News Ticker

Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil Zikr e Hijaaz 12 April 2019 at Satiyana Road, Faisalabad

By Sadqe Ya Rasool Allah - Saturday, 13 April 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil Zikr e Hijaaz 12 April 2019 at Satiyana Road, Faisalabad


Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil Zikr e Hijaaz 12 April 2019 at Satiyana Road, Faisalabad





انبیائے کِرَام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت و       تبلیغ

حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمائے صدیاں بِیت چکی تھیں، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے جنہوں نے لوگوں کو شِرک وکفر سے باز رہنے کی تلقین کی، خدائے واحِد ویکتا کی عِبادت کی طرف بلایا،انہیں بداعمالیوں کے بُرے انجام سے خبردار کیا اور نیک اعمال کی جزا وثواب سے مُتَعَلِّق بتا کر بہت ساروں کو اعمالِ حسنہ کا پیکر بنایا۔

زمانے کے اُتار چڑھاؤ

اس دوران زمانے نے بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے؛ کبھی حضرت سیِّدنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مسحور کُن اور دلوں کو چُھو لینے والی مُبَارک آواز کے کرِشمات کا نظارہ کیا جسے سُن کر انسان  اور جانور مدہَوش ہو جاتے، چَرند پَرند پناہ گاہوں سے باہر آ جاتے، شِیر خوار (دودھ پیتے) بچے رونا بھول کر ہمہ تن گوش (یعنی پوری طرح مُتَوجِّہ) ہو جاتے اور اس مُبَارک آواز کے سوز وگُداز میں ڈوب کر کئی افراد کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی اور کبھی ان کے مُقَابَلے میں شیطان بھی نظر آیا جس نے سَعَادت مندوں کے اس پاکیزہ و پُرنور اجتماع میں رَخْنَہ(فساد)ڈالنے اور لوگوں کو راہِ ہِدایَت سے گم راہ کرنے کے لئے بانسری وطنبورہ ایجاد کیا اور محفلِ موسیقی جما کر شَرِیر وبدبخت لوگوں کو اپنا پیروکار بنایا؛ پھر حضرت سیِّدنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس عظیم اور بےمثال سلطنت کا منظر بھی نظر آیا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی

سَطْوَت وہیبت سے جِنَّات بھی تھرتھرا اُٹھتے تھے، چَرند پَرند حیوانات اور جمادات تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تاِبع فرمان تھے؛ اس کے عِلاوہ بہت ساری قوموں کے عُرُوج وزوال کی داستانیں بھی محفوظ کیں ...اور... اب حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عہدِ مُبَارک ہے۔ اسی دَور کی بات ہے.....

تذکرۂ ولادت و پروَرِش

خاندانِ بنُو ماثان بنی اِسرائیل کے سرداروں، بادشاہوں اور عُلَما کا خاندان تھا۔([3]) حضرت سیِّدنا عِمران بن ماثان رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ اسی عالی رُتبہ خاندان کے چشم وچراغ تھے، بہت مُتَّقی و پرہیزگار اور صالِح مرد تھے، بنی اسرائیل کے سرداروں میں آپ کا شُمار ہوتا تھا۔ حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہم زُلْف بھی تھے یعنی ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ محترمہ کی بہن تھیں۔ باوجود یہ کہ ان کی شادی کو عرصۂ دراز ہو چکا تھا، ابھی تک اولاد کی نعمت سے بہره وَر نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ہر شادی شدہ جوڑے کی طرح ان کے دل بھی اولاد کے لئے بےچین تھے اور آنکھیں بڑی بےقراری سے ان پُرمَسَرَّت گھڑیوں کے انتظار میں تھیں جب ان کے سامنے ان کے ہنستے مسکراتے بچے کھیل رہے ہوں مگر ابھی تک قسمت نے یاوَری نہیں کی اور ان کا یہ شجرِ امید بار آور نہ ہو سکا لیکن چونکہ یہ صالحین کا خاندان تھا اس لئے کبھی زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا میں راضی رہے۔ وقت گزرتا رہا اور اب یہ عمر کے اس حصے کو پہنچ چکے تھے جس میں عام طور پر اولاد ہونے کی امید ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ ناامید نہیں تھے، ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکی

 قدرت ورحمت پر اِنہیں پورا بھروسا اور كامِل يقين تھا، ان پر یہ حقیقت آشکار تھی کہ اولاد کا جلد یا بہ دیر ہونا یا سِرے سے عطا ہی نہ ہونا سب خالقِ کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کی مشیت واِرادے پر مَوْقُوف ہے جس میں اس کی لاتعداد حکمتیں پنہاں ہیں، وہ خالقِ بےنیاز عَزَّ وَجَلَّ جب چاہے، جسے چاہے جس چیز سے چاہے نواز دےاور جب، جس سے جو چیز چاہے روک لے۔ اسے اپنی قدرت کے اِظہار کے لئے کسی سبب اور عِلَّت کی حاجت نہیں، یقیناً وہ پاک ذات اس پربھی قادِر ہے کہ ہمیں اس پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کی نعمت سے بہرہ وَر فرمائے اور ہماری خالی جھولی بھر دے... بہرحال دن گزرتے رہے پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کی زوجہ محترمہ جن کا نام حَنَّہ تھا، کے دل میں اولاد کی مَحبَّت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور زیادہ مَوْج زَن ہو گیا، طبیعت میں اِضطراب برپا ہوا، اَرمان مچلنے لگے، آتَشِ شوق کچھ اور بھڑک اُٹھی اور یہ بڑی ہی عاجزی واِنکساری کے ساتھ بارگاہِ ربِّ باری میں ملتجی ہوئیں، دُعا کی اور اولاد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرنے کی نَذر مان لی...دلِ بےقرار سے نکلی ہوئی یہ بےتاب آرزو بارگاہِ ربِّ ذُوْالجلال میں شَرَفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی اور آثارِ حمل ظاہِر ہو گئے۔

امید بارآور ہونا

ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن یہ کسی دَرَخْت کے سائے تَلے بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک پَرندے پر نظر پڑی جو اپنے بچوں کو دانہ کھِلا رہا تھا۔ اس سے آپ کے دل میں اولاد کا شوق مَوْج زَن ہوا اور دُعا کی کہ ”اَللّٰھُمَّ لَکَ عَلَیَّ اِنْ رَزَقْتَنِیْ وَلَدًا اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہٖ عَلٰی بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَیَکُوْنُ مِنْ سَدَنَتِہٖ وَخِدَمِہٖ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیرے لیے نَذْر مانتی ہوں کہ اگر تُو

نے مجھے اولاد کی نعمت سے نوازا تَو میں اُسے بیت المقدس کے لیے وَقْف کر دوں گی تاکہ وہ اس کے مُجَاوِروں اور خادِموں میں سے ہو۔پھر کچھ دنوں بعد حامِلہ ہو گئیں۔([4]) پِیرانہ سالی (Old age) میں اولاد کے آثار نمودار ہوتے دیکھ کر انہیں بڑی مَسَرَّت ہوئی، سمجھیں کہ میرے پیٹ میں لڑکا ہے اورسابقہ نَذر کی تجدِید کرتے ہوئے پھر سے وہی نذر مان لی کہ میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وَقْف کرتی ہوں۔ ([5])  قرآنِ کریم ان کی اس نذر کو یوں بیان فرماتا ہے:
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)(پ٣، آلِ عمران:٣٥)
 ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عَرْض کی اے ربّ میرے میں تیرے لئے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تَو تُو مجھ سے قبول کر لے بےشک تُو ہی ہے سنتا جانتا۔

نوٹ

واضح رہے کہ اس زمانہ میں یہ رَواج تھا کہ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکے وَقف کئے جاتے تھے کہ وہ بُلُوغ (بالغ ہونے) تک وہاں کی خدمت کرتے، بالغ ہو کر انہیں اِختیار ملتا کہ خواہ اسی کام میں مَشغُول رہیں یا دُنْیَوی کاروبار کریں لیکن اگر وہ یہاں قیام اِختیار کر لیتے تو پھر انہیں دُنْیَوی کاروبار کا اِختیار نہ رہتا تھا۔ یہ بچے اپنے ماں باپ کی خدمت گھر کے کام کاج سے بالکل دُور رکھے جاتے تھے چونکہ بنی اسرائیل میں نہ مالِ غنیمت آتا تھا نہ قیدی، اس لئے اس وَقْف کا رَواج تھا، کوئی نبی ایسا نہ گزرا جس کی نسل میں بیت المقدس کی خدمت

