News Ticker

Owais Raza Qadri Naats New 1st Mehfil e Naat 31 March 2019 حا ضر و نا ظر پر ا عتراضات کے جوابات

By Sadqe Ya Rasool Allah - Saturday, 13 April 2019 No Comments

Owais Raza Qadri Naats New 1st Mehfil e Naat 31 March 2019







حا ضر و نا ظر پر ا عتراضات کے جوابات

اعتراض نمبر١: اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاضر و ناظر ہیں تو آپ اُن کی موجودگی میں مصلے پر کھڑے ہو کر نماز کیوں پڑھاتے ہیں؟
اعتراض نمبر٢: اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاضر و ناظر ہیں تو آپ
 نے ہجرت کیوں فرمائی؟
اعتراض نمبر٣: اگر آپ حاضر و ناظر ہیں تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کی باری کیوں مقرر فرمائی؟
اعتراض نمبر٤: اگر آپ ہر جگہ حاضر و ناظر تھے تو قرآن پاک کی کچھ سورتیں مکی اور کچھ مدنی کیوں ہیں؟
اعتراض نمبر٥: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں تو معراج کیوں کرائی گئی؟
اعتراض نمبر٦: ایک آدمی کہتا ہے کہ ''دم بدم پڑھو درود حضرت بھی ہیں یہاں موجود'' اور دوسرا کہتا ہے ''جان کنی کے وقت آنا چہرہ انور دکھانا'' ان دونوں میں کون سچا ہے؟
اعتراض نمبر٧: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اگر حاضر وناظر ہیں تو آپ نظر کیوں نہیں آتے؟
جواب نمبر١: حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی ظاہری موجودگی میں حکم فرمایا کہ ابوبکر صدیق سے کہو کہ وہ میرے مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں ۔ (بخاری شریف جلد١، ص ٩٨)
جواب نمبر٢،٣،٤: حضور نبی اکرم' نور مجسم ' شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دو حالتیں ہیں۔ ایک روحانی اور ایک جسمانی ۔ ہجرت فرمانا ' ازواج مطہرات کی باری مقرر فرمانا اور قرآنی سورتوں کا مکی مدنی ہونا یہ جسمانی طور پر ہے ۔ ورنہ روحانی طور پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت' رسالت' رحمت' علم اور فیضان ہر جگہ موجود حاضر وناظر ہے۔
جواب نمبر٥: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی کریم' نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نورانیت و روحانیت کے اعتبار سے ہر جگہ حاضر وناظر ہیں۔ آپ ایک وقت میں بے شمار جگہ پر بمعہ جسم بھی حاضر وناظر ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنی نورانیت و روحانیت سے ہر دور و نزدیک شہ کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان و شوکت کو اور زیادہ بلند فرمانے کیلئے آپ کو جسمانی طور پر معراج کرائی۔ واقعہ معراج پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا عظیم الشان معجزہ ہے-
جواب نمبر٦: جو یہ کہتا ہے کہ ''حضرت بھی ہیں یہاں موجود'' اُس کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نورانیت و روحانیت ' نبوت' رسالت' رحمت ' نور علم اور فیضان ہر جگہ موجود ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر دم بدم درود شریف پڑھو۔دوسرا جو یہ کہتا ہے کہ ''یا رسول اللہ جان کنی کے وقت آنا'' اس کا یہ ایمان ہے کہ آپ کی نورانیت و روحانیت ' نبوت و رسالت موجود ہے لیکن یارسول اللہ کرم فرمانا کہ جب میرا آخری وقت ہو تو آپ مجھے بمعہ جسم کے دیدار نصیب فرمانا۔
جواب نمبر٧: ضروری نہیں کہ جو چیز حاضر و ناظر ہو وہ نظر بھی آئے۔ غور کریں کہ ہوا ہر جگہ ہے لیکن نظر نہیں آتی۔ انسانی جسم میں روح ہوتی ہے لیکن نظر نہیں آتی ۔ خود ان بدمذہبوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا؟ دنیا اوردنیاوی زندگی عالم اسباب ہے اس کیلئے جو احکام جاری کئے گئے ہیں اُن کی پیروی لازم ہے۔ انہیں روحانی امور پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک ہماری نظر کام کرے وہاں تک ہم ناظر ہیں اور جس جگہ تک ہماری دسترس ہو کہ تصرف کر لیں وہاں تک حاضر ہیں۔ آسمان تک نظر کام کرتی ہے وہاں تک ہم ناظر، یعنی دیکھنے والے ہیں مگر وہاں ہم حاضر نہیں۔ کیونکہ وہاں دسترس نہیں۔ اور جس حجرے یا گھر میں ہم موجود ہیں وہاں حاضر ہیں کہ اس جگہ ہماری پہنچ ہے۔ عالم میں حاضر و ناظر کے شرعی معنی یہ ہیں کہ قوت قدسیہ والا ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالم کو اپنے کف دست کی طرح دیکھے اور دور و قریب کی آوازیں سنے یا ایک آن میں تمام عالم کی سیر کرے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے۔ یہ رفتار خواہ صرف روحانی ہو یا جسم مثالی کے ساتھ ہو یا اسی جسم سے ہو تو قبر میں مدفون یا کسی جگہ موجود ہے ان سب معنی کا ثبوت بزرگان دین کے لئے قرآن و حدیث و اقوال علماء سے ہے۔
