News Ticker

Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore

By Sadqe Ya Rasool Allah - Sunday, 10 March 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats Latest
Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore


Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore




خواتین کی بحر علم سے سیرابی

دَورِ جَاھِلیَّت میں عربوں پر چھائے جَہَالَت وگمراہی کے اندھیرے میں خال خال (بَہُت کم)ہی نُورِ عِلْم سے مُنَوَّر کوئی شخص نَظَر آتا۔ اِسلام نے عربوں کو جہاں دیگر مُتَمَدِّن قوموں کی طرح تہذیب و تَمَدُّن سے رُوشناس کرایا وہیں انہیں زیورِ عِلْم سے بھی آراستہ کیا جس کے لیے مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت سے اَقدامات کئے۔ ان ہی میں سے ایک سلسلۂ دَرْس و بیان بھی تھا۔اس کی بدولت مَرد حضرات تو عِلْم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے سیراب ہونے لگے مگر ہَنُوز (ابھی تک) خواتین کی تِشْنَگی کا الگ سے کوئی مَعْقُول و مُنَاسِب اِنْتِظام نہ ہو سکا۔ بلکہ وہ اپنی عِلْمی پیاس بجھانے کیلئے خاص خاص مَوَاقِع مثلاً عِیْدَیْن وغیرہ میں حاضِری کی مُنْتَظِر رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی تِشْنَگی روز بروز بڑھتی گئی اور ان کے دِلوں میں یہ خواہش شدید اَنگڑائیاں لینے لگی کہ ان کے لیے بھی ایسی مَحَافِل مُنْعَقِد ہونی چاہئیں جن میں صِرف اور صِرف اِنہی کی تعلیم و تَربِیَت کا اِہتِمام ہو۔ اس آرزو کا اِظْہَار اس وَقْت سامنے آیا جب ایک صحابیہ [5] نے خِدْمَتِ اَقْدَس میں حاضِر ہو کر باقاعدہ عَرْض کی کہ ان کے لیے بھی کچھ وَقْت خاص ہونا چاہئے جس میں وہ دین کی باتیں سیکھ سکیں۔ چُنَانْچِہ بقولِ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان اس صحابیہ نے عَرْض کی:(اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!)مَردوں نے آپ کا فَیضِ صُحْبَت بَہُت حاصِل کیا، ہر وَقْت آپ کی اَحادِیْثِ (مُبارَکہ) سنتے رہتے ہیں،ہم کو حُضُور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی خِدْمَت میں حاضِری کا اتنا مَوْقَع نہیں ملتا،مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دِن ہم کو بھی عَطا فرمائیں کہ اس میں صِرف ہم کو وَعْظ و نصیحت فرمایا کریں۔[6] اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو سکھایا ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مَخْصُوص جگہ پر مَخْصُوص دن جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرمایا۔[7]

خواتین میں علم کی محبت کیسے پیدا ہوئی؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس رِوایَت میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی دین سیکھنے سکھانے کے بارے میں کڑھن ان کی عِلْمِ دین سے مَحبَّت کا منہ بولتا ثُبُوت ہے۔

آخِر ان میں یہ شُعُور کیسے پیدا ہوا ؟ اگر غور کریں تو مَعْلُوم ہو گا کہ یہ سب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہی نَظَرِ شَفْقَت کا نتیجہ تھا، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات کا بخوبی اِدْرَاک تھا کہ عورت پر پوری نسل کی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِنْحِصَار ہے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواتین کو مُعَاشَرے میں جہاں بـحَیْثِـیَّت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عَظَمَت بخشی اور ان کے حُقُوق مُقَرَّر کیے وہیں ان کیلئے بہترین تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا تا کہ یہ اپنی ذِمَّہ داریوں سے کَمَا حَقُّہٗ عُہْدَہ بَرآ ہوں اور ان کی گود میں ایک صِحَّت مند نسل تیّار ہو کہ بلاشبہ ماں کی گود بچے کی اَوَّلِین درسگاہ ہے۔ حالانکہ قَبْل از اِسْلَام عورت کیا حَیْثِـیَّت رکھتی تھی، اس کی چند جھلکیاں مُلَاحَظہ فرمائیے:

