News Ticker

Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 14 April 2019 at Islampura Lahore Courtesy Qadri Ziai Sound

By Sadqe Ya Rasool Allah - Monday, 15 April 2019 No Comments

Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 14 April 2019
 at Islampura Lahore Courtesy Qadri Ziai Sound


Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 14 April 2019 at Islampura Lahore Courtesy Qadri Ziai Sound





مسجد کے دائیں کونے میں دو مُعَلَّق تخت

سُوال:مدینۃُ الْاولیا احمدآباد (ہند) میں ۳۰،۲۹،۲۸ رَجبُ المرجَّب ۱۴۱۸ھ مطابِق

       30،29،28 نومبر 1997 ؁ء کو دعوتِ اسلامی کا عظیمُ الشان تین روزہ سنّتوں بھرا اِجتماع ہوا۔ اِس اِجتماع  میں شرکت کے لیے ہمارا مدنی قافلہ شیخ ِ طریقت، اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ ۲۶ رَجبُ المرجَّب بروز بدھ بابُ المدینہ (کراچی) سے بمبئی پہنچا۔ ائیرپورٹ سے سیدھے ماہِم شریف میں حضرتِ سیِّد مخدومِ ماہِم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مَزار پر حاضِری دی پھر ساحِلِ سَمُندر پہنچ کر حضرتِ قبلہ حاجی علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے مَزار شریف پر حاضری دی۔ ۲۷ رَجبُ المرجَّب کی صبح احمدآباد شریف کے ہوائی اَڈّہ پر شیخِ طریقت،اَ میرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا شاندار اِستقبال ہوا۔ ائیر پورٹ سے براہِ راست یہاں کے مشہور بُزرگ حضرت قبلہ سیِّد شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی دَرگاہ پر حاضر ی ہوئی، مَزارِپاک سے ملحقہ مسجدمیں قافلہ نے نمازِ اِشراق و چاشت ادا  کی، مسجد کے دائیں کونے میں دو تخت مُعَلَّق تھے ان میں جو بڑا تخت تھا اُس کے نیچے شیخ ِ طریقت،اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیٹھ گئے۔ حاضِرین بھی وہیں جمع ہو گئے۔آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب دُعا کروانا چاہی تو شہزادۂ عطَّار حضرت مولانا اَلحاج ابو اُسید، عبید رضا عطَّار ی المدنی مدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے عرض کی کہ دُعا سے قبل اِن دونوں تختوں کے بارے میں کچھ  بتا دیجیے۔  
جواب:(شیخِ طریقت،اَمیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان دونوں تختوں کے مسجد کے دائیں کونے

           میں مُعَلَّق ہونے کے متعلق اِرشادفرمایا کہ) حضرتِ سیِّدُنا شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ بَہُت بڑے عالمِ دِین اور پائے کے ولِیُّاللہ تھے۔ آپ نہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ دِین کی تعلیم دیتے تھے۔ ایک بار بیمار ہو کر صاحبِ فِراش ہوگئے اور پڑھانے کی چھٹیاں ہوگئیں۔ جس کا آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بے حد افسوس تھا۔ تقریباً چالیس دن کے بعد صحّت یاب ہوئے اور مدرَسے میں تشریف لا کر حسبِ معمول اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس دن پہلے جہاں سبق چھوڑا تھا وَہیں سے پڑھانا شروع کیا۔ طلبا نے متعجب ہو کر عرض کی:حُضُور! آپ نے یہ مضمون تو بَہُت پہلے پڑھا دیا ہے۔ گزشتہ کل تو آپ نے فُلاں سبق پڑھایا تھا !یہ سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ فورًا مُراقِب ہوئے۔ اُسی وقت سرکارِ مدینہ،قرارِقلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زِیارت ہوئی۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لبہائے مُبارَکہ سے مشکبارپھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:’’شاہِ عالَم! تمہیں اپنے اَسباق رہ جانے کا بَہُت افسوس تھا لہٰذا تمہاری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھا دیا کرتا تھا۔‘‘جس تخت پر سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوا کرتے تھے اب اُس پر حضرتِ قبلہ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا آپ فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں مسجد میں مُعَلَّق کر دیا گیا۔اس کے بعد حضرتِ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے

        دوسرا تخت بنایا گیا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعَلَّق کر دیا گیا۔
یہاں دُعا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ پیرِ طریقت حضرتِ علّامہ مولانا قاری محمد مُصلح الدِّین صِدِّیقی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو میں نے فرماتے سنا ہے: مُصنِّفِ بہارِ شریعت،صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے ہمراہ مجھے احمدآباد شریف میں حضرت سیِّد شاہِ عالَمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے دَربار میں حاضری کی سعادت حاصِل ہوئی ان دونوں تختوں کے نیچے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے دِل کی دُعائیں کر کے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیر و مرشِد حضرتِ صدرُ الشَّریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی: حُضُور! آپ نے کیا دُعا  مانگی؟ فرمایا:’’ہر سال حج نصیب ہونے کی۔‘‘میں سمجھا حضرت کی دُعا  کا مَنشا یہی ہو گا کہ جب تک زندہ رہوں حج کی سعادت ملے۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قصد فرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سوار ہونے کے لیے اپنے وطن ضِلع اعظم گڑھ قصبہ گھوسی سے بمبئی تشریف لائے۔ یہاں آپ کو نُمونیہ ہو گیا اور سفینے میں سُوار ہونے سے قبل ہی آپ وفات پا گئے۔ 
مدینے کا مُسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں



وہ دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ آپ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔ خود صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’بہارِ شریعت‘‘حصَّہ 6 صفحہ 1034پر یہ حدیثِ پاک نقل فرمائی ہے کہ رسولُ  اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو حج کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا  تو قِیامت تک اُس کے لیے حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کے لیے قِیامت تک عمرہ کرنے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قِیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔([2])

قُطبِ عالَم کی عجیب کرامت

احمدآباد (ہند) ہی میں’’وَٹوا‘‘کے مقام پر حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے مَزار پر بھی حاضِری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں اینٹ نُما ایک عجیب و غریب چیز ہے جس کا بعض حصَّہ پتھر ، بعض لوہا، بعض لکڑی ہے جبکہ کچھ حصَّہ وہ ہے جسے آج تک شناخت نہیں کیا جا سکا۔ اس ضِمن میں حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ کرامت مشہور ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تہجد کے لیے اُٹھے اور طہارت کی غرض سے اپنے حُجرۂ مبارَکہ سے باہر تشریف لائے اندھیرے میں آپ کا مبارَک پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا۔ آپ


نے جھک کر اُس کو ٹَٹولتے ہوئے فرمایا:’’پتھر ہے! لکڑی ہے! لوہا ہے! نہ جانے کیا ہے؟ “جہاں جہاں آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ  کا دَستِ مبارَک لگتے ہوئے جو جو اَلفاظ زبانِ اَقدس سے نکلے وہ چیز وُہی بنتی گئی اور جہاں ہاتھ مبارَک رکھتے ہوئے فرمایا:’’نہ جانے کیا ہے؟‘‘وہ حصَّہ ایسی چیز بن گیا کہ سائنسدان تجربات کرنے کے باوُجود بھی اُس حصّے کو کوئی نام نہ دے سکے۔ لوگ اپنی مُراد ذِہن میں رکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اُس اینٹ نُما شَے کو اُٹھاتے ہیں۔کہا جاتا ہے اگر مُراد برآنی ہو تو وہ شے بآسانی اُوپر تک اُٹھ جاتی ہے ورنہ نہیں۔میں نے بھی اُسے اُوپر اُٹھا لیا تھا اورمیری یہ  نیّت تھی کہ مجھے اس سال حج کرنا ہے۔ چونکہ میں اسے اُٹھانے میں کامیاب رہا اس لیے میں نے کہا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال حج نصیب ہو گا اور ظاہِر ہے حج کرنا ہے تو اس سے پہلے موت بھی نہیں آئے گی تواَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال  ۱۴۱۸؁ ھ میں حج اور زیارتِ مدینہ منوّرہ کی سعادت مل گئی ۔
تمہارے مُنہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہی
کہا جو دن کو کہ شب ہے تو رات ہو کے رہی

فاسقِ مُعْلِن کو عملیات کی وجہ سے ولی کہنا کیسا؟

سُوال :کئی عامِلین فاسقِ مُعْلِن ہوتے ہیں،نمازوں کی پابندی اور جماعت وغیرہ  کا اِہتمام بالکل نہیں   کرتے مگر ان کے عملیات سے بعض لاعلاج مریض بھی صحتیاب ہو


