News Ticker

Sagheer Ahmed Naqshbandi Live New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Gajjumata Road, Lahore

By Sadqe Ya Rasool Allah - Saturday, 9 March 2019 No Comments

Sagheer Ahmed Naqshbandi Live New
Mehfil e Naat 8th March 2019 at Gajjumata Road, Lahore 


Sagheer Ahmed Naqshbandi Live New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Gajjumata Road, Lahore





شبیہ والے مصلّے پر نماز پڑھنا کیسا۔۔۔ جانیئے ایک مستند جواب؟


سُوال :جس مُصَلّے پر خانہ کعبہ یا گنبدِ خضرا کی شبیہ(یعنی تصویر) بنی ہو اس پر نماز پڑھنا دُرُست ہے یا نہیں ؟
جواب:خانہ کعبہ یا گنبدِ خضرا کی شبیہ(یعنی تصویر)والے مُصلوں پر نماز پڑھنا اگرتوہین کی نیت سے  نہ ہو تو جائز ہے اَلْبَتَّہ ان پر نماز پڑھنے سے بچنا بہتر ہے۔(www.videoszilla.com)لوگ خانہ کعبہ یا گنبدِ خضرا کی تصاویر کی فریم بنوا کر گھروں میں آویزاں  کرتے،اُن کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ہیں اور اگر کہیں نیچے زمین پر رکھی ہوئی اِن کی  شبیہ (تصویر)نظر آ جائے  تو بڑے اَدَب کے ساتھ چوم کر بلند جگہ پر رکھ دیتے ہیں لیکن نماز کے  وقت ان کا خانہ کعبہ یا گنبدِ خضرا کی شبیہ والے مُصلے بچھا کر انہیں اپنے قدموں تلے رکھنا،(www.videoszilla.com)ان  پر گھٹنے ٹیکنا،ان پر بیٹھنا اور نماز سے فارغ ہوتے  ہی مُصَلَّا لپیٹ کر ایک طرف پھینک دینا یہ قابلِ غور ہےکہ  ایک طرف تو  ان کا اتنا اَدب و اِحترام  کیا جاتا ہے اور دوسری طرف انہیں بچھا کر پاؤں کے نیچے رکھا جاتا ہے !   
(شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:)تبلیغِ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَعرضِ وجود میں آنے سے پہلے بھی میں خانہ کعبہ یا گنبدِ خضرا کی شبیہ والے مُصَلّے پر نماز پڑھنے سے اِجتناب کرتا تھا۔(www.videoszilla.com) یہ میری اپنی سوچ ہے کہ جب ہم ان مقدَّس مقامات  کی اتنی تعظیم کرتے ہیں تو پھر ان کی شبیہ والے مصلوں پر پاؤں رکھ کر کیسے کھڑے ہوں؟ میرے اس عمل  پر کسی سُنّی عالم نے میری مخالفت بھی نہیں  کی بلکہ ایک عالم صاحب کے پاس میرا آنا جانا تھا، اُن کے ہاں بھی شبیہ والے مُصَلّے بچھے ہوتے تھے، میں  نے بڑے اَدَب کے ساتھ ان کی توجُّہ اس طرف مبذول کروائی تو  انہوں  نے نہ صرف میری حمایت کی بلکہ وہ مُصَلّے بھی اُٹھوا دیئے۔
اِسی طرح لوگ مدینۂ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرْفًا وَّتَعْظِیْمًا کے مُصَلّے لا کر  گھروں میں اِستعمال کرتے ہیں۔(www.videoszilla.com)خاکِ مدینہ کا تو اِس قدر اَدَب کرتے ہیں  کہ اسے پاؤں کے نیچے نہیں آنے دیتے،اگر انہیں خاکِ مدینہ مل جائے تو اُسے چومتے اور آنکھوں   میں  بطورِ سُرمہ لگاتے ہیں لیکن نماز کے وقت مدینے کے مُصَلّے پر پاؤں  رکھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں،اگرچہ یہ  جائز ہے  مگر میرا دِل گوارا نہیں  کرتا کہ کہاں مدینہ شریف کا بابرکت مُصَلَّا اور کہاں ہمارے گنہگار پاؤں دونوں میں کوئی تقابل ہی نہیں۔    ؎  
چِہ نِسْبَتْ خَاک رَا بَا عَالَمِ پَاک
یعنی  مٹی کو عالَمِ پاک سے کیا نسبت ہے(www.videoszilla.com)