عورت کی زبوں حالی
اِسْلَام سے قَبْل عورت ظُلْم و سِتَم کا شِکار تھی،اس کی کسی حَیْثِـیَّت کا کوئی لِـحَاظ نہ تھا، ماں ہو یا بیٹی، بہن ہو یا بیوی سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا۔ اس کی وَقْعَت اس کھلونے کی تھی جو مَردوں کی تسکینِ جان کا باعِث تھا، عربوں کے ہاں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو برصغیر میں ہندوؤں کے ہاں بیوہ کو مَرد کی چِتا (لکڑیوں کا وہ ڈھیر جس پر ہِندو مُردے کو جلاتے ہیں)میں زندہ ڈال دیا جاتا۔دیگر اَقوامِ عالَم میں بھی اسے پاؤں کی جوتی سے زیادہ اَہَمِیَّت حاصِل نہ تھی۔ بلکہ بعض اَوقات تو بطورِ مال مویشی اس کی خرید و فَرَوخْت کو بھی عیب نہ جانا جاتا، نان نفقہ کے عِوَض اس سے غلاموں جیسا سُلُوک کیا جاتا۔ یہ صِنْفِ نازُک تھی تو مَرد کی طرح ذی شُعُور مگر اسکے ساتھ برتاؤ انتہائی نازیبا ہوتا،اسے تمام فَسادات کی جَڑ اور اِنسان کی بدبختیوں کا سَر چشمہ گردانا جاتا۔ چوٹی کے نَامْوَر فلسفی اس کے اِنسان ہونے کو ہی مشکوک جانتے۔ ہزاروں برس سے ظُلْم و سِتَم کی ماری یہ دُکھیاری عورت ذات اپنی بے کسی و لاچاری پر روتی و بلبلاتی اور آنسو بہاتی رہی مگر اسے اپنے زخموں پر مَرْہَم رکھنے اور ظُلْم و اِسْتِبْدَاد کے پنجے سے نجات دِلانے والا کوئی مسیحا کہیں نہ ملا۔

اسلام میں عورت کامقام
آخِر کار جب رسولِ رَحْمَت،شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا کی طرف سے دِیْنِ اِسْلَام لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قِسْمَت کا سِتارہ چمک اُٹھا اور اِسْلَام کی بَدَوْلَت ظُلْم و سِتَم کا شِکار عورتوں کا دَرَجَہ اس قَدْر بُلَند و بالا ہوا کہ عِبادات و مُعَامَلات بلکہ زِنْدَگی اور موت کے ہر مَرْحَلَے اور ہر موڑ پر عورتوں کے بھی حُقُوق مُقَرَّر کر دئیے گئے۔چُنَانْچِہ پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَردوں کی طرح ان کے مَعَاشِی و مُعَاشَرْتی حُقُوق مُقَرَّر ہوئے تو وہ مالی حُقُوق حاصِل ہونے پر اپنے مہر کی رقم اور جائداد کی مالِک بنا دی گئیں، اَلْغَرَضْ وہ عورتیں جو مَردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مَردوں کے دِلوں کا سُکُون اور ان کے گھروں کی مالِکہ بن گئیں۔ عورتوں کو دَرَجات و مَرَاتِب کی اتنی بُلَند مَنْزِلُوں پر پہنچا دینا یہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ اِحْسَانِ عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زِنْدَگی کی آخِری سانس تک اس اِحْسَان کا شکریہ اَدا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عَظِیمُ الشَّان اِحْسَان کی شکر گزاری کے فَرْض سے سبک دوش نہیں ہو سکتیں۔[8]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اسلام میں علم کی اہمیت
اِسْلَام دنیا كا وہ واحِد دین ہے جس کو یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کیلئے عِلْم حاصِل کرنا فَرْض قرار دیا،یہی وجہ ہے کہ کائناتِ عالَم کے سب سے پہلے اِنسان حضرت سَیِّدُنا آدَم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اَوّلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عِلْم کی بدولت ہی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔چُنَانْچِہ اِرشَاد ہوتاہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (پ۱، البقرة:۳۱)       ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اَشیا کے نام سکھائے۔

