News Ticker

Hafiz Ahmed Raza Qadri New Mehfil e Naat Live From Gaddafi Stadium Lahore

By Sadqe Ya Rasool Allah - Sunday, 14 April 2019 No Comments

Hafiz Ahmed Raza Qadri New Mehfil e Naat 

Live From Gaddafi Stadium Lahore



Hafiz Ahmed Raza Qadri New Mehfil e Naat Live From Gaddafi Stadium Lahore




اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِ سُلطان  سَخِی سرور

دُرُود ِپاک کی فضیلت

سرکارِنامدار،مدینےکےتاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ خُوشبودار ہے:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مصافحہ کریں اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرودِ پاک بھیجیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئيے جاتے ہیں ۔ ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مختلف اَدْوار میں تبلیغِ دین اور اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْف وَ نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (نیکی کا حکم دینے اوربرائی سےمنع کرنے)کےعظیم جذبےکی خاطرجن صوفیائےکرام اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُتَعَالٰی  کی ایک بڑی تعداد نے برصغیر پاک وہند کی طرف ہجرت کی اور اپنی زبانی،قلمی اورعملی نیکی کی دعوت کے ذریعےمخلوقِ خدا کو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   کی وحدانیت اورہمارے پیارے آقاحضرت محمدمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت سے روشناس کروایا،معرفتِ الٰہی  کا رستہ بتلایا،عشق ِرسول کا جام پلایااورحسنِ اخلاق کے اصولوں سے روشناس کروایاان  میں سے ایکشیخُ الاصفیا ء،سلطانُ الاولیا حضرت

سلطان سخی سرورسیّد احمد کاظمی قادری سہروردی شہیدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی ذات  بابرکت بھی ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےفیضان سےآج شجرِ اسلام سرسبزو شاداب ہےاورسیکڑوں سال گزرجانے کے بعد بھی آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقیدت و محبت لوگوں کے دلوں میں قائم ہے۔آئیے! حصولِ برکت اور نزولِ رحمت کے لیے آپ کا  ذکرِ خیر کرتے ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

والدِ ماجد کی پنجاب آمد

حضرتسَیِّدُنا سلطان سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کے والدِ ماجدحضرت سَیِّدُنا زینُ العابدینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن ولیٔ  کامل اور زبردست عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے آپ بائیس برس تک سرکارِمکہ مکرَّمہ،سلطانِ مدینہ مُنَوَّرہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّمکے روضۂ اقدس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتےرہے۔ایک رات سوئےتو قسمت انگڑئی لے کرجاگ اُٹھی اور خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہیں اورپیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ حکم ارشاد فرما رہے ہیں :”تم اب ہندوستان جاؤ اور وہاں خطۂ پنجاب میں قیام کرکے اسلام کی تبلیغ کرو،لوگوں کواللہتعالیٰ اوراللہ تعالٰی کے نبی  برحق کا سیدھا راستہ بتاؤ۔“چنانچہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن ۵۲۰ھ مطابق

1128ء میں پنجاب تشریف لائے،مدینۃُ الاولیا(ملتان) کے قریب شاہ کوٹ([2]) نامی ایک گاؤں میں قیام فرمایا،حصول ِ رزق کے لئے زراعت  کا پیشہ اختیار فرمایااورنیکی کی دعوت کے ذریعےبے شمُار لوگوں کو راہِ ہدایت سے رُوشناس اور اپنے فُیوض و برکات سے مُسْتفیض فرمایا۔([3])

شاہ کوٹ میں مستقل قیام

جب حضر ت سَیِّدُنا زین ُالعابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوشاہ کوٹ کے مسلمانوں میں فیض عام کرتےہوئےدو سال کا عرصہ گزرا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زوجہ ٔ محترمہ کاانتقال ہوگیا۔گاؤں والوں نےاس  خوف سے کہ اگر  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہیں اور  تشریف لے گئے تو ہم آپ کے فُیوض وبرکات سے محروم ہوجائیں گے لہٰذا انہوں نے باہمی  مشورے کے  بعدایک زمیند ار کی صاحبزادی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کانکاح کروادیا۔ دوسال بعدانہی کےبطنِ مبارک سے شیخُ الاصفیاء، سلطانُ الاولیاء حضرتسَیِّدُناسلطان سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَرکی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ([4])