حاضر و ناظر کی تین صورتیں ہیں ایک جگہ رہ کر سارے عالم کو دیکھنا۔ آن کی آن میں سارے عالم کی سیر کر لینا۔ ایک وقت میں چند جگہ ہونا۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ آپ بایں جسم پاک وہاں موجود نہ تھے ان میں یہ کہاں ہے کہ آپ ان واقعات کو ملاحظہ بھی نہیں فرما رہے تھے اس جسد عصری سے وہاں نہ ہونا اور ہے اور ان واقعات کو مشاہدہ فرمانا کچھ اور بلکہ جناب کی پیشکردہ آیات کا مطلب ہی یہ ہے کہ اے محبوب علیہ السلام آپ وہاں بہ ایں جسم موجود نہ تھے لیکن پھر بھی آپ کو ان واقعات کا علم اور مشاہدہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ سچے نبی ہیں یہ آیات تو حضورﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثبوت کر رہی ہیں-
اور اگر اب بھی کوئی باضد ہے تو پھر ان آیات کا جواب دیں۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۔(سورۃ الفجر آیت 6)۔
کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے ربّ نے عاد کے ساتھ کیسا کیا۔
وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُواْ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ۔ (سورۃ الفجر آیت 9)۔
اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں۔
وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلأَوْتَادِ۔(سورۃ الفجر آیت 10)۔
اور فرعون جو میخا کرتا۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ ٱلْفِيلِ(سورۃ الفیل آیت 1)۔
کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کا کیا حال کیا۔
اور یہ بھی بھولیئے کہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ "کیا تم نے نہیں پڑھا" یا "کیا تمہیں نہیں بتایا گیا"۔ بلکہ اللہ عزوجل یہی فرماتا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا-
تفسیرِ صاوی میں سورۃ القصص کی آیت کے ماتحت ہے کہ؛
وھذا بالنظر الی العالم الجسمانی لا قامۃ الحجۃ علی الخصم واما بالنظر الی العالم الروحانی فھو حاضر رسالۃ کل رسول وما وقع من لدن ادم الی ان ظھر، بجسمہ الشریف
یعنی یہ فرمانا کہ موسٰی علیہ السلام کے اس واقعہ کی جگہ نہ تھے جسمانی لحاظ سے ہے عالم روحانی کی حیثیت سے حضور علیہ السلام پر رسول کی رسالت اور آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسمانی ظہور تک کے تمام واقعات پر حاضر ہیں۔
نیز ہجرت کے دن غار ثور میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو لئے ہوئے جلوہ گر ہیں کہ کفّار مکہ دروازہ غار پر آ پہنچے حضرت صدیق پریشان ہوئے تو حضور نے فرمایا۔
لا تحزن ان اللہ معنا۔ (سورۃ التوبہ آیت 40)۔
غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ تو ہے مگر کفّار کے ساتھ نہیں لٰہذا نعوذبااللہ خدا ہر جگہ نہیں، کیونکہ کفّار بھی تو عالم ہی میں تھے۔ تو جس طرح اس کلام میں توجیہہ ہوگی کہ اس کلام سے مراد ہے کہ اللہ رحم و کرم سے ہمارے ساتھ ہے اور جبر و قہر سے کفار کے ساتھ اسی طرح ان آیات میں بھی کہا جائے گا کہ بطریق ظاہریہ جسدِ عنصری آپ اس وقت ان کے پاس نہ تھے-
يٰأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً۔ (سورۃ الاحزاب آیت 46)۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔
یہاں ترجمہ میں حاضر و ناظر پر اعتراض کیا جاتا ہے تو لفظ شاہد شہود سے مشتق ہے اور شہود حضور ہے۔ شاہد مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ رویت سے۔ تو بیشک شاہد ہیں، بیشک حاضر ہیں، بیشک ناظر ہیں۔ دعائے میت میں جو لفظ "شاھدنا" آتا ہے وہ اسی شہود سے مشتق ہے جس کے معنی حاضر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد پھر "غائبنا" کہا جاتا ہے۔ یا یہ شہادت سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گواہی دینا اس مادہ سے شاہد کے معنی گواہی دینے والا ہوا۔ بہرحال مراد شاہد، حاضر و ناظر اور گواہ تین معنوں کے درمیان ہی ہوئی اور ہر معنی سے نبی اکرمﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ لینے کی صورت میں بھی ہمارا مقصود حاصل ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں دیکھی ہوئی چیزوں ہی کی گواہی مقبول ہے، ان دیکھی کی مردود-
وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً (سورۃ البقرۃ آیت 143)۔
اور یہ رسول تمھارے نگہبان و گواہ۔
تفسیر روح البیان میں اس آیت کے تحت ہے؛
ومعنی شھادۃ الرسول علیھم الملاعۃ علی رتبۃ کل متدین بدینۃ وحقیقۃ التی ھو علیھا من دینہ وحجابہ الذی ھو بہ محجوب عن کمال دینہ فھو یعرف ذنوبھم وحقیقۃ ایمالھم واعمالھم وحسناتھم وسیاتھم واخلاصھم ونفاقھم وغیر ذلک بنورالحق۔
یعنی مسلمانوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے یہ معنی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر دین دار کے دین کے مرتبوں پر اور اپنے دین میں سے جس حقیقت پر وہ ہے اس پر اور وہ حجاب جس کے سبب دین کے کمال سے محجوب ہو گیا ہے سب پر مطلع اور خبردار ہیں تو وہ امت کے گناہوں، ان کے ایمان کی حقیقتوں، ان کے اعمال، ان کی نیکیوں، برائیوں اور ان کے اخلاص و نفاق سب کو نور حق کے ذریعہ جانتے پہچانتے ہیں۔
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلاۤءِ شَهِيداً۔(سورۃ النسا آیت 41)۔
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تم کو ان سب پر گواہ و نگہبان بناکر لائیں۔
وَمَآ أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔(سورۃ الانبیا آیت 107)۔
اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔
اس آیت میں اللہ عزوجل نے تمام منکرین کا ردّ فرما دیا کہ منکرین بھی اللہ عزوجل کو رب العالمین تو مانتے ہیں۔ اور اس آیت میں رب العالمین اپنے محبوب ﷺ کو رحمۃ للعلمین قرار دے رہا ہے۔ یعنی جہاں جہاں ربّ کی ربّوبیت ہے وہاں وہاں مصطفیٰﷺ کی رحمت بھی ہے۔ تمام عالمین کے لئے رحمت ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے گذرے ہوئے اور آنے والے تمام زمانوں میں کل عالمین میں رسول اللہﷺ کی رحمت موجود رہی اور رہے گی-
وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ۔(سورۃ الانعام آیت 61)۔
اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
روح البیان میں آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ؛
قال مجاهد قد جعلت الارض لملك الموت كالطشت يتناول من حيث يشاء
یعنی ملک الموت کے لئے ساری زمین طشت کی طرح کر دی گئی ہے کہ جہاں سے چاہیں لے لیں۔
لیس علی ملک الموت صعوبۃ قبض الارواح وان کثرت وکانت فی امکنۃ متعددۃ
ملک الموت پر روحیں قبض کرنے میں کوئی دشواری نہیں اگرچہ روحیں زیادہ ہوں اور مختلف جگہ میں ہوں۔
یہ تو سبھی کو تسلیم ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہی آن میں کئیں اموات ہوتی ہیں اور ہر اس روح کو قبض کرنے ملک الموت موجود ہوتے ہیں۔ تو جب ملک الموت کے لئے ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر حاضر ہونا قبول ہے تو پھر رسول اللہﷺ کہ جن کا علم تمام مخلوقات سے برتر، تو پھر آپﷺ کے لئے یہ کمال ماننے میں کیا چیز مانع ہے
امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں زیارۃ قبرہ الشریف میں فرماتے ہیں؛
وقد قال علماء نالا فرق بین موتہ وحیوتہ علیہ السلام فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیاتھم وعزائمھم و خواطرھم وذالک جلی عندہ لا خفاء بہ
ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں یہ آپ کو بالکل ظاہر ہے۔ اس میں پوشیدگی نہیں-
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری فرماتے ہیں۔