        جاتے ہیں،جس کی وجہ سے لوگ انہیں ولی سمجھنے اور کہنے لگتے ہیں۔ کیا ان کا ایسا کہنا دُرُست ہے؟
جواب:لاعلاج  مریضوں کا علاج کر دینے سے کوئی ولی یا  بزرگ نہیں بن جاتا، اگر ایسا ہو تو پھر ڈِسپرین(Disprineکی گولی بھی’’ولی‘‘ہے!جی ہاں، دردِ سر ہو تو  کھانے کے بعد ایک یا دو ٹِکیہ لے لینے سے عموماً آرام آجاتا ہے۔اسی طرح وہ غیر مسلم ڈاکٹر جو نہ جانے کتنے ہی مایوس لاعلاج مریضوں کا کامیاب علاج کر دیتے ہیں تو کیا وہ سب”ولی“ہیں؟جی نہیں۔ شِفا دَراصل مِنجانِباللّٰہ ہے اب اس کا سبب کوئی ڈاکٹر بنے یا عامِل۔
قدرت  کا نظام بھی کیا  خوب ہے!”مریض جب دَوا اِستِعمال کرتا ہے دَوا اور مرض کے درمیان ایک فِرِشتہ حائِل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض ٹھیک نہیں ہو پاتا اور  جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شِفا دینا چاہتا ہے تو فِرِشتہ حائِل نہیں ہوتا لہٰذا دَوا  مَرض تک پَہُنچ جاتی ہے اوربحکمِ خُداوندی شِفا مل جاتی ہے۔“([3])اور نام پھر دَوا، ڈاکٹر یا عامِل کا ہو جاتا ہے۔بَہَرحال  خَوارِق (یعنی خلافِ عادت باتوں) کا ظہور مثلاً پانی پر چلنا ، ہوا میں اُڑنا اور کسی جان لیوا بیماری یا پریشانی کو دُور کر دینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کی علامت نہیں بلکہ قبولیت کا دارو مدار تو شریعت و سُنَّت کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے اور اس کی مکمل  پاسداری کرنے


میں ہے چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 546 پر حضرتِ سیِّدُنا شیخ الشُّیوخ اَبُوحَفص عمر بن محمد سُہروردی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی  کا فرمان نقل فرماتے ہیں: ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کے لئے اور اس کے ہاتھ پر خَوارقِ عادات (یعنی خلافِ عادت باتیں) ظاہرہوں اور وہ احکامِ شریعت کا پورا پابند نہ ہو وہ شخص زِندِیق (یعنی بے دین)ہے اور وہ خَوارِق (یعنی خلافِ عادت یا عقل میں نہ آنے والی بات)کہ اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوں مکر (دھوکا) و اِستدراج ہیں۔([4])
اس قسم کی بہت سی خلافِ عادت اور عقل میں نہ آنے والی باتیں نَمرود سے بھی ظاہر ہوئی ہیں چنانچہ تفسیرِ نعیمی میں ہے :نَمرود کے زمانہ  میں تانبے کی ایک بسط تھی جس وقت کوئی جاسوس  یا چور اس شہر میں آتا تو اس بسط سے آواز نکلتی جس سے وہ پکڑا جاتا۔ایک نقارہ تھا کہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہو جاتی اس میں چوب مارتے نقارہ اس چیز کا پتہ دیتا ۔ایک آئینہ تھا جس سے غائب شخص کا حال معلوم ہوتا تھا،جب کبھی اس آئینہ میں نظرکی وہ غائب آدمی اس کا شہر اور قیام گاہ اس میں نمودار ہوگئی۔نَمرود کے دروازے پر ایک درخت تھا جس کے سایہ میں دَرباری لوگ بیٹھتے تھے جُوں جُوں آدمی بڑھتے جاتے اس کا سایہ پھیلتا


جاتا تھا ۔ایک لاکھ آدمی تک سایہ پھیلتا رہتا تھا ،اگر لاکھ سے ایک بھی زیادہ ہو جاتا سارے دھوپ میں آ جاتے۔ایک حوض تھا جس سے مقدمات کا فیصلہ ہوتا تھا مُدَّعِی اور مُدَّعٰی عَلَیْہ (دعویٰ کرنے والا اور جس پر دعویٰ کیا گیا  دونوں) باری باری اس میں گھستے جو سچا ہوتا اس کے ناف کے نیچے پانی رہتا تھا اور جو جھوٹا ہوتا اس میں غوطہ کھاتا تھا ،اگر فوراً توبہ کر لیتا تو بچ جاتا ورنہ ہلاک ہو جاتا اس قسم کی طِلِسْمات (یعنی جادو)پر اس نے دعویٔ خدائی کر دیا تھا۔([5])اس قسم کی خلافِ عادت  باتیں ظاہر ہونے سے اگر کوئی ولی بن جاتا تو  نَمرود  بھی ولی ہوتا لیکن قرآنِ کریم نے اسے ولی نہیں بلکہ کافر کہا چنانچہ پارہ 3 سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 258 میں اِرشادِ ربّ العباد ہے: (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَۘ-اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُۙ-قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُؕ-قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ(۲۵۸))ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر  کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جِلاتا (یعنی زندہ کرتا) اور مارتا ہے بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں  ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق)سے تو اس کو پچھم (مغرب)سے لے آ تو ہوش اُ ڑ گئے کافر (یعنی نَمرود) کے اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو۔  

