News Ticker

Hafiz Tahir Qadri New Mehfil e Naat 12 April 2019 at Faisalabad

By Sadqe Ya Rasool Allah - Saturday, 13 April 2019 No Comments


Hafiz Tahir Qadri New Mehfil e Naat 12 April 2019 at Faisalabad


Hafiz Tahir Qadri New Mehfil e Naat 12 April 2019 at Faisalabad





جذبۂ خدمتِ دین

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...!! پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہاں ایک بات بڑی قابِلِ تَوَجُّہ ہے کہ مدّتوں اِنتظار  کے بعد جب کوئی اُمِّید بر آتی اور کوئی آرزو پوری ہوتی ہے تو دل کو بےحد فرحت وخوشی کا اِحساس ہوتا ہے، ایسے میں کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی یہ خوشی وشادمانی

 وقتی اور عارضی ثابِت ہو لہٰذا وہ اسے دائمی بنانے اور باقی رکھنے کی ہر ممکن تدبیر کرتا ہے پھر بات جب اولاد کی ہو اور وہ بھی ایسی جو برسہا برس اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد حاصِل ہوئی ہو تو کوئی ماں باپ اس کا ایک لمحے کے لیے بھی آنکھوں سے اَوجھل ہونا گوارا نہیں کرتے، اس کی ہر ضِد پوری کرتے اور اسے ہر خوشی مُہَیَّا کرنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اس طَور پر یہ وَقْت ان وَالِدَین کے لیے بہت پُرآزمایش بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے گُزَشتہ عہدوپیماں جو اُنہوں نے اولاد کے سلسلے میں کیے تھے کہ اسے عالِم یا حافِظ بنائیں گے یا وَقْفِ مدینہ(یعنی دین کے کاموں کے لیے وَقْف) کر دیں گے وغیرہ وغیرہ، پر کس قدر قائم رہتے ہیں کیونکہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے یا اسے کسی چیز کی آرزو ہوتی ہے تو بڑی بڑی نذریں مان لیتا ہے لیکن جب ان آرزوؤں اور اُمیدوں کی تکمیل ہو جاتی ہے تو ان میں اس قدر مگن ہوتا ہے کہ پہلے کیے ہوئے تمام عہد وپیماں سے یکسر غافِل ہو جاتا ہے اور بہت دَفعہ تو ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے؛ لیکن قربان جائیے حضرت سیِّدَتُنا حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اِیفائے عہد (وعدہ پورا کرنے) اور خدمتِ دین کے جذبے پر، آپ کا یہ گِرَاں قدر جذبہ صد کروڑ مرحبا...!! دیکھئے! ایک ہی اِکلوتی بیٹی ہے جو طویل عرصہ اِنتِظار اور بڑی مَنَّت مُرَاد کے بعد عطا ہوئی ہے پھر باوجود یہ کہ لڑکیوں کو خدمتِ بیت المقدس کے لیے قُبول نہیں کیا جاتا لیکن آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اپنی نذر کی تکمیل کی فِکْر میں ہیں، خدا تعالٰی کی بارگاہ میں کیا ہوا اپنا عہد وفا (پورا) کرنے کے لیے بےچین ہیں، سُبْحٰنَ اللہِ ... سُبْحٰنَ اللہِ...کاش! حضرت سیِّدَتُنا حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے اخلاص اور نذر پوری کرنے کے اس جذبۂ صادِق کے صدقے ہمیں بھی ایسی توفیق نصیب ہو کہ رضائے


 الٰہی کو ہر شے پر مُقَدَّم جانیں اور اِس سلسلے میں پیش آنے والی کسی مصیبت وپریشانی کو خاطر میں نہ لائیں۔
؎ عَطا اَسْلاف کا جَذبِ دَرُوں کر!
شريک زُمرۂ لَا يَحْزَنُوْں کر!
خرَد کی گتھياں سلجھا چکا ميں
مرے   مولا!   مجھے   صاحِبِ   جُنُوں   کر!([10])
(یعنی اے مالِک و مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اَسلاف  کے قلبی اِحساسات اور جَذبات عطا فرما اور تیرے وہ محبوب بندے جنہیں بروزِ قیامت کوئی غم نہیں ہوگا مجھے بھی ان میں شامِل فرما ، میں عقل کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں اب مجھے عشقِ حقیقی کی دولت عطا فرمادے۔)اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیت المقدس کی جانِب رَوانگی