بہرحال شرعاً شبیہ والے اور مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے لائے گئے مُصَلّوں  پر نَماز پڑھنا جائز ہے لیکن اَدَب کا تقاضا یہی ہے کہ اِن  مُصَلّوں  کا بھی اِحترام کیا جائے۔حج و عمرہ سے واپس آنے والے بہت سے لوگ مجھے بطورِ تحفہ خانہ کعبہ اور گنبدِخضرا کی شبیہ والے مُصَلّے  دے جاتے  ہیں مگر میں ننگے فرش پر ہی  نماز پڑھنا پسند کرتا ہوں۔
سُوال : ننگے فرش پر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب:(شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں:) (www.videoszilla.com) میں ننگے فرش پر ہی  نماز پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ بغیر کچھ بچھائے ننگے فرش  پر نماز پڑھنا اَفضل ہے جیسا کہ مَراقی الفلاح میں ہے: زمین پر بِلاحائل (یعنی مُصلَّا، دَری یا  کپڑا وغیرہ بچھائے بغیر ) نماز پڑھنا اَفضل ہے۔([5]حضرتِ سیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِیْز صِرف مِٹّی ہی پر سجدہ کرتے تھے۔([6])اور زمین پر بِلاحائل نماز پڑھنا تو ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بھی ثابِت ہےچُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنی رِوایت کردہ طویل حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں:اِکّیس رَمَضانُ الْمُبارَک کی صُبح  کو میری (www.videoszilla.com)آنکھوں نے مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اِس حالت میں دیکھاکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیشانی  مُبارک پر پانی والی گیلی مِٹّی کا نِشانِ عالی شان تھا۔([7]) اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ رسولِ پاک،صاحِبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خاک پر سجدہ ادا فرمایا جبھی تو خاک کے(www.videoszilla.com) خوش نصیب ذَرَّات سرورِ کائنات،شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نورانی پیشانی سے بے تابانہ چمٹ گئے تھے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مُصَلے عُمُوماً لمبائی اور چوڑائی میں کم ہوتے ہیں بعض اوقات جسم کو کچھ نہ کچھ سمیٹنا پڑتا ہے جس سے نماز میں  توجُّہ بٹتی ہے۔ مُصَلّے کی لمبائی کم ہونے کی وجہ سے اس کی کناری پر سجدہ کرنا پڑتا ہے اور نماز میں دری یا مُصَلّے  کی کناری پر جب میرا پاؤں پڑتا یا سجدے میں پیشانی لگتی ہے(www.videoszilla.com) تو مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ مسئلہ صرف مجھے ہی دَرپیش نہیں  بلکہ اوروں کو بھی اس سے واسطہ پڑتا ہو گا۔بالخصوص بھاری(Heavyجسامت والے اسلامی بھائیوں کو اس کی کناریوں سے تکلیف ہوتی ہو گی ۔  
تیسری وجہ یہ ہے کہ دَریاں وغیرہ آگے پیچھے پھسلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان  پر صَف بھی دُرُست نہیں  بنتی لہٰذا جب تک ان کی حاجت نہ ہو  انہیں نہ بچھایا جائے تاکہ دَورانِ جماعت صفیں بھی دُرُست بنیں اور نماز میں خشوع و خضوع بھی حاصل ہو۔ اَلبتہ  جن علاقوں میں سردی ہو اور نمازیوں(www.videoszilla.com) کو فرش سے تکلیف ہوتی ہو تو وہاں دَریاں بچھانے میں حرج نہیں بلکہ جہاں بہت زیادہ  سردی ہو وہاں سادہ پتلا قالین (Carpet) بچھانے میں بھی حَرج نہیں۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی مراکز یا مَساجد و مدارس میں قالین (Carpet) متعلقہ ذِمَّہ داران کی اجازت سے ہی بچھایا جائے اور پھر اس کی دیکھ بھال اور صفائی(www.videoszilla.com) وغیرہ  کے شرعی تقاضے بھی پورے کیے جائیں ۔

