News Ticker

Mufti Jamal ud Din Baghdadi New Bayan 15 April 2019 at Azad Kashmir

By Sadqe Ya Rasool Allah - Tuesday, 16 April 2019 No Comments

Mufti Jamal ud Din Baghdadi New Bayan 15 April 2019 at Azad Kashmir


Mufti Jamal ud Din Baghdadi New Bayan 15 April 2019 at Azad Kashmir





بیٹے کی وِلادت

یہ غزوۂ حنین کے بعد کا واقعہ ہے۔([16]) جبکہ یہ دونوں صابِر وشاکِر حضرات سرکارِ نامدار، مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں کسی سفر سے واپس مدینہ طَیِّبہ کی طرف آ رہے تھے۔ ابھی مدینہ شریف کی حُدود شروع ہونے میں کچھ فاصِلہ باقی تھا کہ آثارِ وِلادت ظاہِر ہوئے جس کی وجہ سے انہیں یہیں راستے میں ہی ٹھہرنا پڑا۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادَتِ کریمہ یہ تھی کہ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو رات کے وَقْت مدینہ شریف میں داخِل نہیں ہوتے تھے (اور ابھی رات ہونے کے قریب تھی) اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھتے رہے۔([17])

یہ حضرات سفر وحَضَر میں رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہا کرتے تھے، اب جبکہ مجبوراً قافلے سے علیحدہ ہو کر انہیں یہاں پڑاؤ کرنا پڑا تو فِراقِ رسول کے غم میں ان کے دلوں کی حالت زیر وزبر ہونے لگی، ان کا جذبۂ عقیدت اور عشقِ رسول اس بات کی تاب نہ رکھتا تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مدینہ شریف میں داخل ہونے کے شرف سے محروم ہو جائیں، بِالآخِر فرطِ اَلَم سے دِلوں کو ایسی ٹھیس پہنچی کہ جذبات قابو سے باہر ہو گئے اور کسی ٹوٹے ہوئے گھائل شخص کی طرح بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوئے: اِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ اِنَّهُ يُعْجِبُنِي اَنْ اَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ اِذَا خَرَجَ وَاَدْخُلَ مَعَهُ اِذَا دَخَلَ وَقَدِ احْتَـبَسْتُ بِمَا تَرَى اے مالِک، اے پاک پروردگار! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں تیرے رسول کے ساتھ (مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ سے) نکلوں اور ان کے ساتھ ہی داخِل ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ میں کس مجبوری میں پھنس گیا ہوں۔
یہ عرض کرنا تھا کہ وہ کیفیت جاتی رہی جس کی وجہ سے انہیں رُکنا پڑا تھا چنانچہ یہ آگے بڑھ كر قافلے کے ساتھ مل گئے اور سرکارِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں مدینہ طَیِّبہ کی پُربہار فِضَاؤں میں داخِل ہوئے۔([18]) گھر پہنچ کر رات کے آخری پہر (جبکہ صبح ہونے کے قریب تھی اس وَقْت) ان کے ہاں مدنی منّے کی وِلادت ہوئی۔([19]) وِلادت کے بعد نیک سیرت بی بی صاحبہ نے اپنے بڑے بیٹے حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مُخَاطب کر کے فرمایا کہ اس کا خیال رکھنا، اسے کوئی چیز کِھلائی پلائی نہ جائے، جب صبح ہو تو اسے لے

کر نَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضِر ہو جانا تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی تحنیک([20]) فرمائیں۔ فرمانبردار بیٹے نے حکم کی تعمیل کی اور صبح کے وَقْت اسے لے کر بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو گئے۔ اس وَقْت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک باغ میں تشریف فرما تھے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حُرَیثیَّہ کمبل اوڑھ رکھا تھا اور اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر سوار ہو کر فتح مکہکے دن تشریف لے گئے تھے۔([21]) مُسْلِم شریف کی رِوَایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھ کر بچے کے بارے میں دریافت فرمایا اور وہ اَوْزار ایک طرف رکھ دیا جس کے ساتھ جانور پر نشان لگا رہے تھے پھر بچے کو گود میں لیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ شریف کی عجوہ کھجور طَلَب فرمائی اور اسے منہ میں ڈال کر چبایا حتی کہ (جب وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعَاب مُبَارَک کے ساتھ مِل کر پتلی اور) بہنے کے قابِل ہو گئی تو اسے بچے کے منہ میں ڈال دیا۔ بچہ اسے چوسنے لگا، یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: انصار کی کھجور سے محبت دیکھو! نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بچے کے چہرے پر اپنا دستِ انور پھیرا اور اس کا نام عَـبْدُ الله“ رکھا۔([22]) یوں اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز داخِل ہوئی وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مُبَارَک لُعَاب ہے۔ اس لُعَاب مُبَارَک اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان کے چہرے پر دستِ انور پھیرنے نیز ان کے لیے دُعا فرمانے کی برکت سے انہوں نے بہت اچھی تربیت پائی اور کثیر فضائل وکمالات