اسی طرح سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غارِ حرا میں سب سے پہلی نازِل ہونے والی وَحِی بھی عِلْم کی اَہَمِیَّت کا بَیِّن ثُبُوت ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳)الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴)عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵) (پ۳۰، العلق:۱ تا۵)

ترجمۂ کنز الایمان:پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،جس نے قلم سے لکھنا سکھایا،آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ان آیَاتِ مُبارَکہ میں جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب اور خالِق ہونے کا ذِکْر ہے وہیں عُلُوم کی بعض اَہَم شاخوں یعنی عمرانیات،تخلیقات، حَیاتیات اور عِلْمِ اَخلاقیات کی طرف بھی اِشارہ ہے۔اَلْغَرَضْ ان آیاتِ کریمہ کے ہر ہر لَـفْظ سے عِلْم کی اَہَمِیَّت اُجاگَر ہو رہی ہے، نیز ان آیاتِ مُبارَکہ میں جہاں دو۲ بار عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم ہے وہیں اس اِحْسَان کا اِظْہَار بھی ہے کہ یہ اسی کا کَرَم ہے کہ اس نے انسان کو عِلْم عَطا فرمایا اور لکھنا بھی سکھایا۔نیز عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم دینے کے علاوہ قرآن نے کئی مَقامات پر عِلْم و اَہْلِ عِلْم کی عَظَمَت و فضیلت اور جَہَالَت کی سَخْت مَذمَّت بیان فرمائی۔ جیسا کہ ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:

هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- (پ۲۳، الزمر:۹)    ترجمۂ کنز الایمان:کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔

عُلَمائے کرام اَنۢبِیَائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وَارِث ہوتے ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:بے شک عُلَما ہی اَنۢبِیَا کے وَارِث ہیں، اَنۢبِیَاعَلَیْہِمُ السَّلَام  دِرْہَم ودینار کا وارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ عَلَیْہِمُ السَّلَام  تو صِرف عِلْم کا وارِث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصِل کرلیا اس نے بڑا حِصّہ پالیا۔[9]جبکہ عُلَما کے عِلْمِ نبوَّت کے وَارِث ہونے کی وَضَاحَت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی ہے:

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا                   ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہم نے کِتاب کا وارِث کیا

مِنْ عِبَادِنَاۚ-(پ۲۲، فاطر:۳۲)          اپنے چُنے ہوئے بندوں کو۔

ان آیاتِ کریمہ کی تشریح میں عِلْم کی اَہَمِیَّت کے اِظْہَار اور ایک مسلمان کو سچا اور پختہ مسلمان بنانے کے لئے رسولِ پاک عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔[10] عِلْم حاصِل کرنا ہر مسلمان (مَرد اور عورت) پر فَرْضِ عین ہے۔ ایک بار اِرشَاد فرمایا: اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ۔[11] عِلْم حاصِل کرو چاہے چین سے ہو۔جبکہ ایک قول میں ہے:اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلَی اللَّحْدِ[12] عِلْم حاصِل کرو پیدائش سے لے کر قَبْر میں جانے تک۔