بہرحال حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اس بچی کا نام رکھا اور چونکہ آپ اسے بیت المقدس میں رکھنے کی نِیَّت کر چکی تھیں اس لیے اسے اور اس کی اولاد کے لیے شیطان سے محفوظ رہنے اور صالح وپرہیزگار ہونے کی دعا کی اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کی طرف چل دیں۔
بیت المقدس میں اس وقت چار۴ ہزار خُدَّام رہتے تھے اور ان کے سردار ستائیس یا ستر تھے۔ جن کے امیر حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے۔([11]) حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا

اپنی بیٹی کو لے کر جب یہاں پہنچیں تو اسے یہاں کے عُلَماء کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا: یہ میری بیٹی ہے جسے میں نے (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عِبَادت اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے) آزاد (یعنی وَقْف) کر دیا ہے۔ اگرچہ لڑکیاں اس خدمت کی صلاحیت نہیں رکھتیں مگر (چونکہ میں اسے وَقْف کر چکی ہوں اس لیے) میں اسے لوٹا کر گھر بھی نہیں لے جا سکتی لہٰذا آپ حضرات میری یہ نذر قبول فرما لیجئے۔([12])

قبولیتِ نذر

حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کا یہ صِدْق واِخلاص، بارگاہ ربِّ ذُوْالجلال میں نذر پیش کرنے کا یہ جوش وجذبہ اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی سچی لگن بارگاہِ الٰہی میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی چنانچہ جب آپ نے بچی کو عُلَما کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے اس کی پَروَرِش ونگہداشت کی ذِمَّہ داری اُٹھانے کو قابِلِ افتخار خیال کیا اور ہر کسی نے اسے اپنی کفالت میں لینے میں رغبت ظاہِر کی کیونکہ یہ اُن کے سردار حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی لختِ جگر تھیں۔ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (جو اُن عُلَما کے سردار اور بچی کے خالو تھے) نے فرمایا: میں اس کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے گھر ہے۔ یہ سن کر دیگر عُلَما نے کہا: اس بچی کی پَروَرِش ونگہداشت کی فضیلت حق داری کی بِنا پر نہیں مل سکتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ ماں اس بات کی سب سے زیادہ حق دار ہے جس نے اسے جنم دیا لہٰذا ہم قُرعَہ ڈالیں گے اور جس کے نام قُرعَہ نکلے وہی اس کے نان نَفَقَہ کا ذِمَّہ دار ہو گا۔([13])

قُرعہ اندازی

اس کے بعد یہ حضرات نہرِ اُردَن کی طرف قلم لے کر چلے جس سے وَحی لکھتے تھے اور طے یہ ہوا کہ جس کا قلم پانی میں نہ ڈوبے نہ بہہ جائے وہ اس کی کفالت کی ذمہ داری اُٹھائے اور جس کا قلم ڈوب جائے یا بہہ جائے وہ اس کا مستحق نہیں چنانچہ ایسا کیا گیا، سب کے قلم ڈوب گئے یا بہہ گئے مگر حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قلم پانی میں ٹھہرا رہا۔ بعض رِوَایتوں میں ہے کہ تین بار قُرعَہ ڈالا گیا اور ہر دفعہ قُرعَہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نام ہی نِکلا لہٰذا اس کی کفالت کی ذِمَّہ داری بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس چلی گئی۔([14]) اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑی محبت وشفقت سے اس کی پَروَرِش میں مشغول ہو گئے۔

بیت المقدس میں پَروَرِش

کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بیت المقدس میں فرشِ مسجِد سے قدرے بلند ایک کمرہ بنایا اور وہاں اس بچی کو رکھا یہاں سِوائے آپ کے اور کوئی نہ جاتا تھا۔ اشیائے خُورد ونَوش وغیرہ سامانِ ضرورت بھی آپ ہی لے کر جاتے([15]) اور واپَسی پر تمام دروازے بند کر کے قفل لگا آتے۔([16]) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب خُورد و نَوش کا سامان لے کر وہاں پہنچتے تو اس بچی کے پاس بےموسم کے پھل یعنی گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں پاتے۔([17]) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروِی ہے کہ