 کے حامِل ہوئے اور ان کی اولاد میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے بڑے عُلَما اور صلحا (نیک لوگ) پیدا فرمائے۔“([23])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دُنیا دَارُ الْاِمْتِحان (یعنی آزمائش کی جگہ)  ہے جہاں انسان کو بسا اَوْقات قدم قدم پر اِمْتِحانات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے لیکن ایک ایمان دار شخص جس کے دل میں اللہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت راسخ ہوتی ہے اور دُنیوی زیبائش وآرائش اس کی نظر میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی ایسے مَوَاقِعْ پر وہ ہمت نہیں ہارتا بلکہ صبر کے سہارے ہر امتحان اور آزمائش میں پورا اُترتا ہے جیسا کہ اس واقعے میں نیک سیرت بی بی صاحبہ اور ان کے شوہرِ نامدار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے طرزِ عمل سے ظاہِر ہوا، جب ان کے لختِ جگر چند روز بیمار رہنے کے بعد انتقال فرما گئے، اس پر انہوں نے کوئی بےصبری کا کام نہیں کیا بلکہ کلماتِ ترجیع یعنی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور صابِر وشاکِر ہو رہے۔
؎  زباں پر شکوۂ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

نیک سیرت بی بی صاحبہ

کیا آپ کو مَعْلُوم ہے کہ یہ نیک سیرت بی بی صاحبہ کون تھیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر کی وفات پر نہ صرف خود بےمثال ہمت وحوصلے سے کام لیا بلکہ اپنے شوہر کو بھی رنج وغم سے بچانے کی خاطِر نہایت اچھی تدبیر اختیار کی اور ایک خوب صورت مثال کے ذریعے انہیں بیٹے کی وفات کی خبر دی تاکہ یہ ذہنی طور پر پہلے سے ہی اس کے لیے تیار ہو جائیں اور صدمہ

 برداشت کرنا آسان ہو، یہ نیک سیرت بی بی صاحبہ حضرت سیِّدَتنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں اور ان کے یہ شوہر نامدار حضرت سیِّدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان بی بی صاحبہ کو بہت سارے اَوْصَاف وکمالات سے نوازا تھا جن میں سے آپ کی حکمت ودانائی، صبر واِستقلال، ایثار وسخاوت، اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کا حکم کرنا اور بُرائی سے منع کرنا) اور خاص طور پر آپ کا عشقِ رسول، رَسُولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ اور دشمنانِ خدا ومصطفےٰ عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نفرت وبیزاری بہت نمایاں ہیں۔ یہاں جو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت طیبہ کا واقعہ نقل کیا گیا اس سے ہمیں بہت سے مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں مثلاً یہ کہ
·      بُزُرگوں کی خدمت کرنا اور ان کی بارگاہ میں نذر پیش کرنا سعادت کی بات ہے اور یہ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمل مُبَارَک سے ثابِت ہے جیساکہ پیچھے اس بات کا ذِکْر گزرا کہ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض اوقات حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لے جاتے اور کچھ دیر آرام فرماتے تو یہ حضرات اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہوئے خاص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے کوئی چیز تیار کر کے بارگاہِ اقدس میں نذر پیش کرتے۔
·      بچوں کے ساتھ شفقت، پیار اور محبت کے ساتھ پیش آنا اور ان کی دل جُوئی کرنا ہمارے پیارے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَخْلَاقِ حسنہ کا حصّہ ہے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَدَنی منّے حضرت سیِّدنا ابوعمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ ازراہِ شفقت خوش طبعی فرماتے تھے نیز جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں شکستہ دل اور افسردہ حالت میں دیکھا تو ان کی دل جُوئی بھی فرمائی۔

·      انسان کو کسی بھی حالت میں شریعت کے احکام بجا لانے سے رخ نہیں موڑنا چاہئے۔ یہ مَدَنی پھول مَدَنی منّے کے والِدِ محترم حضرت سیِّدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عمل مُبَارَک سے حاصِل ہوا، جب ان کے لختِ جگر حضرت سیِّدنا ابوعمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار ہو گئے تو باوُجود یہ کہ انہیں اپنے اس بیٹے سے شدید محبت تھی اور ان کی اس بیماری کی وجہ سے یہ اندر ہی اندر گھل کر خود کمزور اور ناتواں ہو گئے تھے لیکن حکمِ شریعت سے اِنحراف (یعنی شریعت کی نافرمانی کرنا) ہرگز گوارا نہ کیا، پانچوں نمازوں  کے وَقْت مَسْجِدُ النَّبَوِیِّ الشَّرِیْف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہوتے اور سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِقتدا میں باجماعت نماز پڑھنے کی سعادت حاصِل کرتے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سبق مَوْجُود ہے جو مَعْمُولی مَعْمُولی بیماری یا وَقْت کی کمی وغیرہ کی وجہ سے مسجدوں میں حاضِری اور جماعَت کے ساتھ نماز پڑھنے سے محروم رہتے ہیں، دیکھئے! ہمارے اَسْلَاف کس قدر کٹھن اَوْقَات میں بھی نمازِ باجماعت کی پابندی فرمایا کرتے تھے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
·      جب بھی کوئی مصیبت آئے اور پریشانی کا سامنا ہو، صبر کرتے ہوئے اَجْر کمانا چاہئے، شکوہ وشکایت اور واویلا کر کے صبر کا اجر ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔
؎           ٹوٹے گو سر پہ کوہِ بَلا صبر کر
اے مسلماں! نہ تُو ڈگمگا صبر کر
لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صبر کر
کہ یہی سنّتِ شاہِ اَبرار ہے