تعلیم نسواں کیوں ضروری ہے؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم یا مِلّت کو اس کی آئندہ نسلوں کی مذہبی و ثقافتی تَرْبِیَت کرنے اور اسے ایک مَخْصُوص قومی و مِلّی تَہْذِیب و تَمَدُّن اور کلچر (Culture)سے بہرہ وَر کرنے میں اس قوم کی خواتین نے ہمیشہ بُنْیَادِی و اَساسی کِردار ادا کیا ہے۔کیونکہ ایک عورت ہر مُعَاشَرے میں بَطَورِ ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے زِنْدَگی گزارتی ہے اور اپنی ذات سے وَابَسْتہ اَفراد پر کسی نہ کسی طرح ضَرور اَثَر انداز ہوتی ہے،[13]لِہٰذا اِسْلَام نے عورتوں کی اس بُنْیَادِی اَہَمِیَّت کے پیشِ نَظَر اس کی ہر حَیْثِـیَّت کے


 مُطابِق اس کے حُقُوق و فَرَائِض کا نہ صِرف تَعَیُّن کیا بلکہ اسے مُعَاشَرے کا ایک اَہَم اور مُفِید فرد بنانے کے لیے اس کی تعلیم و تَرْبِیَت پر بھی خُصُوصِی تَوَجُّہ دی۔ جیسا کہ ذیل میں مَوجُود فرامینِ مصطفےٰ سے ظاہِر ہے۔

علم سیکھو کے آٹھ حروف کی نسبت سے اسلامی بہنوں کی تعلیم و تربیت پر مبنی (8)فرامینِ مصطفٰے
مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْلَامی بہنوں کی تعلیم وتَرْبِیَت کے حوالے سے جو مُـخْتَلِف مَوَاقِع پر فرامین اِرشَاد فرمائے، ان میں سے آٹھ۸ پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1 )…عورتوں کو چرخہ کاتنا سکھاؤ اور انہیں سورۂ نُور کی تعلیم دو۔ [14]

(2 )…عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا: جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔[15]

(3 )…اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا (کا حِصّہ) ہیں۔[16]

(4 )…باندیوں کے لیے اچھّی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام کر کے انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے والوں کو دوہرے ثواب کا مُژْدَہ سنایا۔[17] اس رِوایَت کی شَرْح میں حضرت علّامہ مولانا بَدْرُ الدِّین عینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی تحریر فرماتے ہیں: اچھّی تَرْبِیَت کرنے اور عِلْمِ دین سکھانے کا حُکْم صِرف باندی کے لیے خاص نہیں بلکہ اس حُکْم میں سب شامِل ہیں۔[18]

(5 )… سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدَتُنا شِفا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایاکہ وہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نملہ (چیونٹی) کا دم کیوں نہیں سکھاتی جیسے انہیں لکھنا سکھایا ہے۔[19] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن لفظِ نملہ کے معنیٰ کی وَضَاحَت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:نملہ باریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بَہُت سَخْت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جِسْم پر چیونٹیاں رینگتی مَحْسُوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔بعض کا خَیال ہے کہ اس کا نام موتی جھرہ ہے مگر یہ دُرُسْت نہیں کہ موتی جھرہ تمام جِسْم پر ہوتا ہے حضرت شِفا (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا)مکہ معظمہ میں اس مرض کا بہترین دَم کرتی تھیں آپ وہاں اس دَم کی وجہ سے مَشْہُور تھیں۔ [20]

(6 )…اپنی اولادکو تین۳ باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبی کی مَحبَّت (۲) اَہْلِ بیْت کی مَحبَّت اور (۳) قرأتِ قرآن۔ [21]

(7 )…اپنی اولاد کے ساتھ نیک سُلُوک کرو اور انہیں آدابِ زِنْدَگی سکھاؤ۔[22]

(8 )…جس نے تین۳ بچیوں کی پروش کی، انہیں اَدَب سکھایا، ان کی شادی کی اور اَچھّا سُلُوک کیا اس کے لیے جنّت ہے۔ [23]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عَمَلی عِلْمی اَقدامات
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابیات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے عملی طور پر بھی ان کی تعلیم و تَرْبِیَت کا حد دَرَجَہ اِہتِمام فرمایا۔

حُصُولِ عِلْم کی چُونکہ عام طور پر دَرْج ذَیل صورتیں ہوتی ہیں:

(1)…اُسْتَاذ علم سکھانے کیلئے کسی مَخْصُوص وَقْت پر شاگرد کو اپنے پاس بلائے۔

(2)…شاگرد کے گھر جا کر اسے پڑھائے اور اس کی تَرْبِیَت کرے۔

(3)…کوئی ایسی جگہ مُقَرَّر کر دے جو اس کا اور اس کے شاگرد کا گھر نہ ہو۔

(4)…جو لوگ کسی وجہ سے اُسْتَاذ کی خِدْمَت میں حاضِر ہو سکیں نہ اُسْتَاذ ان کے پاس جا سکے تو انہیں زیورِ عِلْم سے مالا مال کرنے کیلئے اُسْتَاذ علم حاصِل کرنے والوں کو یہ ذِمَّہ داری سونپے کہ کسی وجہ سے شریکِ مَـحْفِل نہ ہونے والوں تک یہ عِلْمی فیضان پہنچائیں۔

نوٹ: بہتر یہ ہے کہ شاگرد اُسْتَاذ کے پاس جاکر سیکھے،جیسا کہ (حضرت سَیِّدُنا) موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام (حضرت سَیِّدُنا) خضر عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس عِلْم سیکھنے گئے تھے،(حضرت سَیِّدُنا)خضر عَلَیْہِ السَّلَام آپ کے پاس نہ آئے تھے۔[24] لِہٰذا اس اِعْتِبَار سے اگر سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عملی اَقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تمام صورتیں بَدَرَجَۂ اَتم نَظَر آتی ہیں۔چُنَانْچِہ،

حصولِ علم کی پہلی صورت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عِلْمِ دین سیکھنے کے بارے میں نہ صِرف ہر مَوْقَع پر صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حَوْصَلہ افزائی فرمائی بلکہ مُـخْتَلِف مَوَاقِع پر انہیں اس کی ترغیب بھی دِلائی۔چونکہ اس وَقْت حُصُولِ عِلْم کا واحِد ذریعہ ذاتِ نبوی تھی اور ہر مَـحْفِل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَرْبِیَت و اصلاح کے بیش قیمت مَدَنی پھول اِرشَاد فرماتے رہتے تھے، جیسا کہ حضرت سیِّدَتُنا ہند بنتِ اُسَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قرآنی اَلْفَاظ میں خِطاب فرماتے تھے۔ میں نے سورہ ق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مِنْبَر پر بَکَثْرَت سُن کر

 یاد کی تھی۔[25] یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تَرْبِیَت فرما رہے تھے اور صَحَابِیّات طَیِّبَات عَلَیْہِنَّ الرِّضْوَان بھی باپردہ ایک طرف مَوجُود تھیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ مَحْسُوس فرمایا کہ شاید صحابیات کو بات سمجھ میں نہیں آئی چُنَانْچِہ ان کے قریب آ کر دوبارہ از سرِ نو وَعْظ و نصیحت اِرشَاد فرمایا۔[26] ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عید کے مَوْقَع پر تمام خواتین کو شِرْکَت کا پابند بنایا، حَالَتِ پاکی تو کجا، ناپاکی کی حَالَت میں بھی آنے کی تاکید فرمائی، یہی نہیں بلکہ اوڑھنی کے نہ ہونے پر بھی انہیں مَعْذُور نہ جانا اور حاضِری کی سَخْت تاکید فرمائی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم نو عمر لڑکیوں، حیض والیوں اور پردے والیوں کو حُکْم دیا کہ عیدَین پر (نَماز کے لیے)گھر سے نکلیں مگر حیض والیاں نَماز میں شامِل نہ ہوں،بلکہ بھلائی کے کاموں اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں۔ میں نے عَرْض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے بعض کے پاس تو جِلْبَاب (برقع یا بڑی چادر) نہیں ۔تو آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی جِلْبَاب (بڑی چادر کا کچھ حِصّہ)اوڑھا لے۔[27]