 یہ جنت کے پھل ہوتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس بچی نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا بلکہ یہ پھل اس کے لیے دودھ کا بَدَل تھے۔([18])

پھلوں کے بارے میں سوال

ایک مرتبہ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے مُخَاطَب کر کے پھلوں کے بارے میں پوچھا کہ
اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ- (پ٣، آل عمران:٣٧)         ترجمۂ کنزالایمان: یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟
آپ کا یہ سُوال نہ تو بےخبری سے تھا نہ تعجب یا حیرت سے کہ آپ تو جانتے تھے کہ یہ جنّتی پھل ہیں۔ یہ سوال اس بچی کی فہم وسمجھ آزمانے کے لیے تھا۔([19])
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ...!!! بچپن کی اس ننھی سی عمر شریف میں اس بچی نے کیسا ایمان افروز جواب دیا...کہنے لگیں:
هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷) (پ٣، آلِ عمران:٣٧)
 ترجمۂ کنزالایمان: وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے۔
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ...کیسا نفیس جواب ہے اور کیا جامِع کلام ہے...!!اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی ذات کو جانتی ہیں، اس کے صِفات کو بھی (کہ) وہ رازِق ہے، اس کی قدرت کو بھی کہ وہ جنَّت کے پھل دنیا میں بھیج سکتاہے (نیز) جنَّت کو بھی جانتی ہیں، وہاں کے پھل بھی پہچانتی ہیں بلکہ لانے والے فرشتہ کو بھی پہچانتی ہیں کہ یہ فرشتہ ہے


جنت سے پھل لایا ہے۔([20])

حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا

حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب بچی کی یہ کرامت دیکھی کہ ان کے پاس بے موسم جنَّتی پھل آتے ہیں اور ان کا وہ دل خوش کُن جواب بھی سنا تو قدرَتی طور پر آپ کے دل میں فرزند کا شوق پیدا ہوا([21]) اور اس شوق نے آپ کو فرزند کے لیے دعا کرنے پر اُبھارا اگرچہ اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی زوجہ محترمہ دونوں عمر رسیدہ ہو چکے تھے اور اس عمر میں عام طور پر اولاد نہیں ہوا کرتی لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نظر خالقِ اسباب پر رکھی کہ ”جو اس بچی کو بےموسم میوے دینے پر قادِر ہے اور جو خدمتِ بیت المقدسکے لیے بجائے لڑکے کے لڑکی اوربجائے جوان کے بچی کو قبول فرما لیتا ہے اور جو اس بچی کو بچپن میں بولنے کی طاقت دیتا ہے اور جو بغیر گمان رِزْق دینے پر قادِر ہے وہ مجھ جیسی عمر والے کو میری بانجھ بیوی سے اولاد بخشنے پر بھی قادِر ہے، چنانچہ اسی وَقْت اور اسی جگہ جہاں اس بچی سے یہ گفتگو ہوئی تھی، انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دُعا کی۔ یہ دُعا مُحَرَّم کی ستائیس تاریخ کو ہوئی۔ عرض کیا کہ اے مولیٰ! مجھے اس بڑھاپے میں خاص اپنی طرف سے ایک پاک وستھرا بیٹا عطا فرما، تُو دعاؤں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُو نے حَنَّہ کی دعا قبول کی تو میری دعا کو بھی ضرور قبول فرمائے گا۔“([22]) قرآنِ کریم میں ان کے اس جگہ دعا کرنے کا ذِکْر موجود ہے، چنانچہ پارہ تین۳، سورۂ آلِ عمرانمیں ہے:


هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) (پ٣، آلِ عمران:٣٨)
 ترجمۂ کنزالایمان: یہاں پکارا زَکَرِیَّا اپنے ربّ کو بولا اے ربّ میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی دُعا کو بھی شَرَفِ قبولیت بخشا اور کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک نیک وصالِح فرزند کی وِلادت ہوئی جس کا نام ”یحییٰ“ رکھا گیا۔ حضرت زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح ان کے فرزند حضرت یحییٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی منصبِ نبوت پر فائِز ہوئے۔
اللہ رَبُّ الْعِزّت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحِساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد




No Comment to " Hafiz Tahir Qadri New Mehfil e Naat 12 April 2019 at Faisalabad "