News Ticker

Owais Raza Qadri Naats 2nd New Mehfil e Naat 14 April 2019 Lahore

By Sadqe Ya Rasool Allah - Monday, 15 April 2019 No Comments


Owais Raza Qadri Naats 2nd New Mehfil e Naat 14 April 2019 Lahore


Owais Raza Qadri Naats 2nd New Mehfil e Naat 14 April 2019 Lahore





ولی ہونے  کے لیے ایمان وتقویٰ شرط ہے

سُوال :کیا ولی  ہونے کے لیے کرامت شرط ہے؟
جواب:ولی ہونے کے لیے کرامت شرط نہیں  بلکہ ایمان اور تقویٰ شرط ہے جیسا کہ  پارہ 11 سورۂ یونس کی آیت نمبر63 میں خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)ترجمۂ کنزُ الایمان:”(اولیا)وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔“اسی طرح پارہ 9 سورۃ ُ الْانفال کی آیت نمبر 34 میں اِرشاد ہوتا ہے: (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ)ترجمۂ کنزالایمان:اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:کوئی کافر یا فاسق اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کا ولی نہیں ہو سکتا۔ ولایتِ الٰہی ایمان و تقویٰ سے میسر ہوتی ہے۔([6]) معلوم ہوا کہ ولی کے لیے کرامت کا ہونا شرط نہیں بے شمار ایسے اَولیائے  کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام  گزرے ہیں جن سے ایک کرامت بھی منقول نہیں،اگر کسی نے ان سے کرامت کا مُطالبہ کیا بھی تو انہوں نے عاجزی و انکساری کا مُظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو گناہ گار ظاہر فرمایا جیسا کہ ”حضرت خواجہ شیخ بہاؤ الحق والدِّین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔آپ سے کسی نے عرض کی کہ حضرت تمام اَولیاء سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں،حضور سے بھی کوئی کرامت دیکھیں!


فرمایا:اس سے بڑی اور کیا کرامت ہے کہ اتنا  بڑا بھاری بوجھ گناہوں کا سر پر ہے اور زمین میں دھنس نہیں جاتا۔“([7])
اَلبتہجہاں حاجت دَرپیش ہو وہاں بھی شہرت یا لذّتِ نفس کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے قُلوب و ایمان کی تقویت اور مشرکین و منکرین کو جواب دینے کی غرض سے کرامت  کا اِظہار کرتے ہیں جیسا کہ ایک بدعقیدہ بادشاہ نے ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کے رُفقا سمیت گَرِفتار کر لیا اور کہا کہ کرامت دکھاؤ ورنہ آپ کو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا جائے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُونٹ کی مینگنیوں کی طرف اِشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں  اُٹھا لاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا ہیں؟ جب لوگوں نے انہیں اُٹھا کر دیکھا تو وہ خالِص سونے کے ٹکڑے تھے۔ پھر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خالی پیالے کو اُٹھا کر گھمایا اور اَوندھا کر کے بادشاہ کو دیا تو وہ پانی سے بھرا ہوا تھا اور اوندھا ہونے کے باوُجُود اُس میں سے ایک قطرہ بھی پانی نہیں گِرا۔ یہ دو کرامتیں دیکھ کر بدعقیدہ بادشاہ کہنے لگا کہ یہ سب نَظَر بندی اور جادو ہے۔ پھر بادشاہ نے آگ جلانے کاحکم دیا ۔ جب آگ کے شُعلے بُلند ہوئے تو وہ بُزرگ اپنے رُفقا سمیت آگ میں کود پڑے اور ساتھ میں بادشاہ کے  چھوٹے سے شہزادے کو بھی لے گئے، بادشاہ اپنے بچے کو آگ میں جاتا دیکھ کر اُس کے فِراق میں بےچَین ہو گیا، کچھ دیر کے بعد ننھے