ولادتِ باسعادت

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر بروز پیر صبح کی سُہانی گھڑیوں میں ۱۴

ذُو الحجۃ ۵۱۱ھ کو شاہ کوٹ (سروری کوٹ ضلع ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان )میں پیدا ہوئے ۔ ([5])

نام وسلسلہ نسب

آپ کا نام سَیِّداحمد بن سَیِّد زین العابدین بن سَیِّد عمر بن سَیِّدعبد اللطیف ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے القاب تو بہت ہیں مگرآپ ” سخی سرور “کے لقب سے  مشہورو معروف ہیں۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاسلسلۂ نسب چند واسطوں سے سَیِّدُالشُہداء حضرت سَیِّدُناامام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےجا ملتا ہے۔([6])

تعلیم و تربیت

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے اکثر اوقات والد ماجد سے شرعی مسائل سیکھتے رہتے۔ ان دنوں مرکزالاولیا (لاہور )میں مولانا سَیِّد محمد اسحاق لاہوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے علم و فضل کا بڑا شہرہ تھا لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو عُلومِ ظاہری حاصل کرنے کے لئے لاہور بھیج دیاگیا۔ مولانا سَیِّد محمد اسحاق لاہوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی محبت اورتعلیم وتربیت کی بدولت حضرت سَیِّدُناسخی سروررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاُن تمام صلاحیتوں اور صفات سے مُتَصِّف ہوگئے جو ایک  عالمِ دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تحصیلِ علم کے بعد  والدِ ماجد

 کا پیشہ زراعت اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا،ظاہری علوم کے حصول کے بعدباطنی علوم حاصل کرنے کا جذبہ و اشتیاق میں مسلسل  اضافہ ہوتا رہا ،  والد ماجد اپنے ہونہار بیٹےکا شوق و ولولہ دیکھ کرایک مرشد کی طرح تربیت فرمانے لگے ۔([7])

سخی سرور کی سخاوت اور والد گرامی کی کرامت

بچپن ہی سے  حضرت سَیِّدُنا سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی طبیعت میں فیاضی اور سخاوت کا عنصر موجود تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے چند بکریاں لیں اور جنگل پہنچ کر انہیں چَرنے کےلئے چھوڑ دیااورخودایک درخت کے نیچےعبادتِ الٰہی میں مشغول ہوگئے اسی دوران چالیس فقیروں کا وہاں سے گزرہوا توانہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کھانا مانگا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ”میرے پاس یہی بکریاں ہیں آپ انہیں ذبح کرکے کھالیں۔“ان فقیروں نے بکریاں ذبح  کیں  اورپکا کر اپنی  بھوک مٹائی ۔جب سعادت مند بیٹے کی  سخاوت وفیاضی  کی خبر والدِ ماجد حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کوہوئی تو اسی وقت تشریف لائے اوراس کارِ خیر پردادِ تحسین دیتے ہوئے  فرمایا:”بیٹا! تم نے فقیروں کو کھانا کھلاکر بہت اچھا کیا۔“پھر حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے بکریوں کی ہڈیاں اور