حج اور عمرہ کے مَوْقَع پر بھی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبارگاہِ رِسَالَت

میں حاضِر رہیں اور یوں حج وغیرہ کے مُتَعَلِّق بھی  بَہُت سے اَہَم اور بُنْیَادِی مَسَائِل ہم تک انہی کے ذریعے پہنچے۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا عورتوں پر بھی جِہاد فَرْض ہے؟تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اِرشَاد فرمایا: ہاں!مگر ان پر جو جِہاد فَرْض ہے اس میں قِتال نہیں اور وہ حج و عمرہ ہے۔[28]اسی طرح صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے بعض صورتوں میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بات کی صَراحَت بھی حاصِل کر لی کہ مَردوں کی طرح وہ بھی نیکی و خیر کے بعض کام کر سکتی ہیں مَثَلًا مَعْذُور[29] اور فوت شدہ[30] کی طرف سے وہ  بھی حج ادا کر سکتی ہیں۔

اَلْغَرَضْ زِنْدَگی کے کئی شعبوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خواتین کو شِرْکَت کے مَوَاقِع فَرَاہَم کیے اور ان کی نہ صِرف حَوْصَلہ اَفزائی فرمائی، بلکہ عِبادات سے لے کر سماجی اور مُعَاشَرْتی تمام مَسَائِل و مَراحِل میں ان کی خصوصی تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا، یہاں تک کہ دورِ نبوی میں چند مَوَاقِع ایسے بھی آئے جب صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی فراست کو ہر ایک نے تسلیم کیا۔ چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ حَجَّةُ  الْوَدَاع کے مَوْقَع


پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس مسئلہ میں تشویش کا شِکار ہو گئے کہ عَرَفہ (یعنی نو ذو الحجۃ الحرام) کے دن روزہ رکھا جائے گا یا نہیں؟تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ فَضْل بِنْتِ حارِث رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس مَوْقَع پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس اِخْتِلاف کو کچھ یوں دُور فرمایا کہ دودھ کا ایک پیالہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقْدَس میں بھیجا جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے ہی نوش فرما لیا۔[31] اور یوں صحابہ کرام کی تشویش دور ہو گئی۔ اسی طرح ایک دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سوال کیا: عورت کیلئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ تو کسی صحابی کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیدہ خاتونِ جنّت حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس آئے اور ان سے اس سوال کا جواب پوچھا تو انہوں نے کچھ یوں جواب اِرشَاد فرمایا: عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ کسی مَرد کو دیکھے اور نہ کوئی مَرد اسے دیکھے۔ لِہٰذا حضرت سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بارگاہِ رِسَالَت میں جب یہ جواب عَرْض کیا تو سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا: (اے علی!) یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟ عَرْض کی: آپ کی شہزادی فاطمہ (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) نے۔ تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: فاطمہ نے سچ کہا ہے، فاطمہ تو میرے بَدَن کا ٹکڑا ہے۔ [32]

حصولِ علم کی دوسری صورت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حُصُولِ عِلْم کی دوسری صُورَت سے مُراد یہ ہے کہ اُسْتَاذ خود چل کر شاگرد کے ہاں جائے اور اسے عِلْم کی دولت سے مالا مال کرے۔ جب ہم اس تَناظُر میں مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حَیاتِ طیبہ پر نَظَر ڈالتے ہیں تو ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بَہُت سی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے گھروں میں بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان خاص مَوَاقِع کی تفصیلات خاص اسی گھر کی میزبان خواتین سے آج ہم تک پہنچی ہیں۔ ذیل میں اس کی پانچ۵ مثالیں پیشِ خِدْمَت ہیں:

(1 )…ایک مرتبہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب کے ہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ پر کپکپی طاری ہے۔حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: اے اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب! کیوں کپکپا رہی ہو؟ عَرْض کی: بُخار کی وجہ سے۔ پھر فوراً کہنے لگیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بَرَکَت نہ عَطا فرمائے تو ان کے اس جملے پر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: بُخار کو بُرا مت کہو! یہ تو ابنِ آدم کی خطاؤں کو یوں دُور کرتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔ [33]

(2 )…حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شوہر حضرت سَیِّدُنا ابو سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی

 عَنْہ کی وفات کے بعد سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَعْزِیَت کیلئے آپ کے پاس تشریف لائے تو اُس وَقْت آپ نے اپنے چہرے پرمُصَبَّر (ایلوا)کا لیپ کیا ہوا تھا، سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ دیکھ کر دَرْیَافْت فرمایا: اُمِّ سَلَمَہ یہ کیا ہے؟ تو گویا آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِدَّت میں چونکہ خوشبو لگانا مَنْع ہے اور ایلوے میں خوشبو نہیں ہوتی، اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اِرشَاد فرمایا:اس سے چہرے میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے تو رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر دیا کرو۔(یعنی عِدَّت میں صِرف خوشبو ہی مَـمْنُوع نہیں بلکہ زِیْنَت بھی مَـمْنُوع ہے، ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نِکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے،لہٰذا زِیْنَت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ مَـمْنُوع ہے، اگر لیپ کی ضَرورت ہی ہو تو رات میں لگا لیا کرو کہ وہ وَقْت زِیْنَت کا نہیں اور دن میں دھو ڈالا کرو۔) پھر اِرشَاد فرمایا:خوشبو اور مہندی سے بھی بال نہ سنوارو۔(یعنی زمانۂ عِدَّت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حِصّہ خصوصًا سر میں اِسْتِعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رَنگت بھی۔)عَرْض کی: کنگھا کرنے کے لیے کیا چیز سر پر لگاؤں؟(یعنی عورت کو سر دھونے کنگھی کرنے کی ضَرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مَـمْنُوع ہوگئیں تو یہ ضَرورت کیسے پوری کروں؟)فرمایا: بیری کے پتّے سر

 پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔[34]

(3 )…سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسا اَوقات حضرت سَیِّدَتُنا شفا بنت عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر قیلولہ فرمایا کرتے تھے، چُنَانْچِہ انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے ایک بِسْتَر اور چادَر کو مَخْصُوص کر رکھا تھا کہ جب کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوپہر میں ان کے گھر قیلولہ فرماتے تو یہی بِسْتَر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے بچھایا کرتیں۔ یہ بستر ہمیشہ آپ کے پاس رہا یہاں تک کہ جب مَروان بن حکم کا دور آیا تو اس نے لے لیا۔[35]

(4 )…فتح مکہ کے دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سگی بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مکان پر غسل فرمایا،پھر نَمازِ چاشت ادا فرمائی۔[36]تو اس کی تفصیلات اسی طرح ایک مرتبہ ان کے ہاں تشریف لائے تو دَرْیَافْت فرمایا: کچھ (کھانےکو) ہے؟ عَرْض کی:سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ اِرشَاد فرمایا: لے آؤ! جس گھر میں سرکہ ہے، اس گھر والے سالَن کے مُحتَاج نہیں۔[37]

(5 )…حضرت سَیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا خولہ

 بنت قیس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائےتو میں نے کھانا تیّار کیا،تَناوُل فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا میں گناہوں کو مِٹانے والی چیز کی طرف تمہاری رَہْنُمائی نہ کروں ؟ عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِرشَاد فرمائیے۔فرمایا:مشقتوں کے باوُجُود پورا وُضو کرنا(یعنی سردی یا بیماری وغیرہ کی حالت میں جب وضو مُکَمَّل کرنا بھاری ہو تب مُکَمَّل کرنا[38])،مَسْجِد میں کَثْرَت سے جانا، ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا اِنتِظار کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے




No Comment to " Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil e Naat 9th March 2019 at Rajpot Town Lahore "