 شہزادے کو اس حال میں بادشاہ کی گود میں ڈال دیا گیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں انار تھا۔ بادشاہ نے پوچھا : بیٹا! تم کہاں چلے گئے تھے ؟ تو اُس نے کہا: میں ایک باغ میں تھا ۔یہ دیکھ کر ظالم و بد عقیدہ بادشاہ کے درباری کہنے لگے اس کام کی کوئی حقیقت نہیں یہ جادو ہے۔بادشاہ نے کہا:اگر تم یہ زَہر کا پیالہ پی لو تو میں تمہیں سچّا مان لوں گا۔اُن بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بار بار زَہر کا پِیالہ پیا، ہر مرتبہ زَہْر کے اَثر سے اُن کے فقط کپڑے پھٹتے رہے مگر اُن کی ذات پر زَہْر کا کوئی اَثر نہیں ہوا۔([8])- ([9])

کرامات کا ظہور خاتمہ بالایمان کے لیے سَنَد نہیں

سُوال : کیا کرامات دِکھانے والے کا اِیمان مَحفوظ ہو جاتا ہے ؟
جواب: کرامات کا ظہور ولی بننے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے  کوئی سَنَد نہیں،بہت سے کرامات دِکھانے والے نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر اپنے اِیمان سےبھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ احمد بن محمد صاوی مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بَلْعَم بِن باعوراء کو اِسْمِ اَعظم کا علم تھا وہ اس کے ساتھ جو بھی دُعا کرتا قبول ہوتی۔ اس کی روحانیت کا یہ عالَم تھا کہ اپنی جگہ بیٹھ کر عرشِ اعظم کو دیکھ لیتا تھا۔ اس کی دَرسگاہ میں طالبِ علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں۔


        (آخِرکار شیطان کے بہکاوے میں آ کر وہ گمراہ ہوکر کفر کی موت مر گیا۔)([10])
تفسیرِ روحُ البیان میں ہے:بعض اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:اے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ! تُو نے بَلْعَم بِن باعوراء کو اِتنی کرامتیں عطافرما کر پھر اس کو کیوں اس قَعرِ مَذِلَّت(یعنی ذِلَّت کے گڑھے) میں گِرا دیا؟ اللّٰہ عَزَّ   وَجَلَّ نے اِرشاد فرمایا:اس نے کبھی میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا ۔اگر وہ شکر گزار ہوتا تو میں اس کی کرامتوں کو سَلب کرکے اس کو دونوں جہاں میں اس طرح ذَلیل و خوار اور خائِب و خاسِر نہ کرتا۔([11])
خاتِمہ بِالخیر ہو میرا مدینے میں اگر
بال بال اُٹّھے پکار اپنا، خدایا شکریہ      (وسائلِ بخشش )

اَورادِ عطّاریہ کی مدنی  بہار

سُوال:ایک اسلامی بھائی نے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں عرض کی:میرے گھر میں اُمّیدسے ہیں مگر بچہ ٹیڑھا ہے  ڈاکٹر آپریشن کا کہہ رہے ہیں ، تکلیف بَہُت ہو رہی ہے، دُعا فرما دیجیے۔
جواب:(شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّآسانی فرمائے۔ گھر والوں سے کہیں کہ سُـوْرَۂ اِنْـشِـقَـاق کی اِبتدائی پانچ آیات تین بار،اوّل و