نقش ونِگار والے مُصَلّوں پر نماز پڑھنا اچھا نہیں
سُوال :بعض مُصَلّوں اور کارپیٹ (Carpetپر پھول ،محرابیں یا مَساجد وغیرہ کی تصاویر بنی ہوتی ہیں  ان پر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب:نقش و نِگار والے مُصَلّوں پر نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں مگر ان کا اِستعمال نہ ہی(www.videoszilla.com)  ہو تو اچھا ہے کیونکہ  حالتِ نَماز میں  سجدے کے مقام پر نظرکرنا مستحب ہے اور یہ طے شدہ (Understood)بات ہے کہ جب نمازی سجدے کے مقام پر دیکھے گا تو مُصَلّےیا  کارپیٹ(Carpet) کی زیبائش اور چمک دَمک وغیرہ کی وجہ سے اس کی توجُّہ بٹے گی جیسا کہ مفتیٔ اعظم پاکستان،وقارُ المِلَّت حضرتِ مولانا مفتی (www.videoszilla.com)محمد وَقار الدّین قادِری رَضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں:نقش و نِگار والی جا نمازوں  پر نَماز پڑھنا اچھا نہیں  ہے کہ توجُّہ اِن کی طرف رہے گی اور خُشوع و خُضوع میں  فرق آئے گا۔([8])

مُصَلّوں سے چِٹ جُدا کر دیجیے
سُوال :آج کل عموماً مُصَلّوں کے ساتھ  چِٹ لگی  ہوتی ہے جس پر ان (www.videoszilla.com)کوتیار کرنے والی کمپنی وغیرہ  کا نام لکھا     ہوتا ہے ایسے مُصَلّوں پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:ایسے مُصَلّے جن پر کچھ لکھا ہوا ہو ان پر نماز نہ پڑھی جائے۔ ان  مُصَلّوں پر لگی