ولی ہونے  کے لیے ایمان وتقویٰ شرط ہے

سُوال :کیا ولی  ہونے کے لیے کرامت شرط ہے؟
جواب:ولی ہونے کے لیے کرامت شرط نہیں  بلکہ ایمان اور تقویٰ شرط ہے جیسا کہ  پارہ 11 سورۂ یونس کی آیت نمبر63 میں خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)ترجمۂ کنزُ الایمان:”(اولیا)وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔“اسی طرح پارہ 9 سورۃ ُ الْانفال کی آیت نمبر 34 میں اِرشاد ہوتا ہے: (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ)ترجمۂ کنزالایمان:اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:کوئی کافر یا فاسق اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کا ولی نہیں ہو سکتا۔ ولایتِ الٰہی ایمان و تقویٰ سے میسر ہوتی ہے۔([6]) معلوم ہوا کہ ولی کے لیے کرامت کا ہونا شرط نہیں بے شمار ایسے اَولیائے  کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام  گزرے ہیں جن سے ایک کرامت بھی منقول نہیں،اگر کسی نے ان سے کرامت کا مُطالبہ کیا بھی تو انہوں نے عاجزی و انکساری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو گناہ گار ظاہر فرمایا جیسا کہ ”حضرت خواجہ شیخ بہاؤ الحق والدِّین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔آپ سے کسی نے عرض کی کہ حضرت تمام اَولیاء سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں،حضور سے بھی کوئی کرامت دیکھیں!

 فرمایا:اس سے بڑی اور کیا کرامت ہے کہ اتنا  بڑا بھاری بوجھ گناہوں کا سر پر ہے اور زمین میں دھنس نہیں جاتا۔“([7])
اَلبتہجہاں حاجت دَرپیش ہو وہاں بھی شہرت یا لذّتِ نفس کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے قُلوب و ایمان کی تقویت اور مشرکین و منکرین کو جواب دینے کی غرض سے کرامت  کا اِظہار کرتے ہیں جیسا کہ ایک بدعقیدہ بادشاہ نے ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کے رُفقا سمیت گَرِفتار کر لیا اور کہا کہ کرامت دکھاؤ ورنہ آپ کو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا جائے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُونٹ کی مینگنیوں کی طرف اِشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں  اُٹھا لاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا ہیں؟ جب لوگوں نے انہیں اُٹھا کر دیکھا تو وہ خالِص سونے کے ٹکڑے تھے۔ پھر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خالی پیالے کو اُٹھا کر گھمایا اور اَوندھا کر کے بادشاہ کو دیا تو وہ پانی سے بھرا ہوا تھا اور اوندھا ہونے کے باوُجُود اُس میں سے ایک قطرہ بھی پانی نہیں گِرا۔ یہ دو کرامتیں دیکھ کر بدعقیدہ بادشاہ کہنے لگا کہ یہ سب نَظَر بندی اور جادو ہے۔ پھر بادشاہ نے آگ جلانے کاحکم دیا ۔ جب آگ کے شُعلے بُلند ہوئے تو وہ بُزرگ اپنے رُفقا سمیت آگ میں کود پڑے اور ساتھ میں بادشاہ کے  چھوٹے سے شہزادے کو بھی لے گئے، بادشاہ اپنے بچے کو آگ میں جاتا دیکھ کر اُس کے فِراق میں بےچَین ہو گیا، کچھ دیر کے بعد ننھے

 شہزادے کو اس حال میں بادشاہ کی گود میں ڈال دیا گیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں انار تھا۔ بادشاہ نے پوچھا : بیٹا! تم کہاں چلے گئے تھے ؟ تو اُس نے کہا: میں ایک باغ میں تھا ۔یہ دیکھ کر ظالم و بد عقیدہ بادشاہ کے درباری کہنے لگے اس کام کی کوئی حقیقت نہیں یہ جادو ہے۔بادشاہ نے کہا:اگر تم یہ زَہر کا پیالہ پی لو تو میں تمہیں سچّا مان لوں گا۔اُن بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بار بار زَہر کا پِیالہ پیا، ہر مرتبہ زَہْر کے اَثر سے اُن کے فقط کپڑے پھٹتے رہے مگر اُن کی ذات پر زَہْر کا کوئی اَثر نہیں ہوا۔([8])- ([9])