آخِرتین مرتبہ دُرُود شریف پڑھیں ہر بار شروع میں”بِـسْـمِ الـلّٰـہِ الـرَّحْـمٰـنِ الـرَّحِـیْـم“پڑھیں اور پڑھ کر پانی پر دَم کر کے  پی لیں۔ روزانہ یہ عمل کرتی رہیں اور وقتاً فوقتاً ان آیات کا وِرْد بھی کرتی رہیں۔آپ بھی پانی دَم کر کے انہیں دے سکتے ہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بچہ سیدھا ہو جائے گا۔ دَرْدِ زِہ کے لیے بھی یہ عمل مُفید ہے۔([12]کچھ دِنوں کے بعد  ان  اسلامی بھائی نے بتایا کہ ایک ہی دن اس طرح دَم کیا ہوا پانی پلانے سےاَلْحَمْدُ  لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّآرام ہو گیا،بچّہ بھی سیدھا ہو گیا اور اب آپریشن کا خطرہ بھی ٹل چکا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تبلیغِ قرآن و سنَّت کی  عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نے مسلمانوں کی اِصلاح اور خیرخواہی کے جذبے کے تحت جہاں  بےشمار مجالس قائم کی ہیں وہاں  دُکھیارے  اورغم کے مارے اسلامی بھائیوں کے لیے ایک مجلس بنام”مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ“بھی بنائی ہے جس کے تحت دُکھیارے مسلمانوں کاتعویذات کے ذَریعے فِیْ سَبِیْلِ اللہ عِلاج کیا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں مسلمان اس سے مستفیض ہوتے ہیں۔ تعویذات کے طلبگار اسلامی بھائیوں کو چاہیے  کہ وہ اپنے شہر میں ہونے والے سنَّتوں بھرے اِجتماع میں شرکت فرمائیں اور


تعویذاتِ عطاریہ کے بستے (اَسٹال)سے تعو یذات بھی حاصل کریں ۔

سر یا چہرے پر تھپڑ مارنا کیسا؟

سُوال:ضَرورتاً کسی کو سر یا چہرے پر تھپڑ وغیرہ   مارنا کیساہے؟
جواب:سَر یا چہرے پر تھپڑ وغیرہ مارنے کی کسی کو بھی شرعاً اِجازت نہیں۔جن جن کو بغرضِ اِصلاح دوسروں کو مارنے کی اجازت ہے تو وہ بھی سر یا چہرے پر اور ضربِ شدید کے ساتھ نہیں مار سکتے۔انسان تو انسان جانور کے سر اور چہرے پر مارنے کی بھی ممانعت ہے چنانچہ رَدُّالمحتار میں  ہے:بِلاوجہ جانور کو  نہ مارے اور سر یا چہرہ پر کسی حالت میں ہرگز نہ مارے کہ یہ بِالاجماع (یعنی بالاتفاق)  ناجائز ہے۔ جانور پر ظلم کرنا ذِمّی کافر([13])پر ظلم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیونکہ جانور کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی مددگار نہیں اس غریب جانور کو اس ظلم سے کون بچائے۔([14])اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ظلم وستم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم([15])
ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسِطے اُٹّھیں
بچانا ظلم و ستم سے مجھے سَدا یاربّ
رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دَم
کریں نہ رُخ مرے پاؤں گناہ کا یاربّ              (وسائلِ بخشش)

وَلدیت تبد یل کرنے کا حکم

سُوال:جو جان بُوجھ کر اپنے آپ کو اپنے والِد کے بجائے کسی اور کا بیٹا بتائے، اُس کے لیے  شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کواپنا باپ بتانا یا اپنے خاندان و نَسَب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان سے اپنا نَسَب جوڑنا  ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے چنانچہ نبیوں کے سلطان ،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ فُلاں شخص میرا حقیقی باپ نہیں ہے پھر بھی اس کی طرف اپنی نسبت کی تو اس پر جنَّت حرام ہے۔([16])ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا:جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعویٰ کرے یا کسی غیر والی (یعنی اپنے آقا کے علاوہ کسی اور) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے


 قیامت کے دن فرائض اور نوافل قبول نہیں فرمائے گا۔([17])

