال کرتاہوں۔اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!مجھےشیطان مردودسےمحفوظ رکھنا۔([115])

مُسلمان بھائیوں سے مُلاقات کی نِیَّتَیْں

       رِضائےالٰہی کےلیےمسلمان بھائیوں سےملاقات کرنابھی مؤمنوں کےلیے باعِثِ فضیلت  اعمال میں سے ہے،لہٰذا بندےکو چاہیے اپنی نیت کو صاف ستھرا کرے  اوریہاں سات اچھی اورفضیلت والی نیتیں  جبکہ پانچ بُری ومذموم نیتیں ہیں اورپہچان رکھنےوالے پر لازم ہےکہ وہ اچھی اور بُری نیتوں کو پہچانے تاکہ بُری سے بچ کراچھی کی پیروی کرے ۔وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ
       منقول ہےکہ ایک صوفی بُزرگ نے اپنے ایک شاگردسے پوچھا: تم کہاں جانے کااِرادہ رکھتےہو؟عرض کی:فلاں شخص سےملنےکااِرادہ ہے۔فرمایا:کیاتم ملاقات کی 
آفت کوجانتےہو؟عرض کی:نہیں۔فرمایا:جان لوکہ جواپنےمسلمان بھائی سےدرج ذیل پانچ نیتوں سے ملاقات کرتا ہے تو ایسی ملاقات اللہعَزَّ  وَجَلَّکو پسند نہیں۔



No Comment to " Owais Raza Qadri Naats Best New Live Mehfil e Naat Courtesy Qadri Ziai Sound "