کھالیں جمع کرکے اُن پر اپنی چادر ڈالی اوربارگاہ ِالٰہی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ،دعا ابھی ختم نہ ہوئی  تھی کہ چادر میں حرکت پیدا ہوئی اور ایک ایک کرکے تمام بکریاں  چادر کے نیچے سےزندہ سلامت نکل آئیں۔([8])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ  حکایت میں بکریوں کاذبح ہوجانے کے بعد دوبارہ  زندہ ہوکر اٹھ جاناا گرچہ عادۃً ممکن نہیں  مگر یہ  حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ              اللہِ الْاَ  کْبَر کے والد ماجد کی کرامت([9]) تھی جو اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے مقبول بندوں سے صادر ہوتی رہتی ہیں نیز اس واقعے سے ہمیں راہ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے کا بھی درس ملتا ہے۔یاد رکھئے! صدقہ و خیرات کرنا ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم سنّت ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےدرِ جودو سخاوت سے کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ جاتا ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف یعنی بارگاہ ِ نبوت سے تربیت پانے والے صحابہ کرام ، تابعین و تبع تابعین ، اولیائے کاملین و علمائے دین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْبھی صدقہ و خیرات کے ذریعے فقراء و مساکین کی مدد کرکے اس کی

 برکات سے فیض یاب ہوتے رہے الغرض یہ سلسلہ صدیوں پر مُحیط ہے اور تا قیامِ قیامت جاری رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 
قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کئی مَقامات پر صَدقہ و خیرات کے فضائل  اور اس پر ملنے والے  اجرو ثواب کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ پارہ 3سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 261میں ارشاد ہوتا ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱) (پ۳، البقرۃ: ۲۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان:انکی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خَرْچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اُوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اوراللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہےاوراللہ وُسْعَت والا عِلْم والا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا امام خازن ابو الحسن علاءُ الدين علی بن محمد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اس  آیتِ مبارکہ کے تحت  فرماتے ہیں:راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا خواہ واجِب ہو یا نَفْل، تمام اَبوابِ خیر کو عام ہے۔([10]اورصَدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: کسی طالب عِلْم کو کتاب خرید کر دی جائے یا

 کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا مُردوں کے ایصالِ ثواب کے لئے تیجہ، دسویں، بیسویں، چالیسویں کے طریقے پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے، سب راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی ہے۔ ([11])
اسی طرح  عِلْمِ دین کی اشاعت میں حصّہ لینا، دینی مَدَارِس کی مَدَد کرنا،مَسَاجِد بنانا، دینی کُتُب کے لیے لائبریری بنانا، مُسافِر خانے بنانا،ضَرورت مندپڑوسیوں اور رِشتہ داروں کی مَدَد کرنا، محتاجوں،اَپاہجوں اور غریبوں کے علاج مُعالَجہ اور مَقْروضوں کےقرض کی ادائیگی کے لیے خَرْچ کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں کہ ان میں سے جس کام میں بھی خَرْچ کریں گے وہ راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی کہلائے گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خراب و بنجر زمین پر کاشت کاری

حضرت سَیِّدُنا سخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَرکے ناناجان ایک زمین دار تھے۔ ناناجان کے انتقال کےبعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی والدہ ماجدہ کو وراثت میں کافی جائداد ملی۔بعد ازتقسیم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حصے میں آنے والی زمین چونکہ بظاہر خراب و بنجر تھی لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےصبر وشکر کے ساتھ  والدہ ماجدہ کے حکم سے اسی خراب و بنجر زمین پر کاشت شروع کردی اور فرمایا: اس

 کھیت کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حوالے کیا ۔جب بارش ہوئی اور فصل پک کر تیار ہوگئی توفضلِ الٰہی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی فصل بہت زیادہ ہوئی جبکہ دیگررشتہ داروں  کی فصل انتہائی ناقص تھی،یہ دیکھ  کر وہ حسد کی آگ میں جل بُھن کر رہ گئے،پہلے تو انھوں نے زمین کی تقسیم  پر اعتراض کیا  اوراب آپ کی فصل سے حصہ مانگنے لگے ۔ ([12])