        ہوئی چِٹ کو جُدا کر کے انہیں اِستعمال میں لایا جائے۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بچھونے یا مصلّے پر کچھ لکھا ہوا(www.videoszilla.com)ہو تو اس کو اِستعمال کرنا  ناجائز ہے،یہ عبارت اس کی بناوٹ میں ہو یا کاڑھی گئی ہو یا روشنائی سے لکھی ہو اگر چہ حُروفِ مُفْرَدَہ (یعنی جُدا جُدا حُروف) لکھے ہوں کیونکہ حروفِ مُفْرَدہ (یعنی جُدا جُدا لکھے ہوئے حروف) کا بھی اِحترام ہے۔ اکثر دَسترخوان پر عبارت لکھی ہوتی ہے ایسے دَسترخوانوں کو اِستعمال میں لانا ان پر کھانا کھانا نہ چاہیے(www.videoszilla.com)۔ بعض لوگوں کے تکیوں پر اَشعار لکھے ہوتے ہیں ان کا بھی اِستعمال نہ کیا جائے۔([9])
سُوال : مسجد کی دَریاں وغیرہ اپنے ذاتی اِستعمال میں لانا کیسا ہے ؟
جواب:مسجد کی کسی بھی چیز کو اپنے ذاتی اِستعمال میں نہیں لا سکتے ۔بعض امام و   مؤذِّن صاحبان مسجد کی دَریاں اپنے حُجرے  میں  بچھا لیتے ہیں یہ  مسجد کی دَریوں کا بے محل اِستعمال ہے جو کہ جائز نہیں۔ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے  ہیں(www.videoszilla.com): مسجد کی اَشیا مثلاً لوٹا چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کر سکتے مثلاً لوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لے جا سکتے اگرچہ یہ اِرادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا۔ اُس کی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا ناجائز ہے۔ یونہی مسجد کے ڈول رسی سے اپنے گھر کے ليے پانی بھرنا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بےمحل اِستعمال کرنا(www.videoszilla.com)ناجائز ہے۔([10])
سُوال :کیا معتَکف وُضو خانے پر کپڑے دھو سکتا ہے؟
جواب:  وُضو خانہ اگر فنائے مسجد میں ہے تو اس پر معتکف بِلاتکلف جا سکتا ہے مگر جہاں تک کپڑے دھونے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں  عرض ہے کہ وُضو خانے پر کپڑے  نہ دھوئے جائیں(www.videoszilla.com)  کیونکہ مسجد کا پانی نمازیوں کی ضَروریات کے لیے ہوتا ہے۔ اگر ہر معتکف اپنے کپڑے یا چادریں  وغیرہ وضو خانے پر دھونا شروع کر دے تو جس مسجد میں پانی محدود ہو گا وہاں نمازیوں کو  دِقّت کا سامنا کرنا پڑے گا اور جن  نمازیوں کے  گھر مسجِد کے اَطراف میں نہیں  مسجد میں  پانی نہ ہو نے کے سبب وہ جماعت سے محروم رہ جائیں گے۔  
دعوت ِاسلامی کے زیرِ اِہتمام پورے رَمضانُ المبارک کے(www.videoszilla.com)  تربیّتی اِعتکاف اورخصوصاً رَمضانُ المبارک کے آخری عَشْرے کے سُنّتِ اِعتکاف کی ترکیب ہوتی ہے۔اس میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہزاروں  اِسلامی بھائی اِعتکاف کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔اب اگر ہر معتکف اسلامی بھائی اپنے کپڑے مسجد کے وضو خانے پر  دھونا شروع کر دے تو پانی ختم ہو جائے گا اور بالآخر خود معتکفین کو اور  عام نمازیوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا لہٰذا معتکفین اِسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اِعتکاف  بیٹھنے سے پہلے اپنے کپڑے(www.videoszilla.com) دُھلوا لیں یا پھر لَانْڈرِی کے ذریعے دُھلوانے کی ترکیب بنائیں۔  
دَورانِ اِعتکاف کپڑے وغیرہ دھونے کی ترکیب نہ ہی بنائی جائے تو بہتر ہے تاکہ جو وقت کپڑے دھونے میں صرف ہو رہا ہے وہ بھی سیکھنے سکھانے اور عبادت کرنے میں صرف ہو،اَلبتہ اگر کسی کے  پاس کپڑوں  کے ایک یا  دو جوڑے ہوں  اور وہ  میلے یا ناپاک ہو گئے  ہوں اب  گھر  مسجِد کے قریب ہے(www.videoszilla.com)  نہ کوئی دھو کر دینے والا اور نہ ہی پاس اتنے پیسےہیں  کہ لانْڈرِی سے  دُھلوا سکے  تو ایسی مجبوری کی حالت میں وہ وضو خانے پر  کپڑے دھو لے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ پانی کا ایک چھینٹا بھی مسجد کی  دَری یا فرش پر گرنے نہ پائے لہٰذا کسی بڑے برتن یا ٹب وغیرہ میں کپڑے  دھوئے جائیں۔ یوں ہی وضو کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وضو کی کوئی چھینٹ مسجد میں نہ گرے۔ میرے آقااعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ ” اگر معتکف کسی معقول وجہ سے مسجد ہی میں وُضو کرے تو اسے اِجازت ہوگی؟“ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے جواباً اِرشاد فرمایا :نہیں، مگر جبکہ وہ باحتیاط اِس طر ح وضو کرے(www.videoszilla.com) کہ اُس کے وضو کی چھینٹ مسجد میں نہ گرے کہ اِس کی سخت ممانعت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ فصیل (یعنی حوض کی دیوار)پر وضو کیا اور ویسے ہی ہاتھ جھٹکتے فرشِ مسجد میں پہنچ گئے ،یہ ناجائز ہے ۔   میں نے ایک بار بغیر برتن کے خاص مسجد میں و ضو جائز طور پرکیا ،وہ یوں کہ پانی موسلا دھار پڑ رہا تھا اور میں معتکف، جاڑوں کے دن تھے،میں نے تَوشک (یعنی روئی دار بستر) بچھا کر اور اِس پر لحاف ڈال کر وضو کر لیا۔ اس صورت میں ایک چھینٹ بھی مسجد(www.videoszilla.com) کے فرش پر نہ پڑی ،پانی جتنا وُضو کا تھا توشک و لحاف نے جَذب کر لیا۔([11])


No Comment to " Sagheer Ahmed Naqshbandi Live New Mehfil e Naat 8th March 2019 at Gajjumata Road, Lahore "