شادی کارڈ میں قصداً کسی اور  کا نام بطورِ باپ لکھناکیسا؟

سُوال:ماں کو طَلاق دے دینے والے باپ کے بجائے شادی کارڈ وغیرہ میں کسی اور کا نام بطورِ باپ لکھ  سکتے ہیں؟
جواب:نسب کا دار ومدار وَلدیت پر ہوتا ہے اس لیے ہر جگہ حقیقی باپ ہی  کا نام لکھا اور بولا جائے۔اپنے باپ کے عِلاوہ کسی دوسرے کی طرف بیٹا ہونے کی نسبت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے لہٰذا شادی کارڈ ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ ہر جگہ حقیقی باپ ہی کا نام لکھا اور بولا جائے۔ یاد رکھیے! ماں کو طَلاق دینے والے ”باپ “سے اولاد کا رِشتہ ختم نہیں ہو جاتا، بطورِ باپ اب بھی اُس کی خدمت  کرنی ہو گی اگرچہ  ماں ناراض ہوتی ہو، اگر ماں کے کہنے میں آ کر کسی نے  باپ کی حق تلفی کی  تو وہ  سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔اگر کسی سے ایسی غلطی ہوئی ہو تو اُسے چاہیے کہ توبہ کرے اور باپ اگر زندہ ہو تو اس سے معافی بھی مانگے،اگر باپ کا اِنتقال ہو گیا ہو تو پھر کثرت سے اس کے لیے  اِستِغفار اور مَغْفِرت کی دُعا کرے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کا خدمتگار اور فرمانبردار بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم([18])
مطیع اپنے ماں باپ کا کر میں انکا              
ہر اِک حکم لاؤں بجا یاالٰہی                    (وسائلِ بخشش)

لے پالک بچے کی وَلدیت تبدیل کرنا  کیسا؟

سُوال:لے پالک بچے یا بچی کے نام کے ساتھ پرورش کرنے والے کا اپنا نام بطورِ وَلدیت بولنا یا لکھنا کیسا ہے؟
جواب: لے پالک بچہ یا بچی لے کر اس کے حقیقی باپ کی جگہ پرورش کرنے والے کا اپنے آپ کو اس کا  حقیقی باپ ظاہر کرنا ، لکھنا اور لکھوانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔پرورش کرنے اور منہ بولا بیٹا یا بیٹی  کہہ دینے سے وہ حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں بن جاتے قرآنِ کریم میں اس کی ممانعت آئی ہے چنانچہ پارہ 21 سورۃُ الاحزاب کی آیت نمبر 4 اور 5 میں اِرشاد ہوتا ہے:
وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ(۴)اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-
ترجمۂ کنزالایمان:اور نہ تمہارے لیے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منھ کا کہنا ہے اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہاللہ  کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔
یاد رکھیے! مُنہ بولے بھائی بہن،منہ بولے ماں بیٹے اورمنہ بولے باپ بیٹی میں بھی پردہ ہے حتّٰی کہ لے پالک بچہ جب مرد و عورت کے مُعامَلات سمجھنے لگے تو


 اس سے بھی پردہ ہے اَلبتہ دودھ کے رِشتوں میں پردہ نہیں مثلاً رَضاعی ماں بیٹے اور رَضاعی بھائی بہن میں پردہ نہیں لہٰذا لے پالک بچّے کوہجری سن کے مطابق دو سال کی عمر کے اندر اندر عورت اپنا یا اپنی سگی بہن یاسگی بیٹی یا سگی بھانجی کا کم از کم ایک بار دودھ اس طرح پلا دے کہ اس بچّے کے حَلْق سے نیچے اُتر جائے۔ اگر بچی گود لینا ہو تو شوہر سے رضاعت کا رِشتہ قائم کرنے کے لیے شوہر کی بہن یا بھانجی یا بھتیجی کا دودھ اسے پلا دیا جائے ۔ اس طرح اب جن جن سے دودھ کا رِشتہ قائم ہوا اُن سے پردہ واجِب نہ رہا۔اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: بحالتِ جوانی یا اِحتمالِ فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب ہے کیونکہ عوام کے خیال میں اس (دودھ کے رشتے) کی ہیبت بہت کم ہوتی ہے۔([19])یہ یاد رہے کہ ہجری سِن کے حساب سے دو برس کے بعد بچّہ یابچّی کو اگرچہ عورت کا دودھ پلانا حرام ہے۔ مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلائے گی تو رضاعت (یعنی دودھ کی رِشتہ داری) ثابت ہو جائے گی۔





No Comment to " Owais Raza Qadri Naats 2nd New Mehfil e Naat 14 April 2019 Lahore "