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے

وہاں کا  معمول تھا کہ جب کبھی غلے کے ڈھیر لگتے تو رات کو شیر آتا اورغلے کی حفاظت کرنے والے  کو نقصان پہنچاتا ،چنانچہجب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی فصل کٹ گئی  اور غلے کے ڈھیر لگ چکے تو خالہ زاد بھائیوں نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو نقصان پہنچانے کی غرض سے  مشورہ دیا کہ زمین ہماری مشترکہ  ہے لہٰذا غلے کی حفاظت کے لئے آپ کھیت میں ہی رات گزاریں ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان  کی یہ بات بھی مان لی ۔حضرت سیّدنا سخی سرور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھیت پہنچے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہےاسی دوران شیر آیا  اور ساری رات آپ کی رکھوالی کرتا رہا،صبح ہوتے ہی  شیر واپس جنگل چلا گیا ۔([13])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی مسلمان کا نقصان چاہنا اور جان بوجھ کر اسے غلط مشورہ دینا ناجائز وگناہ ہےایسےشخص کو حدیثِ پاک میں خائن(خیانت کرنے والا)

 کہا  گیا ہے۔چنانچہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: جو اپنے بھائی کو کسی چیز کا مشورہ یہ جانتے ہوئےدے کہ درستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس سے خیانت کی۔([14])
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ کرے اور وہ دانستہ (جان بوجھ) غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر (مشورہ دینے والا)پکا خائِن ہے خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی،راز، عزت،مشورے تمام میں ہوتی ہے۔([15])
اے ہمارےپاک پر وردگار عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور اولیائے  عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے صدقے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوب خیر خواہی کرنے کاجذبہ عطا فرمااور مل جُل کر دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم

سر پر بادل کا سایہ

حاکم کو ٹیکس ادا کرنےکا وقت آیا توخالہ زاد بھائی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس پہنچے اورایک مرتبہ پھر نقصان پہنچانے کی نیت سے کہنے لگے:ہم ٹیکس ادا کرنے جارہے ہیں،آپ ہمارے ساتھ چلیں گے؟چنانچہ والد ماجد کی اجازت سے

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے خالہ زاد بھائیوں کے ہمراہ مدینۃُ الاولیاء(ملتان) روانہ ہوگئے۔ ادھر شہر کا حاکم  گھنوں خان  سیر کے لئے قلعہ کی فصیل پر آیا تو اچانک اس کی نظر کچھ ایسے افراد پر  پڑی جو قلعہ کی جانب بڑھ رہے  تھے، حاکم یہ دیکھ کر گھبرا گیاکہ یہ کون سی  مصیبت گلے پڑ گئی اس نے سپاہیوں کو دوڑایاتو انہوں نے آکر خبر دی کہ  فوج  نہیں ہے پانچ زمینداروں کے ساتھ ایک سیّد صاحب تشریف لارہے ہیں اور انہی کے سر پر بادل نے  سایہ کیا ہوا ہے۔حاکم سمجھ گیا کہ یہ ضرورکوئی  وَلِیُّ اللہ ہیں  جو کسی وجہ سےیہاں تشریف لائے ہیں۔([16])

غیب سے کھانا حاضر ہوگیا

حاکم نے وزیر سے کہاکہ  ہمیں مزید دیکھنا چاہیے کہ یہ کامل ولی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ اس  نے بطورآزمائش ملازموں کو حکم دیا کہ سیّد صاحب کے پاس ایک  جگ اور کچھ خالی برتن ڈھک کر لے جائیں، اگریہ  ولی کامل ہیں  تو غیب سے ان کے لئے کھانا اورپانی آجائے گا۔ چنانچہ ملازم ڈھکے ہوئے خالی برتن اور جگ لے کر حضرت سَیِّدُنا سخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی خدمت میں پہنچےجونہی آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کپڑا ہٹایا تو جگ پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اوربرتنوں میں مختلف اقسام کے  کھانے  موجود تھے جن کی خوشبو سے کمرہ مہک ا ُٹھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے چند لقمے تناول فرمانے کے بعدملازموں سے فرمایا: اسے حاکم کے پاس لے جاؤ۔حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ

 تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ کرامت دیکھ کر حیران رہ گیا ۔




No Comment to " Hafiz Ahmed Raza Qadri New Mehfil e Naat Live From Gaddafi Stadium Lahore "