وقال الغزالی سلم علیہ اذا دخلت فے المسجد فانہ علیہ السلام یحضر فی المسجد
امام غزالی نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں جاؤ تم حضور علیہ السلام کو سلام عرض کرو کیونکہ آپ مسجدوں میں موجود ہیں۔
احیاء العلوم جلد اول باب چہارم فصل سوم نماز کی باطنی شرطوں میں امام غزالی فرماتے ہیں۔
واحضرنی قلبک النبی علیہ السلام وشخصہ الکریم وقل السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اور اپنے دل میں نبی علیہ السلام کو اور آپ کی ذات پاک کو حاضر جانو اور کہو السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اب کچھ احادیث اور اقوالِ ائمہ ملاحظہ کیجیئے۔
مشکوٰۃ باب المعجزات میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔
نعی النبی علیہ السلام زیدا جعفر وابن رواحۃ للناس قبل ان یاتیھم خبرھم فقال اخذا الرایۃ زید فاصیب الی حتٰی اخذا الرایۃ سیوف اللہ یعنی خالد ابن الولید حتٰی فتح اللہ علیھم
حضور علیہ السلام نے زید اور جعفر اور ابن رواحہ کو ان کی خبر موت آنے سے پہلے لوگوں کو خبر موت دے دی۔ فرمایا کہ اب جھنڈا زید نے لے لیا اور وہ شہید ہو گئے۔ یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی تلوار خالد ابن ولید نے لیا تا آنکہ اللہ نے ان کو فتح دے دی۔
مشکوٰۃ جلد دوم باب الکرامات کے بعد باب وفاۃ النبی علیہ السلام میں ہے۔
وان موعدکم الحوض وانی لا نظر الیہ وانا فی مقامی
تمہاری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔ میں اس کو اسی جگہ سے دیکھ رہا ہوں۔
مشکوٰۃ باب تسویۃً الصف میں ہے۔
اقیموا صفوفکم فانی ارکم من ورانی
اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ ہم تم کو اپنے پیچھے بھی دیکھتے ہیں
امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں زیارۃ قبرہ الشریف میں فرماتے ہیں؛
وقد قال علماء نالا فرق بین موتہ وحیوتہ علیہ السلام فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیاتھم وعزائمھم و خواطرھم وذالک جلی عندہ لا خفاء بہ
ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں یہ آپ کو بالکل ظاہر ہے۔ اس میں پوشیدگی نہیں
شیخ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمۃ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں
حضور علیہ السلام کو یاد کرو اور درود بھیجو اور حالت ذکر میں ایسے رہو کہ حضور حالتِ حیات میں تمہارے سامنے ہوں اور تم ان کو دیکھتے ہو ادب اور جلال اور تعظیم اور ہیبت و حیاء سے رہو اور جانو کہ حضور علیہ السلام دیکھتے اور سنتے ہیں تمہارے کلام کو کیونکہ حضور علیہ السلام صفات الٰہی سے موصوف ہیں اور اللہ کی ایک صفت یہ ہے کہ میں اپنے ذاکر کا ہم نشین ہوں
یہی شیخ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمۃ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں
اس کے بعد اگر کہیں کہ رب تعالٰی نے حضور کے جسم پاک کو ایسی حالت و قدرت بخشی ہے کہ جس ماکن میں چاہیں تشریف لے جائیں خواہ بعینہ اس جسم سے خواہ جسم مثالی سے خواہ آسمان پر خواہ قبر میں تو درست ہے۔ قبر سے ہر حال میں خاص نسبت رہتی ہے
مثنوی شریف میں حارث ابن نعمان رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک قصے کو مولانا روم اس انداز میں نقل کرتے ہیںمیرے سامنے 8 بہشت اور 7 دوزخ ایسے ظاہر ہیں
جیسے ہندو کے سامنے بت ہیں
ہر ایک مخلوق کو ایسا پہچانتا ہوں
جیسے چکی میں جو اور گیہوں
کہ جنتی کون ہے اور دوزخی کون
میرے سامنے یہ سب مچھلی اور چیونٹی کی طرح ہیں
چپ رہوں یا کچھ اور کہوں
حضور نے ان کا منہ پکڑ لیا کہ بس
جب اس آفتاب کے زرّوں کی نظر کا یہ حال کہ جنت و دوزخ، عرش و فرش، جنتی و دوزخی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو اس آفتابِ عالی مقامﷺ کی نظر کا کیا پوچھنا ہے۔
صاحب عقل کو کافی ہے اشارے کی زباں
ورنہ سو بار دلائل بھی ہے بیکار و عبث




No Comment to " Owais Raza Qadri Naats New 1st Mehfil e Naat 31 March 2019 حا ضر و نا ظر پر ا عتراضات کے جوابات "