دیکھئے! حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے لختِ جگر کی وفات پر کیسی ہمت سے کام لیا اور کیسے عظیم ضبط کا مُظَاہَرہ کیا...اور...ان کے شوہر نامدار حضرت سیِّدنا ابو طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی کیسے حوصلے کا مُظَاہَرہ کیا کہ جب انہیں بیٹے کی وفات کے بارے میں مَعْلُوم ہوا تو اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور صبر کیا۔ ہاں! یہ ضرور ہوا کہ دل میں اس بات کی خلش پیدا ہوئی کہ میرے بیٹے کی مَیِّت گھر میں پڑی رہی اور میں نے کھانا کھا لیا اور آرام کیا۔ اس خلش کو دُور کرنے کے لیے انہوں نے سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہو کرسارا ماجرا بیان کر دیا  اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دُعَاؤں سے نوازا۔ 
·      جو بندہ مَصَائب وآلام میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے بسا اوقات دنیا میں بھی اسے صبر کا ایسا زبردست اجر عطا ہوتا ہے کہ زمانہ اس کی قسمت پر ناز کرنے لگ جاتا ہے جیسا کہ یہاں ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعا قبول فرماتے ہوئے انہیں ایک نیک وصالح فرزند سے نوازا اور پھر ان کے اس فرزند کی اولاد میں بھی بڑے بڑے عُلَما اور صلحا پیدا فرمائے جو اپنے نیک اعمال کے باعث ان کے لیے ثوابِ جاریہ کا ذریعہ بنے۔
·      نومولود کی تحنیک (گھٹی دینا) سنّت ہے۔([24]) حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں جب بیٹے کی وِلادت ہوئی تو انہوں نے اسے کچھ کِھلانے پِلانے سے روک دیا تاکہسب سے پہلے اسے سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ میں پیش کر کے


 تحنیک کروائی جائے اور اسے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعَاب مُبَارَک سے برکتیں حاصِل ہوں۔ آئیے! اسی ضمن میں تحنیک کا طریقہ بھی مُلَاحظہ کیجئے چنانچہ
تحنیک کا طریقہ: یہ ہے کہ تحنیک کرنے والا کھجور لے کر چبائے حتی کہ جب اس قدر پتلی اور بہنے والی ہو جائے جسے بچہ نگل سکے تو اسے بچے کے منہ میں ڈال دے۔([25]) پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مَدَنی منّے حضرت عَبْدُ اللہ بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی تحنیک اسی طرح فرمائی۔
بچے کی تحنیک کے حوالے سے دو۲ مستحب عمل: (۱)...مستحب یہ ہے کہ تحنیک کھجور کے ساتھ ہو لیکن اگر اس میں کوئی دشواری ہو تو کسی بھی میٹھی چیز (مثلاً شہد) کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ (۲)...یہ بھی مستحب ہے کہ تحنیک کرنے والا نیک پرہیزگار شخص ہو جس سے لوگ فیض حاصِل کرتے ہیں خواہ وہ نیک شخص مرد ہو یا عورت اور اگر وہ بچے کی وِلادت کے وَقْت پاس مَوْجُود نہ ہو تو بچے کو اس کے پاس لے جایا جائے۔([26]) تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے کسی اللہ والے کا لُعَاب جائے جس سے اسے برکتیں حاصِل ہوں۔([27]) تفسیر رُوْحُ الْبَیَان میں ہے کہ بچے میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر آتا ہے اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں۔

Find Related Topic: muftijamaluddinbaghdadi, baghdadi, bayan, muftijamaluddinbaghdadiofficial, baghdadisahab, jamaluddinbaghdadi, urasegosian, islamickhtab, shotclip, sunnibayan, indiandrama, abdemustafaaa, sunnijhtabbayan, fullbayan, fullbayan2019, wajdani, khtab, islamicbayan, naat, naat2018, sunniislamicbayan, bestislamicbayan, bayan2018, bayan2019, islamickhtab2019, fullkhtab2019, muftijamaluddinbaghdadi2019, muftijamaluddinbaghdadisahab, fullbayan2018, fullkhtab2018, islamickhtab2018, jamalud din baghdadi full bayan, jamalud din baghdadi 2019, jamalud din baghdadi, full bayan, new bayan 2019, i love islam, islamic channel, islamic video, makkah

No Comment to " Mufti Jamal ud Din Baghdadi New Bayan 15 April 2019 at Azad Kashmir "