کرامات کا ظہور خاتمہ بالایمان کے لیے سَنَد نہیں

سُوال : کیا کرامات دِکھانے والے کا اِیمان مَحفوظ ہو جاتا ہے ؟
جواب: کرامات کا ظہور ولی بننے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے  کوئی سَنَد نہیں،بہت سے کرامات دِکھانے والے نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنے اِیمان سےبھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ احمد بن محمد صاوی مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بَلْعَم بِن باعوراء کو اِسْمِ اَعظم کا علم تھا وہ اس کے ساتھ جو بھی دُعا کرتا قبول ہوتی۔ اس کی روحانیت کا یہ عالَم تھا کہ اپنی جگہ بیٹھ کر عرشِ اعظم کو دیکھ لیتا تھا۔ اس کی دَرسگاہ میں طالبِ علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں۔

        (آخِرکار شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ گمراہ ہوکر کفر کی موت مر گیا۔)([10])
تفسیرِ روحُ البیان میں ہے:بعض اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:اے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ! تُو نے بَلْعَم بِن باعوراء کو اِتنی کرامتیں عطافرما کر پھر اس کو کیوں اس قَعرِ مَذِلَّت(یعنی ذِلَّت کے گڑھے) میں گِرا دیا؟ اللّٰہعَزَّ   وَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا:اس نے کبھی میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا ۔اگر وہ شکر گزار ہوتا تو میں اس کی کرامتوں کو سَلب کرکے اس کو دونوں جہاں میں اس طرح ذَلیل و خوار اور خائِب و خاسِر نہ کرتا۔([11])
خاتِمہ بِالخیر ہو میرا مدینے میں اگر
بال بال اُٹّھے پکار اپنا، خدایا شکریہ      (وسائلِ بخشش )

اَورادِ عطّاریہ کی مدنی  بہار

سُوال:ایک اسلامی بھائی نے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں عرض کی:میرے گھر میں اُمّیدسے ہیں مگر بچہ ٹیڑھا ہے  ڈاکٹر آپریشن کا کہہ رہے ہیں ، تکلیف بَہُت ہو رہی ہے، دُعا فرما دیجیے۔
جواب:(شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّآسانی فرمائے۔ گھر والوں سے کہیں کہ سُـوْرَۂ اِنْـشِـقَـاق کی اِبتدائی پانچ آیات تین بار،اوّل و

آخِرتین مرتبہ دُرُود شریف پڑھیں ہر بار شروع میں”بِـسْـمِ الـلّٰـہِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـیْـم“پڑھیں اور پڑھ کر پانی پر دَم کر کے  پی لیں۔ روزانہ یہ عمل کرتی رہیں اور وقتاً فوقتاً ان آیات کا وِرْد بھی کرتی رہیں۔آپ بھی پانی دَم کر کے انہیں دے سکتے ہیںاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بچہ سیدھا ہو جائے گا۔ دَرْدِ زِہ کے لیے بھی یہ عمل مُفید ہے۔([12]کچھ دِنوں کے بعد  ان  اسلامی بھائی نے بتایا کہ ایک ہی دن اس طرح دَم کیا ہوا پانی پلانے سےاَلْحَمْدُ  لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّآرام ہو گیا،بچّہ بھی سیدھا ہو گیا اور اب آپریشن کا خطرہ بھی ٹل چکا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تبلیغِ قرآن و سنَّت کی  عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نے مسلمانوں کی اِصلاح اور خیرخواہی کے جذبے کے تحت جہاں  بےشمار مجالس قائم کی ہیں وہاں  دُکھیارے  اورغم کے مارے اسلامی بھائیوں کے لیے ایک مجلس بنام”مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ“بھی بنائی ہے جس کے تحت دُکھیارے مسلمانوں کاتعویذات کے ذَریعے فِیْ سَبِیْلِ اللہ عِلاج کیا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں مسلمان اس سے مستفیض ہوتے ہیں۔ تعویذات کے طلبگار اسلامی بھائیوں کو چاہیے  کہ وہ اپنے شہر میں ہونے والے سنَّتوں بھرے اِجتماع میں شرکت فرمائیں اورتعویذاتِ عطاریہ کے بستے (اَسٹال)سے تعو یذات بھی حاصل کریں ۔





No Comment to " Asad Raza Attari New Mehfil e Naat 14 April 2019 at Islampura Lahore Courtesy Qadri Ziai Sound "