کے لئے مُحَرَّر (وَقْف)نہ ہوئے ہوں۔([6]) نیز صرف لڑکوں کو ہی وَقْف کیا جاتا تھا کیونکہ لڑکیاں عورتوں والے مسائل اور زنانہ کمزوریوں اور مَردوں کے ساتھ نہ رِہ سکنے کی وجہ سے اس خدمت کے قابِل نہ سمجھی جاتی تھیں۔([7]) یہی وجہ ہے کہ نذر ماننے کے بعد جب حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا نے اپنے شوہر حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کو اس بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے: ”افسوس! یہ تم نے کیا کیا، سوچو تو سہی! اگر تمہارے پیٹ میں بجائے لڑکے کے لڑکی ہوئی تَو لڑکی تو اس کام کی صلاحیت نہیں رکھتی (پھر تمہاری نَذْر کیسے پوری ہو گی؟)“ اس سے ان دونوں صاحِبوں کو شدید فِکْر لاحِق ہو گئی، پھر حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کے وضعِ حمل سے پہلے ہی حضرت عِمران رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ کا انتقال ہو گیا۔([8]) یہ حضرت حَنَّہرَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے لیے بہت بڑی آزمایش تھی جس میں یہ صبر واِستقامت کے سہارے پوری اتریں۔

بیٹی کی پیدايش

شب وروز گزرتے رہے پھر ایک دن وہ پُرمَسَرَّت گھڑی بھی آ پہنچی جب حضرت حَنَّہ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَاکے ہاں بیٹی کی وِلادت ہوئی، یہ ان کے لیے بڑی خوشی کا موقع تھا مگر چونکہ بیٹے کی امید پر یہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وَقْف کرنے کی نذر مان چکی تھیں اور اب خِلَافِ امید لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کے باعِث نذر پوری ہونا بہ ظاہِر ناممکن ہو گیا تھا لہٰذا ایک نعمت وعِبادت سے مَحْرُومی پر اِنہیں افسوس ہوا، پارہ تین۳، سورۂ آلِ عمران، آیت

 نمبر 36 میں ہے:
 قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ- (پ٣، آلِ عمران:٣٦)
ترجمۂ کنزالایمان: بولی اے ربّ میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی۔
مفسر شہیر، حکیم الامت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (حضرت حَنَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا اپنے) اس (کلام) سے مقصود ربّ کو خبر دینا نہیں بلکہ فقط اِظْہَارِ غم ہے کہ نَذْر کا پورا ہونا بظاہر ناممکن ہو گیا، آپ کا یہ غم بےصبری یاناشکری کا نہ تھا بلکہ ایک نعمت یا ایک عِبادت سے محرومی کا تھا کہ بیٹا ہوتا تو خدمتِ بیت المقدس کرتا مجھے دائمی ثواب پہنچتا، لڑکی نہ یہ کام کر سکے گی نہ مجھے اجر ملے گا۔ بےصبری کا غم برا ہے محرومی کا غم وحسرت عبادت۔ ایک فقیر اپنے مالدار نہ ہونے پر اس لئے غم کرتا ہے کہ اگر میں مالدار ہوتا تو دوسروں کی طرح میں سینما دیکھتا، شراب پیتا تو یہ مُجْرِم ہے اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میں مالدار ہوتا تو کوٹھیاں، موٹر تیار کرتا نہ مُجْرِم ہے نہ ثواب کا مستحق۔ اگر اس لئے غم کرتا ہے کہ میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں بھی زکوٰۃ دیتا، حج کرتا وغیرہ یہ غم عِبادت ہے اور یہ فقیر ان عبادات کا ثواب پائے گا۔ آپ کا یہ غم اس تیسری قسم کا تھا یعنی عَرْض کیا کہ مولیٰ! یہ کیا ہوا میں نے تو لڑکی جنی...اب اپنی نذر کیسے پوری کروں...!! 




No Comment to " Owais Raza Qadri Naats Latest Mehfil Zikr e Hijaaz 12 April 2019 at Satiyana Road, Faisalabad "